منظور پشتین کی حالیہ ویڈیو میں ریاست پر عائد کیے گئے الزامات اور متوازی عسکری نظام کے قیام کی تجاویز نے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ ریاستی اقدامات کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ تھا، جبکہ پی ٹی ایم کا بیانیہ آئینی حدود سے تجاوز کر رہا ہے۔

May 5, 2026

افغانستان میں لباس کی بنیاد پر خواتین پر تشدد اور گرفتاریوں نے انسانی حقوق کے اصولوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور معاشرے میں خوف اور دوری کو بڑھا دیا ہے۔

May 5, 2026

مولانا صاحب کے قتل میں وہی ہاتھ ملوث ہیں جنہوں نے پہلے ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مذاق اڑایا اور گالم گلوچ کی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ بعد میں خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

May 5, 2026

طالبان رہنما قاری سعید خوستی کے بیان نے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی اور طالبان کے دوہرے معیار پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں، جہاں ذمہ داری کے بجائے الزامات کا سہارا لیا گیا۔

May 5, 2026

پاکستان اور افغانستان کے قبائل کے درمیان باجوڑ میں تاریخی جرگہ کامیاب؛ کنڑ سے مہمند تک جنگ بندی اور تجارتی راستے کھولنے پر اتفاق۔

May 5, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے دیئے گے نئے امن منصوبے میں حیرت انگیز لچک سے اس خیال کو تقویت مل رہی ہے کہ ایران  ناکہ بندی بحری قذاقی اور حالیہ جنگ میں ہونے والے ناقابل برداشت  نقصان سے دوچار ہے۔ جو مزید جنگ جاری رکھنے کامتحمل نہیں ہو پا رہا۔

May 5, 2026

ذبیح اللہ مجاہد کا بیان مسترد؛ پاکستان نے تجارتی راستوں کی بحالی کو سکیورٹی سے مشروط کر دیا

پاکستانی مؤقف میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تجارت کی بحالی کے لیے افغان حکومت کو ’’اعتماد سازی کے مؤثر اقدامات‘‘ یقینی بنانا ہوں گے تاکہ دونوں ممالک کے عوام اور تاجروں کی حفاظت اور مفادات محفوظ رہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد کا بیان مسترد؛ پاکستان نے تجارتی راستوں کی بحالی کو سکیورٹی سے مشروط کر دیا

ذرائع کے مطابق پاکستان علاقائی تجارت کے فروغ کا خواہاں ہے لیکن ’’قابل اعتماد سیکورٹی تعاون‘‘ کو بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔

December 4, 2025

افغان حکام نے ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ تجارتی راستے کھولنے کے معاملے پر اپنا مؤقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور ٹرانزٹ کے راستوں کو ’’غیر قانونی‘‘ طور پر اور سیاسی دباؤ کے طور پر بند کیا، جس سے دونوں ممالک کے عوام کو نقصان پہنچا۔

امارتِ اسلامی افغانستان کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان اپنی ضروریات کئی ممالک سے پوری کر رہا ہے، اس لیے اب پاکستان کے ساتھ تجارتی راستے اسی وقت دوبارہ کھولے جائیں گے جب اسلام آباد سے اس بات کی ’’مضبوط یقین دہانی‘‘ مل جائے کہ مستقبل میں یہ راستے سیاسی دباؤ، غیر قانونی پابندی یا کسی بھی قسم کے دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیے جائیں گے۔

افغان بیان کے مطابق راستوں کی بندش سے تاجروں کے حقوق کو نقصان پہنچا اور ’’باوقار تجارت‘‘ متاثر ہوئی۔ طالبان حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی پالیسی درکار ہے جو دونوں جانب کے تاجروں اور عوام کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحدی اور تجارتی گزرگاہوں کے حوالے سے پاکستان کے فیصلے ’’قومی سلامتی اور قانونی ضابطوں‘‘ کے مطابق ہوتے ہیں، اور یہ کہنا درست نہیں کہ راستے کسی سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیے گئے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان نے متعدد بار افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنی سرزمین دہشت گرد گروہوں خصوصاً ٹی ٹی پی کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ حکام کے مطابق سرحدی بندشیں تب کی گئیں جب دہشت گردی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے بڑھتے واقعات کے سبب اضافی حفاظتی اقدامات ضروری ہوئے۔

پاکستانی مؤقف میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تجارت کی بحالی کے لیے افغان حکومت کو ’’اعتماد سازی کے مؤثر اقدامات‘‘ یقینی بنانا ہوں گے تاکہ دونوں ممالک کے عوام اور تاجروں کی حفاظت اور مفادات محفوظ رہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان علاقائی تجارت کے فروغ کا خواہاں ہے لیکن ’’قابل اعتماد سیکورٹی تعاون‘‘ کو بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔

دیکھیں: دو دہائیوں میں 148 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود افغانستان میں استحکام نہ آیا، سگار کی رپورٹ

متعلقہ مضامین

منظور پشتین کی حالیہ ویڈیو میں ریاست پر عائد کیے گئے الزامات اور متوازی عسکری نظام کے قیام کی تجاویز نے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ ریاستی اقدامات کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ تھا، جبکہ پی ٹی ایم کا بیانیہ آئینی حدود سے تجاوز کر رہا ہے۔

May 5, 2026

افغانستان میں لباس کی بنیاد پر خواتین پر تشدد اور گرفتاریوں نے انسانی حقوق کے اصولوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور معاشرے میں خوف اور دوری کو بڑھا دیا ہے۔

May 5, 2026

مولانا صاحب کے قتل میں وہی ہاتھ ملوث ہیں جنہوں نے پہلے ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مذاق اڑایا اور گالم گلوچ کی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ بعد میں خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

May 5, 2026

طالبان رہنما قاری سعید خوستی کے بیان نے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی اور طالبان کے دوہرے معیار پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں، جہاں ذمہ داری کے بجائے الزامات کا سہارا لیا گیا۔

May 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *