گلگت: گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے عام انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول گرم ہے، تاہم پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے حالیہ اقدامات اور تزویراتی حکمتِ عملی نے مقامی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ باوثوق سیاسی و انتظامی ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی نے پاکستان بھر میں بدامنی، انتشار اور ترقیاتی رکاوٹوں کی جس سیاست کو فروغ دیا، اب وہی طرزِ عمل گلگت بلتستان میں بھی دہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انکشاف ہوا ہے کہ خیبر پختونخوا سے کارکنوں کو منظم طریقے سے گلگت بلتستان لایا جا رہا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مقامی اور پُرامن سیاسی عمل کو بیرونی دباؤ اور افرادی قوت کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ آنے والے انتخابات کو سبوتاژ کیا جا سکے جو کہ جمہوری اقدار، عوامی مینڈیٹ اور پُرامن انتخابی عمل پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔
کے پی ماڈل
سیاسی مبصرین کے مطابق، پی ٹی آئی اس وقت بحیثیت جماعت ملک بھر میں شدید ترین ساکھ کے بحران، عوامی بداعتمادی اور اندرونی خلفشار کا شکار ہو چکی ہے۔ پارٹی کے اندرونی اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ ڈسپلن کا فقدان ہے اور ہر شخص خود کو قیادت کا مرکز سمجھ رہا ہے۔ مزید برآں، خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی مسلسل حکمرانی کارکردگی، نظم و نسق اور عوامی خدمت کے اعتبار سے شدید تنزلی کی علامت بن چکی ہے۔
وہاں حقیقی ترقی، روزگار کی فراہمی اور فلاحی کاموں کے بجائے صرف افراتفری، میڈیا ہائپ، اشتہار بازی اور سیاسی شور شرابا ہی حکومت کی بنیادی خصوصیات رہ گئی ہیں، جس سے ادارے کمزور اور معیشت زوال پذیر ہوئی ہے۔
عوامی شعور اور امن و ترقی
ذرائع کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے غیور اور باشعور عوام ان تمام تزویراتی حقائق کو بخوبی دیکھ رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ملک کے جن علاقوں میں بہتر طرزِ حکمرانی ہے وہاں معاشی ترقی آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے زیرِ اثر خیبر پختونخوا میں زوال اور گورننس کی ناکامی نمایاں ہے۔ گلگت بلتستان کے لوگ کسی ایسے سیاسی یا حکمرانی کے ماڈل کو ہرگز قبول نہیں کریں گے جس کے نتیجے میں خطے میں غربت بڑھے، جاری ترقیاتی منصوبے رکیں اور ادارہ جاتی کمزوری پیدا ہو۔ ی
ہاں کے عوام نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ انتخابات میں کسی قسم کا انتشار، فساد اور بدامنی نہیں چاہتے، بلکہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے صرف امن، استحکام، پائیدار ترقی اور بہتر طرزِ حکمرانی کے حق میں فیصلہ صادر کریں گے۔