بدخشاں کے اضلاع ارگو اور شِکَے میں طالبان مخالف تاجک ملیشیا کی پیش قدمی اور کنٹرول حاصل کرنے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔

May 11, 2026

انہوں نے معرکے کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا: “ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔” وزیراعظم نے واضح کیا کہ بھارت ایک سال گزرنے کے باوجود اپنے الزامات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا اور مہم جوئی کے آغاز کے بعد خود ہی جنگ بندی کی درخواست کرنے پر مجبور ہوا۔

May 10, 2026

ایران نے اپنے جواب میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی پائیدار حل کے لیے جنگ بندی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ایران نے خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی سلامتی اور تحفظ کو بھی اپنے جواب کا کلیدی حصہ بنایا ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔

May 10, 2026

مقامی افراد نے بھی پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ قبائلی عمائدین اور شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں ضروری وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنے علاقوں کے دفاع میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھرپور معاونت کر سکیں۔

May 10, 2026

آئیے آج اپنے رویوں کی اصلاح کا عہد کریں اور یہ تسلیم کریں کہ ہماری پوری زندگی ماں کے ایک آنسو کا بدل بھی نہیں ہو سکتی۔ یہ عہد کریں کہ اپنی ماؤں کے حقوق کی ادائیگی میں کسی کوتاہی سے کام نہیں لیں گے اور انہیں وہ مقامِ بلند دیں گے جس کا حکم ہمیں ہمارے دین اور اقدار نے دیا ہے۔

May 10, 2026

ان تقریبات میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بشمول اساتذہ، طلبہ، تاجروں، وکلا، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکا نے سبز ہلالی پرچم اور پاک فوج کے حق میں بینرز اٹھا رکھے تھے، جبکہ فضا ’پاکستان زندہ باد‘ اور ’افواجِ پاکستان پائندہ باد‘ کے نعروں سے گونجتی رہی۔

May 10, 2026

افغانستان میں پنپتا سنگین انسانی بحران اور طالبان کی غفلت

طالبان کے تین برسوں میں معاشی سرگرمیاں منجمد ہو گئیں، روزگار کے مواقع ختم ہو گئے اور حکمرانی کا شدید خلا پیدا ہو گیا۔ ملک اس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ عوام کے لیے آنے والے دن محض بقا کی جنگ سے زیادہ کچھ نہیں۔ اوچا کے مطابق جس نصف آبادی کو فوری امداد کی ضرورت ہے، وہ دراصل بڑے بحران کی ایک جھلک ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ باقی نصف بھی غربت، غذائی قلت، مہنگائی اور سماجی انتشار کی لپیٹ میں ہے۔
افغانستان میں پنپتا سنگین انسانی بحران اور طالبان کی غفلت

تاریخ گواہ ہے کہ تباہ حال افغانستان صرف افغان عوام کا بحران نہیں رہتا۔ ایسا ملک پورے خطے کے لیے عدم استحکام، مذہبی انتہاپسندی اور سلامتی کے خطرات کا منبع بن جاتا ہے۔

December 3, 2025

افغانستان ایک بار پھر شدید انسانی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی معاونت کی تازہ رپورٹ ایک لرزہ خیز حقیقت سامنے لاتی ہے: تقریباً 21.9 ملین افغان شہری یعنی ملک کی نصف آبادی کو 2026 میں زندہ رہنے کے لیے بین الاقوامی امداد درکار ہوگی۔ یہ اعداد و شمار محض ایک شماریاتی تجزیہ نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کی چیخ ہے جو مکمل انہدام کے قریب ہے۔

طالبان کے تین برسوں میں معاشی سرگرمیاں منجمد ہو گئیں، روزگار کے مواقع ختم ہو گئے اور حکمرانی کا شدید خلا پیدا ہو گیا۔ ملک اس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ عوام کے لیے آنے والے دن محض بقا کی جنگ سے زیادہ کچھ نہیں۔ اوچا کے مطابق جس نصف آبادی کو فوری امداد کی ضرورت ہے، وہ دراصل بڑے بحران کی ایک جھلک ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ باقی نصف بھی غربت، غذائی قلت، مہنگائی اور سماجی انتشار کی لپیٹ میں ہے۔

یہ داخلی بحران اپنی جگہ، مگر اس دوران طالبان حکومت نے اقتدار اور معاشی وسائل تک رسائی رکھنے والے ایک نئے طبقۂ اشرافیہ کو جنم دیا ہے۔ یہ نئی ایلیٹ وقتی طور پر محفوظ سہی، مگر جس ملک کی معیشت بنیادوں سے ہل رہی ہو وہاں دولت اور طاقت صرف عارضی آسرا بن سکتی ہے، مستقبل نہیں۔

سرحد پار دہشتگردی اور پاکستان مخالف عناصر کی پشت پناہی نے پہلے سے بگڑتے حالات کو مزید خوفناک بنا دیا ہے۔ افغان حکومت نے چار دہائیوں پر محیط پاک–افغان تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا، دو طرفہ تجارت کو متاثر کیا اور خطے میں عدمِ استحکام کو فروغ دیا۔ یوں لگتا ہے کہ طالبان حکومت داخلی بحران سے نمٹنے کے بجائے اپنے ہی عوام کے دکھوں میں اضافہ کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ افغانستان کا بحران عالمی توجہ سے تیزی سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ میڈیا میں کبھی کبھار رپورٹنگ ضرور دکھائی دیتی ہے، مگر زمینی حقیقت یہ بتا رہی ہے کہ وقت کم اور خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر عالمی برادری نے 2026 کے امدادی منصوبے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو افغانستان کے معاشی، سماجی اور انتظامی نظام کے مکمل انہدام کا خدشہ ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ تباہ حال افغانستان صرف افغان عوام کا بحران نہیں رہتا۔ ایسا ملک پورے خطے کے لیے عدم استحکام، مذہبی انتہاپسندی اور سلامتی کے خطرات کا منبع بن جاتا ہے۔ سوال یہی ہے کہ کیا دنیا ایک اور خاموش تباہی کو پنپنے دے گی؟ یا اس بار یہ حقیقت تسلیم کرے گی کہ افغانستان کی مدد دراصل علاقائی امن اور انسانی وقار کی حفاظت ہے؟

دیکھیں: افغان سرحد سے فائرنگ، تاجکستان میں مزید 2 چینی شہری ہلاک

متعلقہ مضامین

بدخشاں کے اضلاع ارگو اور شِکَے میں طالبان مخالف تاجک ملیشیا کی پیش قدمی اور کنٹرول حاصل کرنے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔

May 11, 2026

انہوں نے معرکے کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا: “ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔” وزیراعظم نے واضح کیا کہ بھارت ایک سال گزرنے کے باوجود اپنے الزامات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا اور مہم جوئی کے آغاز کے بعد خود ہی جنگ بندی کی درخواست کرنے پر مجبور ہوا۔

May 10, 2026

ایران نے اپنے جواب میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی پائیدار حل کے لیے جنگ بندی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ایران نے خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی سلامتی اور تحفظ کو بھی اپنے جواب کا کلیدی حصہ بنایا ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔

May 10, 2026

مقامی افراد نے بھی پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ قبائلی عمائدین اور شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں ضروری وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنے علاقوں کے دفاع میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھرپور معاونت کر سکیں۔

May 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *