فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سلامتی کو لاحق ہر طرح کے داخلی و خارجی چیلنجز اور جدید جنگی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے فنی صلاحیت، آپریشنل تیاری اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مکمل طور پر تیار ہیں

January 29, 2026

ایچ ٹی این ذرائع کے مطابق روس اور طالبان کے دفاعی حکام نے ماسکو میں ملاقات میں علاقائی سلامتی، فوجی تعاون اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا اور آئندہ مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا

January 29, 2026

پاکستان اور چین کا زرعی شعبے میں تعاون مزید مضبوط، فیصل آباد یونیورسٹی اور چینی یونیورسٹی نے بایو ہیلتھ، اسمارٹ فارمنگ اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے معاہدے کیے

January 29, 2026

قندوز میں ہزارہ برادری سے چھینی گئی جائیدادیں مہاجرین کی آبادکاری کے نام پر دہشت گرد تنظیم لشکرِ اسلام اور گل بہادر گروپ سے وابستہ افراد میں تقسیم کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب قندھار، ہلمند اور غزنی کے پشتون اکثریتی علاقوں میں صدیوں سے آباد ہزارہ آبادیوں کو بھی سرکاری اراضی قرار دے کر جبراً خالی کروایا جا چکا ہے۔

January 29, 2026

قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ واشنگٹن نے مئی 2023 کے بعد طالبان کو بھیجی جانے والی 40 ملین ڈالر کی نقد ترسیلات کے بارے میں عوامی سطح پر معلومات فراہم کرنا بھی بند کر دی ہیں، جس سے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی یہ پالیسی نہ صرف تضادات کا شکار ہے بلکہ خطے میں سلامتی، دہشت گردی کے خلاف بیانیے اور انسانی امداد کے دعووں پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا رہی ہے۔

January 29, 2026

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی انٹرویو میں کہا ہے کہ نیا تعزیری قانون آئین نہیں بلکہ عدالتی طریقۂ کار ہے، جو مکمل طور پر شریعت اور فقہِ حنفی کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے

January 29, 2026

افغانستان میں پنپتا سنگین انسانی بحران اور طالبان کی غفلت

طالبان کے تین برسوں میں معاشی سرگرمیاں منجمد ہو گئیں، روزگار کے مواقع ختم ہو گئے اور حکمرانی کا شدید خلا پیدا ہو گیا۔ ملک اس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ عوام کے لیے آنے والے دن محض بقا کی جنگ سے زیادہ کچھ نہیں۔ اوچا کے مطابق جس نصف آبادی کو فوری امداد کی ضرورت ہے، وہ دراصل بڑے بحران کی ایک جھلک ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ باقی نصف بھی غربت، غذائی قلت، مہنگائی اور سماجی انتشار کی لپیٹ میں ہے۔
افغانستان میں پنپتا سنگین انسانی بحران اور طالبان کی غفلت

تاریخ گواہ ہے کہ تباہ حال افغانستان صرف افغان عوام کا بحران نہیں رہتا۔ ایسا ملک پورے خطے کے لیے عدم استحکام، مذہبی انتہاپسندی اور سلامتی کے خطرات کا منبع بن جاتا ہے۔

December 3, 2025

افغانستان ایک بار پھر شدید انسانی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی معاونت کی تازہ رپورٹ ایک لرزہ خیز حقیقت سامنے لاتی ہے: تقریباً 21.9 ملین افغان شہری یعنی ملک کی نصف آبادی کو 2026 میں زندہ رہنے کے لیے بین الاقوامی امداد درکار ہوگی۔ یہ اعداد و شمار محض ایک شماریاتی تجزیہ نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کی چیخ ہے جو مکمل انہدام کے قریب ہے۔

طالبان کے تین برسوں میں معاشی سرگرمیاں منجمد ہو گئیں، روزگار کے مواقع ختم ہو گئے اور حکمرانی کا شدید خلا پیدا ہو گیا۔ ملک اس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ عوام کے لیے آنے والے دن محض بقا کی جنگ سے زیادہ کچھ نہیں۔ اوچا کے مطابق جس نصف آبادی کو فوری امداد کی ضرورت ہے، وہ دراصل بڑے بحران کی ایک جھلک ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ باقی نصف بھی غربت، غذائی قلت، مہنگائی اور سماجی انتشار کی لپیٹ میں ہے۔

یہ داخلی بحران اپنی جگہ، مگر اس دوران طالبان حکومت نے اقتدار اور معاشی وسائل تک رسائی رکھنے والے ایک نئے طبقۂ اشرافیہ کو جنم دیا ہے۔ یہ نئی ایلیٹ وقتی طور پر محفوظ سہی، مگر جس ملک کی معیشت بنیادوں سے ہل رہی ہو وہاں دولت اور طاقت صرف عارضی آسرا بن سکتی ہے، مستقبل نہیں۔

سرحد پار دہشتگردی اور پاکستان مخالف عناصر کی پشت پناہی نے پہلے سے بگڑتے حالات کو مزید خوفناک بنا دیا ہے۔ افغان حکومت نے چار دہائیوں پر محیط پاک–افغان تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا، دو طرفہ تجارت کو متاثر کیا اور خطے میں عدمِ استحکام کو فروغ دیا۔ یوں لگتا ہے کہ طالبان حکومت داخلی بحران سے نمٹنے کے بجائے اپنے ہی عوام کے دکھوں میں اضافہ کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ افغانستان کا بحران عالمی توجہ سے تیزی سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ میڈیا میں کبھی کبھار رپورٹنگ ضرور دکھائی دیتی ہے، مگر زمینی حقیقت یہ بتا رہی ہے کہ وقت کم اور خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر عالمی برادری نے 2026 کے امدادی منصوبے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو افغانستان کے معاشی، سماجی اور انتظامی نظام کے مکمل انہدام کا خدشہ ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ تباہ حال افغانستان صرف افغان عوام کا بحران نہیں رہتا۔ ایسا ملک پورے خطے کے لیے عدم استحکام، مذہبی انتہاپسندی اور سلامتی کے خطرات کا منبع بن جاتا ہے۔ سوال یہی ہے کہ کیا دنیا ایک اور خاموش تباہی کو پنپنے دے گی؟ یا اس بار یہ حقیقت تسلیم کرے گی کہ افغانستان کی مدد دراصل علاقائی امن اور انسانی وقار کی حفاظت ہے؟

دیکھیں: افغان سرحد سے فائرنگ، تاجکستان میں مزید 2 چینی شہری ہلاک

متعلقہ مضامین

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سلامتی کو لاحق ہر طرح کے داخلی و خارجی چیلنجز اور جدید جنگی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے فنی صلاحیت، آپریشنل تیاری اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مکمل طور پر تیار ہیں

January 29, 2026

ایچ ٹی این ذرائع کے مطابق روس اور طالبان کے دفاعی حکام نے ماسکو میں ملاقات میں علاقائی سلامتی، فوجی تعاون اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا اور آئندہ مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا

January 29, 2026

پاکستان اور چین کا زرعی شعبے میں تعاون مزید مضبوط، فیصل آباد یونیورسٹی اور چینی یونیورسٹی نے بایو ہیلتھ، اسمارٹ فارمنگ اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے معاہدے کیے

January 29, 2026

قندوز میں ہزارہ برادری سے چھینی گئی جائیدادیں مہاجرین کی آبادکاری کے نام پر دہشت گرد تنظیم لشکرِ اسلام اور گل بہادر گروپ سے وابستہ افراد میں تقسیم کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب قندھار، ہلمند اور غزنی کے پشتون اکثریتی علاقوں میں صدیوں سے آباد ہزارہ آبادیوں کو بھی سرکاری اراضی قرار دے کر جبراً خالی کروایا جا چکا ہے۔

January 29, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *