دہشت گردی کے خلاف ریاست کے مضبوط ردعمل کو ‘غلطی’ کہنا حقائق کے برعکس ہے۔ جب سرحد پار ٹھکانوں پر ضرب لگی تو حملے کم ہوئے مگر سوشل میڈیا پر دہشت گردوں کے ہمدردوں کی تکلیف بڑھ گئی

March 18, 2026

وفاقی وزیر خواجہ آصف نے افغان طالبان کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے تین نسلوں تک افغانوں کی میزبانی کی لیکن یہ مہمان نوازی اب تاریخ کی سب سے بڑی غلطی محسوس ہوتی ہے

March 18, 2026

کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سی ٹی ڈی نے بی ایل اے کے خطرناک کمانڈر سہیل بلوچ عرف گُرک کو 3 ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیا، جو ڈی سی پنجگور کے قتل اور 50 سے زائد افراد کے خون میں ملوث تھا

March 18, 2026

صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آیا افغانستان میں طالبان حکومت سے متعلق پروپیگنڈا بے نقاب ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق علیمہ خان نے اس سوال کو نامناسب قرار دیا اور بغیر جواب دیے پریس کانفرنس ختم کر دی

March 18, 2026

یومِ پاکستان کے نظریات سے وابستگی کے ساتھ ساتھ وسیع تر کفایت شعاری پالیسی پر بھی عمل جاری رکھا جائے گا

March 18, 2026

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے مواد کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں اس گانے کی مذمت ہو رہی ہے لیکن متعلقہ افراد کو اس پر شرمندگی محسوس نہیں ہو رہی

March 18, 2026

افغانستان میں پنپتا سنگین انسانی بحران اور طالبان کی غفلت

طالبان کے تین برسوں میں معاشی سرگرمیاں منجمد ہو گئیں، روزگار کے مواقع ختم ہو گئے اور حکمرانی کا شدید خلا پیدا ہو گیا۔ ملک اس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ عوام کے لیے آنے والے دن محض بقا کی جنگ سے زیادہ کچھ نہیں۔ اوچا کے مطابق جس نصف آبادی کو فوری امداد کی ضرورت ہے، وہ دراصل بڑے بحران کی ایک جھلک ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ باقی نصف بھی غربت، غذائی قلت، مہنگائی اور سماجی انتشار کی لپیٹ میں ہے۔
افغانستان میں پنپتا سنگین انسانی بحران اور طالبان کی غفلت

تاریخ گواہ ہے کہ تباہ حال افغانستان صرف افغان عوام کا بحران نہیں رہتا۔ ایسا ملک پورے خطے کے لیے عدم استحکام، مذہبی انتہاپسندی اور سلامتی کے خطرات کا منبع بن جاتا ہے۔

December 3, 2025

افغانستان ایک بار پھر شدید انسانی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی معاونت کی تازہ رپورٹ ایک لرزہ خیز حقیقت سامنے لاتی ہے: تقریباً 21.9 ملین افغان شہری یعنی ملک کی نصف آبادی کو 2026 میں زندہ رہنے کے لیے بین الاقوامی امداد درکار ہوگی۔ یہ اعداد و شمار محض ایک شماریاتی تجزیہ نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کی چیخ ہے جو مکمل انہدام کے قریب ہے۔

طالبان کے تین برسوں میں معاشی سرگرمیاں منجمد ہو گئیں، روزگار کے مواقع ختم ہو گئے اور حکمرانی کا شدید خلا پیدا ہو گیا۔ ملک اس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ عوام کے لیے آنے والے دن محض بقا کی جنگ سے زیادہ کچھ نہیں۔ اوچا کے مطابق جس نصف آبادی کو فوری امداد کی ضرورت ہے، وہ دراصل بڑے بحران کی ایک جھلک ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ باقی نصف بھی غربت، غذائی قلت، مہنگائی اور سماجی انتشار کی لپیٹ میں ہے۔

یہ داخلی بحران اپنی جگہ، مگر اس دوران طالبان حکومت نے اقتدار اور معاشی وسائل تک رسائی رکھنے والے ایک نئے طبقۂ اشرافیہ کو جنم دیا ہے۔ یہ نئی ایلیٹ وقتی طور پر محفوظ سہی، مگر جس ملک کی معیشت بنیادوں سے ہل رہی ہو وہاں دولت اور طاقت صرف عارضی آسرا بن سکتی ہے، مستقبل نہیں۔

سرحد پار دہشتگردی اور پاکستان مخالف عناصر کی پشت پناہی نے پہلے سے بگڑتے حالات کو مزید خوفناک بنا دیا ہے۔ افغان حکومت نے چار دہائیوں پر محیط پاک–افغان تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا، دو طرفہ تجارت کو متاثر کیا اور خطے میں عدمِ استحکام کو فروغ دیا۔ یوں لگتا ہے کہ طالبان حکومت داخلی بحران سے نمٹنے کے بجائے اپنے ہی عوام کے دکھوں میں اضافہ کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ افغانستان کا بحران عالمی توجہ سے تیزی سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ میڈیا میں کبھی کبھار رپورٹنگ ضرور دکھائی دیتی ہے، مگر زمینی حقیقت یہ بتا رہی ہے کہ وقت کم اور خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر عالمی برادری نے 2026 کے امدادی منصوبے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو افغانستان کے معاشی، سماجی اور انتظامی نظام کے مکمل انہدام کا خدشہ ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ تباہ حال افغانستان صرف افغان عوام کا بحران نہیں رہتا۔ ایسا ملک پورے خطے کے لیے عدم استحکام، مذہبی انتہاپسندی اور سلامتی کے خطرات کا منبع بن جاتا ہے۔ سوال یہی ہے کہ کیا دنیا ایک اور خاموش تباہی کو پنپنے دے گی؟ یا اس بار یہ حقیقت تسلیم کرے گی کہ افغانستان کی مدد دراصل علاقائی امن اور انسانی وقار کی حفاظت ہے؟

دیکھیں: افغان سرحد سے فائرنگ، تاجکستان میں مزید 2 چینی شہری ہلاک

متعلقہ مضامین

دہشت گردی کے خلاف ریاست کے مضبوط ردعمل کو ‘غلطی’ کہنا حقائق کے برعکس ہے۔ جب سرحد پار ٹھکانوں پر ضرب لگی تو حملے کم ہوئے مگر سوشل میڈیا پر دہشت گردوں کے ہمدردوں کی تکلیف بڑھ گئی

March 18, 2026

وفاقی وزیر خواجہ آصف نے افغان طالبان کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے تین نسلوں تک افغانوں کی میزبانی کی لیکن یہ مہمان نوازی اب تاریخ کی سب سے بڑی غلطی محسوس ہوتی ہے

March 18, 2026

کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سی ٹی ڈی نے بی ایل اے کے خطرناک کمانڈر سہیل بلوچ عرف گُرک کو 3 ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیا، جو ڈی سی پنجگور کے قتل اور 50 سے زائد افراد کے خون میں ملوث تھا

March 18, 2026

صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آیا افغانستان میں طالبان حکومت سے متعلق پروپیگنڈا بے نقاب ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق علیمہ خان نے اس سوال کو نامناسب قرار دیا اور بغیر جواب دیے پریس کانفرنس ختم کر دی

March 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *