ایران میں تین سال کے عرصے میں سب سے بڑے عوامی احتجاجات تیسرے روز بھی جاری ہیں۔ ایرانی ریال کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخی گراوٹ اور مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجات نے ملک گیر ہڑتال اور مظاہروں کی شکل اختیار کر لی ہے۔ تاجروں نے منگل تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ احتجاجات ابتدائی طور پر کرنسی کی قدر میں کمی اور معاشی مشکلات کے خلاف تھے لیکن اب یہ ملک کے مختلف صوبوں میں سڑکوں، چوراہوں اور تعلیمی اداروں تک پھیل چکے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے مرکزی تجارتی علاقوں بشمول گرینڈ بازار اور علاالدین مال سمیت تمام بڑے بازار تیسرے روز بھی بند رہے۔ شہر کے مرکز میں مظاہرین کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی جہاں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔ سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ویڈیو میں مظاہرین کو سکیورٹی اہلکاروں کے سامنے زمین پر بیٹھے دکھایا گیا۔ بعد میں انہیں منتشر کر دیا گیا۔
A video shared with Iran International showed one protester sitting in the middle of a street in Tehran and refusing to move as motorbike-riding security forces moved in on demonstrators. pic.twitter.com/uic3kBOoPv
— Iran International English (@IranIntl_En) December 29, 2025
واضح رہے کہ یہ احتجاجات صرف دارالحکومت تک محدود نہیں رہے۔ جنوب میں قشم جزیرے سے لے کر شمال میں زنجان اور ہمدان تک، اور مشرق میں کرمان سے مغرب میں مالارڈ تک متعدد شہروں میں مظاہرے رپورٹ ہوئے۔ ہمدان میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ کی اطلاعات ہیں، جبکہ مالارڈ میں آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔
پہلے روز کے احتجاج میں زیادہ تر معاشی نعرے تھے لیکن دوسرے روز سے سیاسی تقاضے بھی سامنے آنے لگے۔ مرگ بر ڈیکٹیٹر اور خامنہ ای اس سال ہٹائے جائیں جیسے نعرے سرعام لگائے گئے۔ کچھ شہروں میں بادشاہت کے حامی نعرے بھی سنائی دیے۔ جلاوطن شہزادہ رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پر عوام سے حکومت کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی۔
#BREAKING A video obtained by Iran International shows security forces shooting directly at protesters in Hamadan on Monday. pic.twitter.com/MiSXcdyrnp
— Iran International English (@IranIntl_En) December 29, 2025
احتجاج کی بنیادی وجوہات
احتجاج کی بنیادی وجہ ڈالر کے مقابلے میں ریال کی قدر میں تیزی سے گراوٹ ہے۔ ڈالر کی قیمت ہفتہ کے آخر تک 144,000 تومان تک پہنچ گئی تھی۔ دکان داروں کا کہنا ہے کہ کرنسی کی غیر مستحکم صورتحال کی وجہ سے اشیاء کی قیمتوں کا تعین اور کاروباری منصوبہ بندی مشکل ہو گئی ہے۔
اس بحرانی صورتحال کے دوران مرکزی بینک کے گورنر محمد رضا فرضین نے استعفیٰ دے دیا۔ صدر مسعود پزشک خان نے عبدالنصر ہمایتی کو نیا گورنر مقرر کیا ہے، جسے احتجاجات کو پرامن کرنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم اس کا فوری اثر نظر نہیں آیا۔
تہران کے تاجروں نے ہڑتال کو منگل تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ شاہید بہشتی یونیورسٹی اور امیرکبیر یونیورسٹی کے طلباء نے بھی منگل کو احتجاجی اجتماعات کا اعلان کیا ہے۔
احتجاجات کا ملک گیر پھیلاؤ، ان کی شدت اور ان کا متواتر جاری رہنا آنے والے دنوں میں یہ ظاہر کرے گا کہ آیا یہ تحریک صرف معاشی مطالبات تک محدود رہتی ہے یا سیاسی نظام کے لیے ایک بڑے چیلنج میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
دیکھیں: لبنان: ایرانی قدس فورس کے سینئر کمانڈر اسرائیلی حملے میں ہلاک