پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا نیا باب؛ پاک فضائیہ کے لڑاکا طیارے اسٹریٹجک معاہدے کے تحت کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پہنچ گئے۔ اس اقدام کا مقصد علاقائی امن اور دونوں افواج کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے

April 11, 2026

وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات؛ دونوں رہنماؤں نے خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے تعمیری انداز میں آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار کیا

April 11, 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات نازک مرحلے میں داخل۔ اسرائیل کو مذاکرات سبوتاژ کرنے والا بڑا فریق قرار دیتے ہوئے ماہرین نے واشنگٹن اور تہران کو لچک دکھانے اور دشمنوں کی سازشوں سے ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا ہے

April 11, 2026

ہرات میں مزار کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ طالبان دورِ حکومت میں آئی ایس کے پی کی بڑھتی ہوئی آپریشنل آزادی اور افغانستان کے دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے کی واضح نشاندہی کرتا ہے

April 11, 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اسحاق ڈار نے ان کا استقبال کیا۔ پاکستان کی میزبانی میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کا فیصلہ کن مرحلہ شروع ہو گیا ہے

April 11, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کی کامیاب سفارت کاری نے امریکہ اور ایران کے درمیان ایٹمی تصادم کا خطرہ ٹال دیا، جس کے نتیجے میں عالمی اسٹاک مارکیٹس میں 3.6 ٹریلین ڈالر کا تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا

April 11, 2026

پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کی ناکام کوشش؛ ایران و طالبان بیانیہ مسخ کرنے میں مصروف

ایرانی دارالحکومت میں سابق افغان کمانڈرز کے قتل کے پیچھے مبینہ طور پر طالبان اور سپاہ پاسداران کے عناصر کارفرما؛ پاکستان نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپنے موقف کی تصدیق کی
ایرانی دارالحکومت میں سابق افغان کمانڈرز کے قتل کے پیچھے مبینہ طور پر طالبان اور سپاہ پاسداران کے عناصر کارفرما؛ پاکستان نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپنے موقف کی تصدیق کی

جنرل ساری نے شہادت سے قبل خبردار کیا تھا کہ وہ اور دیگر سابق افغان فوجی ایران میں طالبان کی کارروائیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں

January 1, 2026

ایرانی دارالحکومت میں سابق افغان کمانڈرز کے قتل کے پیچھے مبینہ طور پر طالبان اور سپاہ پاسداران کے عناصر کارفرما ہیں۔ اس موقع پر پاکستان نے ایران و افغان میڈیا کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپنے مؤقف واضح کردیا۔

پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ ملک میں موجود سابق افغان فوجی افسران اور سیاسی شخصیات چاہے ان کا ماضی کچھ بھی رہا ہو ان کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔ سرکاری ترجمان کے مطابق پاکستان نے نہ کسی سابق فوجی کو ملک بدر کیا ہے اور نہ ہی طالبان کے ذریعے انہیں نقصان پہنچانے دیا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں مقیم سابق افغان فوجی رہنماﺅں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گذشتہ ہفتے طالبان کے مخالف سمجھے جانے والے جنرل اکرام الدین ساری اور ان کے ساتھی کمانڈر الماس کو تہران میں نامعلوم مسلح افراد نے قتل کر دیا۔ معتبر ذرائع کے مطابق اس واقعے میں طالبان کے خفیہ یونٹس اور ایران کی سپاہ پاسداران کے عناصر ملوث ہو سکتے ہیں۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جنرل ساری نے اپنی شہادت سے کچھ دن قبل ہی میڈیا کو بتایا تھا کہ ان سمیت ایران میں موجود کئی سابق افغان فوجی طالبان کی کاروائیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے ایرانی حکام سے تحفظ کی اپیل بھی کی تھی، تاہم اطلاعات کے مطابق انہیں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے۔

مبصرین کے مطابق اسلام آباد اور طالبان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد سے ایران نے طالبان کے ساتھ اپنے سیاسی و سیکیورٹی تعلقات میں اضافہ کیا ہے۔ اس پس منظر میں یہ کوششیں کی جا رہی ہیں کہ تہران میں ہونے والے قتل کا الزام پاکستان سمیت دیگر فریقین پر ڈال کر اصل مجرموں کو چھپایا جائے۔

ذرائع کے مطابق ایران نے گزشتہ عرصے میں سینکڑوں سابق افغان فوجیوں کے قانونی دستاویزات کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں افغستان کی سرحد پر طالبان کے حوالے کیا، جہاں درجنوں افراد کو ہلاک اور سینکڑوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

فی الحال ایران طالبان کو اپنا “قریبی دفاعی شراکت دار” قرار دیتا ہے دونوں کے درمیان تعاون عروج پر ہے، جبکہ طالبان ارکان ایران میں کئی سرگرمیوں میں بھی باقاعدگی سے حصہ لیتے رہتے ہیں۔

پاکستان نے اس ساری صورتحال میں اپنے رویے کو شفاف قرار دیتے ہوئے تمام سابق افغان فوجیوں کے ساتھ انسانی ہمدردی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق سلوک کرنے پر زور دیا ہے۔

دیکھیں: بھارتی فضائیہ نے پاکستانی سرحد کے قریب فضائی مشقوں کا اعلان کردیا

متعلقہ مضامین

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا نیا باب؛ پاک فضائیہ کے لڑاکا طیارے اسٹریٹجک معاہدے کے تحت کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پہنچ گئے۔ اس اقدام کا مقصد علاقائی امن اور دونوں افواج کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے

April 11, 2026

وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات؛ دونوں رہنماؤں نے خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے تعمیری انداز میں آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار کیا

April 11, 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات نازک مرحلے میں داخل۔ اسرائیل کو مذاکرات سبوتاژ کرنے والا بڑا فریق قرار دیتے ہوئے ماہرین نے واشنگٹن اور تہران کو لچک دکھانے اور دشمنوں کی سازشوں سے ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا ہے

April 11, 2026

ہرات میں مزار کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ طالبان دورِ حکومت میں آئی ایس کے پی کی بڑھتی ہوئی آپریشنل آزادی اور افغانستان کے دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے کی واضح نشاندہی کرتا ہے

April 11, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *