غیرقانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے مقامی کشمیریوں کے گھروں پر چھاپوں، محاصرے، تلاشی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور جائیدادوں پر غیر قانونی قبضے کی شدید مذمت کی ہے۔۔ تفصیلات کے مطابق کُل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے کہا کہ امریکہ میں مقیم کشمیری رہنما ڈاکٹر غلام نبی فائی کی جائیداد ضبط کرنا اور نوجوانوں کی جبری گرفتاریاں اور ظالمانہ قوانین کے تحت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پورے علاقے میں منظم طریقے سے ماورائے عدالت قتل، جبری گرفتاریاں اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔
جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے ڈاکٹر فائی کی جائیداد ضبطی کو انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی سطح پر حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے والے کشمیری کارکنوں کو خاموش کرانے کی منظم پالیسی کا حصہ ہیں۔
اسی طرح بھارتی فورسز نے سرینگر اور شوپیاں میں گھروں پر چھاپے مارنے اور ناکے لگانے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ جھیل ڈل کے ملحقہ علاقوں میں عوام کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ سرینگر میں ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچنے پر احتجاج کیا گیا اور مظاہرین نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا پتلا بھی نذر آتش کیا۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کی ہائی کورٹ نے پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی کی درخواست کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نمٹانے کے بجائے مسترد کر دیا، جس میں بھارتی جیلوں میں قید کشمیریوں کو واپس مقبوضہ علاقے کی جیلوں میں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔