بھارت نے شیخ حسینہ کے ورچوئل خطاب کو نجی تقریب قرار دے کر لاتعلقی کا اظہار کر دیا، جس پر طالبان اور بھارتی بیانیے کی مماثؒت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

August 5, 2026

پاکستان مخالف بیانیے کے پیچھے بیرونی فنڈنگ، جنیوا اجلاس سے متعلق مبینہ خطوط اور پراکسی نظام کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

August 5, 2026

بدخشاں میں طالبان مخالف گروہ نے یفتل ضلع کا عارضی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ بڑھتی مزاحمت کے پیش نظر طالبان نے نئے جنگجوؤں کی بھرتی کا فیصلہ کیا ہے۔

August 5, 2026

حوثی گروپ نے بحیرۂ احمر میں سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے جہاز رانی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

August 5, 2026

ایک صوبہ ایسا بھی ہے جہاں آٹھ آٹھ گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے، مگر جب وزیراعلیٰ کے ماتھے پر پسینہ آیا تو تین سرکاری ملازمین کی نوکری چلی گئی۔ خیبر پختونخوا کی حکمرانی کا وہ تضاد جو ریاستِ مدینہ کے دعوؤں کی قلعی کھول دیتا ہے۔

August 5, 2026

افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے بعد طالبان نے بدخشاں اور قندھار سمیت سات صوبوں میں نئے جنگجوؤں کی بھرتی کا عمل تیز کر دیا ہے۔

August 5, 2026

سابق فوجی افسروں کی تنظیم این ایم ایف بھی طالبان حکومت کے خلاف متحرک؛ گوریلا کارروائیوں کا اعلان کر دیا

گزشتہ چند سالوں میں این ایم ایف نے کئی حملے کیے، جن میں کاپیسا، ننگرہار، کوہستان اور شمالی علاقوں میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔2024 میں این ایم ایف نے پاکستان کی سرحد پر ننگرہار کے لالپور ضلع میں ایک بڑا حملہ کیا، جس میں متعدد طالبان اور پاکستانی ٹی ٹی پی ارکان ہلاک ہوئے۔
سابق فوجی افسروں کی تنظیم این ایم ایف بھی طالبان حکومت کے خلاف متحرک؛ گوریلا کارروائیوں کا اعلان کر دیا

طالبان نے اب تک ان مزاحمتی گروپس کو دبانے کی کوششیں کیں، اپنی خفیہ کارروائیوں، گوریلا حکمت عملی اور سابق فوجیوں کی شمولیت سے یہ تحریک مزید خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو افغانستان میں طالبان کی گرفت کمزور پڑ سکتی ہے۔

January 14, 2026

افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خلاف مزاحمتی تحریک ایک نئی رفتار اختیار کر رہی ہے۔ سابق اسلامی جمہوریہ افغانستان کے وفادار فوجی اور انٹیلی جنس افسران پر مشتمل تنظیم نیشنل موبلائزیشن فرنٹ آف افغانستان یا جبهہ بسیج ملی افغانستان طویل عرصے بعد ایک بار پھر منظر عام پر آ گئی ہے۔ یہ گروپ، جو کچھ عرصہ غیر متحرک رہا اور اپنی کارروائیوں کو معطل کیے ہوئے تھا، اب مکمل طور پر منظم ہو چکا ہے۔

حال ہی میں منعقدہ اجلاس میں این ایم ایف کی قیادت کونسل نے نئی تقرریوں کا اعلان کیا ہے، جس سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ تنظیم اب نہ صرف سیاسی اور میڈیا محاذ پر بلکہ انٹیلی جنس، فوجی آپریشنز اور خارجہ تعلقات کے شعبوں میں بھی فعال ہو رہی ہے۔ یہ تقرریاں سابق افغان آرمی، نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے تجربہ کار افسران پر مشتمل ہیں، جو طالبان کے اقتدار کے بعد جلاوطنی، زیر زمین زندگی یا خفیہ طور پر کام کر رہے تھے۔نئی قیادت کی تفصیلات:

جاوید احمد کرگر؛ سیاسی ونگ کا سربراہ

سابق افغان آرمی افسر جاوید احمد کرگر کو این ایم ایف کا سیاسی ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ میڈیا محاذ پر طالبان مخالف مہم چلاتے رہے۔ وہ فی الحال نیدرلینڈز میں مقیم ہیں اور سیاسی طور پر بین الاقوامی سطح پر طالبان کے خلاف آواز اٹھانے کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔

جنرل شمس وفادار؛ ڈپٹی انٹیلی جنس چیف

سابق 205ویں آرمی کور کے کمانڈر جنرل شمس وفادار، جن کا تعلق بلخ سے ہے اور جنہوں نے قندھار اور ہلمند میں اہم ذمہ داریاں نبھائیں، اب این ایم ایف کے انٹیلی جنس شعبے کے نائب سربراہ ہیں۔ وہ کچھ عرصہ امریکہ میں تھے، لیکن اب تاجکستان منتقل ہو چکے ہیں جہاں سے وہ انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مضبوط کر رہے ہیں۔

انجینئر احمد سہیل پرتو: ڈپٹی کمانڈر

سابق این ڈی ایس (جنرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیکیورٹی) کے رکن انجینئر احمد سہیل پرتو کو ڈپٹی کمانڈر کا عہدہ دیا گیا ہے۔ وہ فی الحال ایران میں ہیں اور صحافت کے کور میں فعال ہیں۔ ان کی رپورٹنگ ایران کے احتجاجات پر توجہ مرکوز رکھتی ہے، جو این ایم ایف کے لیے ایک خفیہ آپریشنل فائدہ فراہم کر سکتی ہے۔

انجینئر عبداللہ نواب زادہ: شعبہ خارجہ تعلقات کا سربراہ

سابق حکومت میں امن کے سفیر اور مہاجرین و پناہ گزینوں کی جنرل کونسل کے سربراہ رہ چکے انجینئر عبداللہ نواب زادہ کو خارجہ تعلقات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وہ بھی ایران میں مقیم ہیں اور بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔

ادریس صادق، سابق گیریژن کمانڈر شبقدر کابل ، اب این ایم ایف کے افغانستان میں مرکزی کمانڈر مقرر۔ وہ ملک کے اندر خفیہ طور پر آپریشنز کی قیادت کر رہے ہیں۔

مہدی پنجشیری، سابق این ڈی ایس افسر، کابل کے لیے کمانڈر مقرر۔ وہ تاجکستان میں موجود ہیں اور وہاں سے دہشت گردی کی کارروائیوں کو منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔نیشنل موبلائزیشن فرنٹ آف افغانستان ایک اینٹی طالبان مزاحمتی گروپ ہے جو سابق فوجی اور انٹیلی جنس افسران پر مشتمل ہے۔ اسے سابق فوجی افسر جنرل جاوید دهسبزی نے قائم کیا تھا، جو فرنٹ کے جنرل کمانڈر ہیں۔

گزشتہ چند سالوں میں این ایم ایف نے کئی حملے کیے، جن میں کاپیسا، ننگرہار، کوہستان اور شمالی علاقوں میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔2024 میں این ایم ایف نے پاکستان کی سرحد پر ننگرہار کے لالپور ضلع میں ایک بڑا حملہ کیا، جس میں متعدد طالبان اور پاکستانی ٹی ٹی پی ارکان ہلاک ہوئے۔ جون 2025 میں شکردارہ میں نوجوانوں کے ایک گروپ نے این ایم ایف کے فریم ورک میں شامل ہونے کا اعلان کیا، جسے تنظیم نے سراہا اور انہیں فوجی سامان دینے کا وعدہ کیا۔

طالبان کے لیے بڑھتا خطرہیہ نئی تقرریاں اور تنظیم کی دوبارہ متحرک ہونے کی خبر طالبان حکومت کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ سابق افغان فورسز کے تجربہ کار افسران کی شمولیت سے این ایم ایف اب صرف ایک سیاسی گروپ نہیں بلکہ ایک منظم فوجی اور انٹیلی جنس نیٹ ورک بن چکا ہے۔ تاجکستان، ایران اور یورپ میں موجود ان افسران کی موجودگی سے یہ گروپ بیرونی تعاون حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔

طالبان نے اب تک ان مزاحمتی گروپس کو دبانے کی کوششیں کیں، اپنی خفیہ کارروائیوں، گوریلا حکمت عملی اور سابق فوجیوں کی شمولیت سے یہ تحریک مزید خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو افغانستان میں طالبان کی گرفت کمزور پڑ سکتی ہے۔

دیکھیں: افغانستان انٹرنیشنل کی تحقیقات: طالبان اراکین نے متعدد صوبوں میں غیر قانونی قتل کیے

متعلقہ مضامین

بھارت نے شیخ حسینہ کے ورچوئل خطاب کو نجی تقریب قرار دے کر لاتعلقی کا اظہار کر دیا، جس پر طالبان اور بھارتی بیانیے کی مماثؒت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

August 5, 2026

پاکستان مخالف بیانیے کے پیچھے بیرونی فنڈنگ، جنیوا اجلاس سے متعلق مبینہ خطوط اور پراکسی نظام کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

August 5, 2026

بدخشاں میں طالبان مخالف گروہ نے یفتل ضلع کا عارضی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ بڑھتی مزاحمت کے پیش نظر طالبان نے نئے جنگجوؤں کی بھرتی کا فیصلہ کیا ہے۔

August 5, 2026

حوثی گروپ نے بحیرۂ احمر میں سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے جہاز رانی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

August 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *