لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

عسکری کارروائیاں کافی نہیں، انتہا پسندی کا فکری سدِباب ناگزیر ہے: نئی تحقیقی رپورٹ

ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق انتہا پسندی کی فکری جڑوں کو ختم کیے بغیر محض عسکری کاروائیاں ناگزیر نتائج حاصل نہیں کر سکتیں اور تنظیمیں دوبارہ ابھر سکتی ہیں۔
عسکری کارروائیاں کافی نہیں، انتہا پسندی کا فکری سدِباب ناگزیر ہے: نئی تحقیقی رپورٹ

پاکستان میں انتہا پسندی اور خارجیت کے سدِباب کے لیے ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی نئی تحقیقی رپورٹ میں فکری، نظریاتی اور سیکیورٹی اقدامات پر مبنی ایک جامع حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا گیا ہے۔

June 2, 2026

اسلام آباد: جنوبی ایشیا ٹائمز کی جانب سے جاری کی گئی ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں پاکستان میں انتہا پسند نظریات کے بڑھتے ہوئے خطرے سے خبردار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف مسلح گروہوں کا مقابلہ کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ ان فکری اور نظریاتی جڑوں کو بھی ختم کرنا ضروری ہے جو شدت پسند تنظیموں کو نئے ناموں کے ساتھ دوبارہ ابھرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

خارجیت اور تشدد

تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ دہشت گردی دراصل انتہا پسند نظریات کا عملی نتیجہ ہے، جبکہ جسے رپورٹ میں خارجیت” قرار دیا گیا ہے وہ ایسا فکری ماحول فراہم کرتی ہے جو مسلح گروہوں کی عسکری شکست کے بعد بھی تشدد کے تسلسل کو ممکن بناٹا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر مسلح گروہوں کے نظریاتی ڈھانچے کو ختم نہ کیا جائے تو وہ مختلف شکلوں اور ناموں کے ساتھ دوبارہ سامنے آ سکتے ہیں۔

انتہا پسند فکر کے ستون

رپورٹ میں انتہا پسند فکر کے چار اہم ستونوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں بے جا تکفیر، مذہبی متون کی سخت گیر لفظی تشریح، روایتی دینی اتھارٹی کا انکار، اور ریاستی اداروں کی قانونی حیثیت کو مسترد کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ، رپورٹ میں نام نہاد “سیاسی انتہا پسندی” کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے، جو سیاسی اور معاشی بحرانوں کو استعمال کرتے ہوئے ریاست کو غیر مذہبی ادارے کے طور پر پیش کرتی ہے اور سیاسی اختلافات کو مسلح تشدد کے جواز میں تبدیل کر سکتی ہے۔

خوارج اور جدید تنظیمیں

تحقیق میں خوارج کے نظریات کے ۱۴۰۰ سالہ تاریخی تسلسل کا جائزہ لیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جدید شدت پسند تنظیموں نے انہی فکری طریقوں کو دوبارہ اختیار کیا ہے جو اسلامی تاریخ کے ابتدائی سیاسی فتنوں کے دوران سامنے آئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق القاعدہ نے جنوبی ایشیا میں اس نظریے کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا، خصوصاً ۲۰۰۷ء میں لال مسجد کے واقعات کے بعد، جن کے نتیجے میں مسلح گروہوں میں بھرتیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

وسیع مہم کی ضرورت

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ فکری محاذ پر بھی مؤثر حکمتِ عملی اپنائی جائے اور مذہبی، تحقیقی اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ انتہا پسند بیانیے کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔ اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ پاکستان میں فکری اور مذہبی اقدامات کو مستقل ڈیجیٹل مہمات کی شکل دی جائے جو سوشل میڈیا پر شدت پسند گروہوں کے بیانیے کا مقابلہ کر سکیں۔

فکری سدِباب ناگزیر

تحقیق کے مطابق جو ممالک دہشت گردی کا مقابلہ صرف عسکری ذرائع سے کرتے ہیں لیکن تشدد کو جواز فراہم کرنے والے نظریاتی ڈھانچے کو ختم نہیں کرتے، وہ مستقبل میں دوبارہ انتہا پسندی اور تشدد کے خطرات سے دوچار رہتے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انتہا پسند نظریات میں خود کو نئے حالات کے مطابق منظم کرنے کی طویل المدتی صلاحیت موجود ہوتی ہے، اس لیے ان کا مقابلہ مسلسل فکری، تعلیمی اور ثقافتی سطح پر کرنا ناگزیر ہے۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *