موجودہ دور میں جہاں معلومات کی ترسیل پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے وہیں جھوٹی خبروں، منفی پروپیگنڈے اور مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال جیسے چیلنجز بھی شدت اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے میں صحافیوں پر ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ تحقیق، تصدیق اور غیر جانبداری کو اپنا شعار بنائیں۔

May 3, 2026

عالمی یومِ آزادیٔ صحافت ہمیں یہ سوچنے، سمجھنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ آزادی اور ذمہ داری ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ اگر آزادی کو ذمہ داری کے بغیر استعمال کیا جائے تو یہ انتشار کا سبب بن سکتی ہے جبکہ ذمہ داری کے ساتھ جڑی آزادی معاشرے میں توازن، شعور اور انصاف کو فروغ دیتی ہے۔

May 3, 2026

مارچ 2011 سے اگست 2025 تک لاپتہ افراد کے تقریباً 10,618 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے ریاست 8,800 سے زائد کیسز کو نمٹا چکی ہے اور 6,800 سے زائد افراد کو ٹریس بھی کیا جا چکا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے اس پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں

May 3, 2026

ان کا یہ دعویٰ کہ عمارت میں 48 سفارت کار رہ رہے تھے اور یورپی ممالک کی جانب سے کوئی ڈیمارش جاری کیا گیا، مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وہاں صرف 9 سفارت کار مقیم تھے۔

May 3, 2026

انہوں نے واضح کیا کہ ان کے احکامات کی نافرمانی اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کے برابر جرم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ کسی بھی قسم کی نافرمانی برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ترین تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

May 3, 2026

نگران ادارے کے مطابق، تعمیر کار پر چودہ ارب روپے سے زائد کا نادہندہ ہونے کا الزام ہے اور وہ اب تک ان واجبات کی ادائیگی میں ناکام رہا ہے۔ اس عمارت میں ملک کے طاقتور ترین افراد اور بااثر شخصیات رہائش پذیر ہیں۔

May 3, 2026

سابق مفتی اعظم حسون کے بارے میں شامی وزیرِ انصاف کی وضاحت، سزائے موت کی افواہیں مسترد

شامی وزیرِ انصاف نے کہا ہے کہ سابق مفتی اعظم حسون کے حوالے سے تصدیق کی کہ وہ عدالتی تحویل میں ہیں اور تحقیقات جاری ہیں
شامی وزیرِ انصاف نے کہا ہے کہ سابق مفتی اعظم حسون کے حوالے سے تصدیق کی کہ وہ عدالتی تحویل میں ہیں اور تحقیقات جاری ہیں

سابق مفتی اعظم احمد بدرالدین حسون کو مارچ 2025 میں گرفتار کیا گیا تھا

December 10, 2025

شامی وزیرِ انصاف مظہر الويس نے ملک کے سابق مفتی اعظم احمد بدرالدین حسون کے حوالے سے زیرِ گردش سزائے موت کی افواہوں کو غلط اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مفتی حسون اس وقت عدالتی تحویل میں ہیں اور قانونی کارروائی جاری ہے۔

عرب میڈیا سے گفتگو میں وزیر الويس نے کہا ہے کہ حسون کا کیس وزارت داخلہ سے وزارت انصاف کے تفتیشی جج کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ تفتیشی جج اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں اور اگر ان کے پیش نظر شواہد کسی جرم کی نشاندہی کرتے ہیں تو معاملہ قاضی احالہ تک بھیجا جائے گا، ورنہ مقدمہ خارج کرتے ہوئے انہیں رہا کر دیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سزائے موت کا فیصلہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے اور اس کے لیے شفاف اور مکمل عدالتی کارروائی ناگزیر ہے۔ وزیر نے حسون کی صحت کے بارے میں بھی تصدیق کی ہے ان کی صحت اب بہتر ہے۔

مظہر الويس نے یہ افواہیں عدلیہ پر دباؤ ڈالنے اور عوامی رائے میں انتشار پھیلانے کی ناکام کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزارت انصاف پہلے بھی اسی قسم کی غلط اطلاعات کی بار بار تردید کر چکی ہے۔

یاد رہے کہ سابق مفتی اعظم احمد بدرالدین حسون کو مارچ 2025 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری کو شامی حلقوں میں حکومت کے سابق اہلکاروں کے احتساب کی جانب ایک اہم اقدام قرار دیا گیا تھا، بشرطیکہ عدالتی کارروائی میں ان پر لگائے گئے الزامات ثابت ہوں۔

دیکھیں: پاکستان کا بھارتی وزیرِ خارجہ کے بے بنیاد اور اشتعال انگیز بیان پر شدید ردعمل

متعلقہ مضامین

موجودہ دور میں جہاں معلومات کی ترسیل پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے وہیں جھوٹی خبروں، منفی پروپیگنڈے اور مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال جیسے چیلنجز بھی شدت اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے میں صحافیوں پر ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ تحقیق، تصدیق اور غیر جانبداری کو اپنا شعار بنائیں۔

May 3, 2026

عالمی یومِ آزادیٔ صحافت ہمیں یہ سوچنے، سمجھنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ آزادی اور ذمہ داری ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ اگر آزادی کو ذمہ داری کے بغیر استعمال کیا جائے تو یہ انتشار کا سبب بن سکتی ہے جبکہ ذمہ داری کے ساتھ جڑی آزادی معاشرے میں توازن، شعور اور انصاف کو فروغ دیتی ہے۔

May 3, 2026

مارچ 2011 سے اگست 2025 تک لاپتہ افراد کے تقریباً 10,618 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے ریاست 8,800 سے زائد کیسز کو نمٹا چکی ہے اور 6,800 سے زائد افراد کو ٹریس بھی کیا جا چکا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے اس پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں

May 3, 2026

ان کا یہ دعویٰ کہ عمارت میں 48 سفارت کار رہ رہے تھے اور یورپی ممالک کی جانب سے کوئی ڈیمارش جاری کیا گیا، مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وہاں صرف 9 سفارت کار مقیم تھے۔

May 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *