مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

طالبان قیادت میں دراڑیں؟ ملا ہیبت اللہ کو ہٹانے پر غور، تین اہم نام سامنے آ گئے

افغانستان میں برسرِاقتدار طالبان کے اندرونی حلقوں میں شدید سیاسی خلفشار کی اطلاعات ہیں، جہاں افغان مجلسِ شوریٰ موجودہ امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جگہ نئی قیادت لانے پر غور کر رہی ہے
افغانستان میں برسرِاقتدار طالبان کے اندرونی حلقوں میں شدید سیاسی خلفشار کی اطلاعات ہیں، جہاں افغان مجلسِ شوریٰ موجودہ امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جگہ نئی قیادت لانے پر غور کر رہی ہے

افغانستان میں طالبان قیادت کے درمیان بڑھتی ہوئی رسہ کشی کے باعث ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو ہٹانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ ملا برادر، سراج الدین حقانی اور ملا یعقوب کے ناموں پر غور جاری ہے

February 24, 2026

افغانستان میں برسرِاقتدار طالبان کے اندرونی حلقوں میں شدید سیاسی خلفشار اور دھڑے بندیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ‘افغان مجلسِ شوریٰ’ موجودہ سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو ان کے عہدے سے ہٹانے اور قیادت کی تبدیلی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کی صفوں میں پالیسی سازی اور انتظامی امور پر بڑھتے ہوئے اختلافات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب سپریم کمانڈر کی تبدیلی کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔ اس ممکنہ بڑی تبدیلی کے پیشِ نظر نئے سپریم کمانڈر کے لیے تین اہم ترین رہنماؤں کے نام گردش کر رہے ہیں، جن میں نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر، وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیرِ دفاع ملا یعقوب شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے دور میں بعض سخت گیر فیصلوں نے تنظیم کے اندر مختلف دھڑوں کے درمیان خلیج پیدا کر دی ہے۔ نئے امیر کے لیے زیرِ غور ناموں میں ملا یعقوب (طالبان کے بانی ملا عمر کے صاحبزادے) اور سراج الدین حقانی (حقانی نیٹ ورک کے سربراہ) کے پاس مضبوط عسکری قوت ہے، جبکہ ملا عبدالغنی برادر کو سیاسی اور سفارتی حلقوں میں وسیع اثر و رسوخ حاصل ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی صفوں میں بڑھتی ہوئی یہ رسہ کشی نہ صرف اندرونی نظم و ضبط کو متاثر کر رہی ہے بلکہ یہ افغانستان کے مستقبل اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اگر قیادت کی یہ تبدیلی عمل میں آتی ہے تو یہ 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سب سے بڑی سیاسی تبدیلی ہوگی۔

تاہم تاحال طالبان کے سرکاری ترجمان یا کابل حکومت کی جانب سے ان اطلاعات کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے

دیکھیے: طالبان حکومت کے خلاف ”افغانستان انڈیپینڈس فرنٹ” کے نام سے نئی مزاحمتی تحریک منظر عام پر آگئی

متعلقہ مضامین

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

November 4, 2026

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *