بھارت کے دارالحکومت دہلی میں تعلیمی بے ضابطگیوں، پیپر لیکس اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے خلاف طلبہ اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے پارلیمنٹ کی جانب احتجاجی مارچ کیا ہے۔ مظاہرین نے مودی حکومت کی معاشی و تعلیمی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔
احتجاج کو روکنے کے لیے بھارتی پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل برساۓ، جس کے نتیجے میں متعدد طلبہ زخمی ہو گئے۔ مظاہرین نے شکوہ کیا کہ ملک میں نہ معیاری تعلیم ہے اور نہ روزگار، حکومت چاہتی ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان بھی چائے بیچیں۔
طلبہ نے الزام عائد کیا کہ پولیس کارروائی کے دوران طالبات کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور ہراساں کیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ 12 برسوں میں ایک بھی پریس کانفرنس نہیں کی اور گودی میڈیا حکومتی دباؤ کا شکار ہو کر حقائق چھپا رہا ہے۔
دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں جاری اس احتجاجی تحریک کو بالی ووڈ کی معروف شخصیات کی شدید حمایت حاصل ہو گئی ہے۔ سینئر اداکار نصیر الدین شاہ نے پولیس تشدد کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اہلکاروں کو امریکی ایجنسی سے تشبیہ دی اور نوجوانوں سے جدوجہد جاری رکھنے کی اپیل کی۔
معروف اداکار پرکاش راج نے مظاہرین کے ساتھ مارچ میں شرکت کی اور کہا کہ ملک میں ایک بار پھر تحریکِ آزادی جیسی عوامی لہر جنم لے رہی ہے۔ اس کے علاوہ شبانہ اعظمی، رتیک روشن، سوناکشی سنہا، عرفی جاوید اور منور فاروقی سمیت دیگر فنکاروں نے بھی طلبہ کے جائز حقوق اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبات کیا ہے۔
مظاہرین اور بالی ووڈ شخصیات نے تعلیمی نظام میں عدم شفافیت اور پیپر لیک کے باعث طلبہ کی خودکشیوں کو حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے وزیراعظم اور وزیرِ تعلیم سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔