عمران خان کو رہا کرنے کی اپیل؛ پاکستانی ماہرین نے اندرونی معاملات میں مداخلت پر اقوام متحدہ کو آڑے ہاتھوں لے لیا

سابق سفارتکاروں نے بھی اس بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اکثر تصدیق شدہ زمینی حقائق کے بغیر یکطرفہ رپورٹس پر انحصار کرتے ہیں، جو ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر ہر ملک کے عدالتی فیصلوں کو انسانی حقوق کے نام پر سیاسی رنگ دیا جائے تو عالمی نظام انصاف کمزور ہو جائے گا۔
اقوام متحدہ کی عمران خان کو رہا کرنے کی اپیل؛ پاکستانی ماہرین نے اندرونی معاملات میں مداخلت پر اقوام متحدہ کو آڑے ہاتھوں لے لیا

حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان انسانی حقوق کے عالمی معیارات کا پابند ہے، تاہم کسی مخصوص فرد کے معاملے کو بنیاد بنا کر عدالتی خودمختاری پر سوال اٹھانا ناقابلِ قبول ہے۔

December 13, 2025

اقوام متحدہ کے ایک خصوصی ماہر کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی اور مبینہ طور پر غیر انسانی قید کی شرائط پر تشویش کے اظہار کے بعد پاکستان میں اس بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں قانونی و سیاسی ماہرین نے اسے پاکستان کے اندرونی عدالتی اور انتظامی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے تشدد، ایلس جِل ایڈورڈز نے 12 دسمبر 2025 کو جاری بیان میں کہا کہ عمران خان کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں طویل مدت تک تنہائی میں رکھے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق تشدد یا غیر انسانی سلوک کے زمرے میں آ سکتی ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کو مبینہ طور پر روزانہ 23 گھنٹے ایک سیل میں بند رکھا جاتا ہے، محدود بیرونی رابطے کی اجازت ہے اور سیل میں مستقل کیمرہ نگرانی کی جاتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ عمران خان کو بیرونی سرگرمی، دیگر قیدیوں سے میل جول اور اجتماعی نماز کی اجازت نہیں دی جاتی، جبکہ وکلا اور اہلِ خانہ سے ملاقاتیں بھی اکثر قبل از وقت ختم کر دی جاتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہر نے دعویٰ کیا کہ سیل میں مناسب روشنی، ہوا اور درجہ حرارت کا انتظام نہیں، جس کے باعث عمران خان کی صحت متاثر ہوئی ہے۔ ایلس جِل ایڈورڈز نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کی تنہائی ختم کی جائے، انہیں مناسب طبی سہولتیں فراہم کی جائیں اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق قید کی شرائط کو یقینی بنایا جائے۔

اقوام متحدہ کے مطابق خصوصی نمائندے نے یہ معاملہ پاکستانی حکومت کے سامنے اٹھا دیا ہے اور آئندہ بھی صورتحال پر نظر رکھی جائے گی۔

تاہم پاکستان میں قانونی ماہرین، سابق سفارتکاروں اور حکومتی حلقوں نے اقوام متحدہ کے اس بیان کو یکطرفہ، سیاسی اور حقائق سے لاعلم قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عمران خان پاکستان کی عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات میں سزا یافتہ یا ملزم ہیں، اور ان کی قید آئین و قانون کے تحت عدالتی احکامات کے مطابق ہے، نہ کہ کسی انتظامی یا سیاسی فیصلے کے تحت۔

قانونی ماہرین کے مطابق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کا بیان پاکستان کے عدالتی نظام، جیل قوانین اور خودمختاری کو نظرانداز کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو وہ تمام سہولتیں حاصل ہیں جو جیل قوانین کے تحت کسی بھی سابق وزیراعظم یا بی کلاس قیدی کو دی جاتی ہیں، جن میں طبی سہولت، عدالتی رسائی اور وکلا سے ملاقات شامل ہے۔

سابق سفارتکاروں نے بھی اس بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اکثر تصدیق شدہ زمینی حقائق کے بغیر یکطرفہ رپورٹس پر انحصار کرتے ہیں، جو ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر ہر ملک کے عدالتی فیصلوں کو انسانی حقوق کے نام پر سیاسی رنگ دیا جائے تو عالمی نظام انصاف کمزور ہو جائے گا۔

پاکستانی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان کے مقدمات سیاسی نہیں بلکہ مالی بدعنوانی، ریاستی رازوں اور دیگر قانونی معاملات سے متعلق ہیں، جن کا فیصلہ صرف پاکستانی عدالتوں کو کرنا ہے۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ یا کسی بھی بین الاقوامی ادارے کو پاکستان کے اندرونی عدالتی معاملات میں مداخلت کا کوئی جواز حاصل نہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان انسانی حقوق کے عالمی معیارات کا پابند ہے، تاہم کسی مخصوص فرد کے معاملے کو بنیاد بنا کر عدالتی خودمختاری پر سوال اٹھانا ناقابلِ قبول ہے۔ ماہرین نے زور دیا کہ عالمی اداروں کو انسانی حقوق کے نام پر سیاسی بیانیے اپنانے کے بجائے غیر جانب دارانہ اور متوازن رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

دیکھیں: افغان وزیرِ داخلہ کی قازقستان کے خصوصی نمائندے سے اہم ملاقات

متعلقہ مضامین

محسن نقوی نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا قبضہ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے 5 اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا۔

November 4, 2026

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 4, 2026

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *