نارووال کے مقامی خطیب قاری عابد الرحمن کی وفات پر بھارتی میڈیا کی جھوٹی مہم بے نقاب

ایچ ٹی این نے تصدیق کی ہے کہ مرحوم کا کسی ممنوعہ یا دہشت گرد تنظیم، بشمول لشکرِ طیبہ، سے کوئی تعلق نہیں تھا، بلکہ وہ ایک معتدل مذہبی سیاسی جماعت مرکزی جمعیت اہلحدیث کے کارکن تھے، جو پاکستان کی ایوانِ بالا سینیٹ میں بھی نمائندگی رکھتی ہے۔
نارووال کے مقامی خطیب قاری عابد الرحمن کی وفات پر بھارتی میڈیا کی جھوٹی مہم بے نقاب

واضح رہے کہ حالیہ عرصے میں پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا مہم کے تحت بھارت اور افغانستان میں موجود کچھ آن لائن نیٹ ورکس جھوٹی اور سنسنی خیز معلومات پھیلانے میں سرگرم ہیں، جن کا مقصد پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔

December 4, 2025

نارووال کے معزز عالمِ دین اور مرکزی جمعیت اہلحدیث سے وابستہ قاری عابد الرحمن عابد کے انتقال سے متعلق بھارتی سوشل میڈیا اور افغانستان سے منسلک کچھ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے گمراہ کن اور غیر مصدقہ دعوے سامنے آئے ہیں۔

ابتدائی طور پر بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ قاری عابد الرحمن کسی مبینہ مسلح حملے میں ہلاک ہوئے اور انہیں شدت پسند تنظیم سے جوڑ کر غلط رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔

تاہم ایچ ٹی این کی تحقیقات کے مطابق یہ تمام دعوے حقائق کے منافی ہیں۔ قاری عابد الرحمن ایک روڈ حادثے میں جاں بحق ہوئے۔ ان کے اہلِ خانہ اور مقامی ذرائع نے بھی واضح کیا ہے کہ ان کی موت کا کسی قسم کے عسکری واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔

مزید برآں، ایچ ٹی این نے تصدیق کی ہے کہ مرحوم کا کسی ممنوعہ یا دہشت گرد تنظیم، بشمول لشکرِ طیبہ، سے کوئی تعلق نہیں تھا، بلکہ وہ ایک معتدل مذہبی سیاسی جماعت مرکزی جمعیت اہلحدیث کے کارکن تھے، جو پاکستان کی ایوانِ بالا سینیٹ میں بھی نمائندگی رکھتی ہے۔

قاری عابد الرحمن اپنے شہر نارووال میں ایک مسجد کے خطیب تھے اور اپنی حسین قرأتِ قرآن کی وجہ سے علاقے میں بڑی قدروقیمت رکھتے تھے۔

واضح رہے کہ حالیہ عرصے میں پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا مہم کے تحت بھارت اور افغانستان میں موجود کچھ آن لائن نیٹ ورکس جھوٹی اور سنسنی خیز معلومات پھیلانے میں سرگرم ہیں، جن کا مقصد پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔

دیکھیں: دو دہائیوں میں 148 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود افغانستان میں استحکام نہ آیا، سگار کی رپورٹ

متعلقہ مضامین

محسن نقوی نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا قبضہ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے 5 اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا۔

November 4, 2026

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 4, 2026

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *