افغانستان کے ساتھ سرحدیں بند ہونے اور سخت نگرانی کے اقدامات کے بعد پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال میں واضح بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ سول سوسائٹی اور سکیورٹی ریسرچ سنٹر (سی آر ایس ایس) کی تازہ رپورٹ کے مطابق دسمبر میں دہشت گردی کے واقعات میں 17 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ نومبر میں یہ شرح 9 فیصد تھی۔
رپورٹ میں حاصل کردہ اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نومبر کے مقابلے دسمبر میں سکیورٹی واقعات میں بھی 19 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ نومبر میں یہ کمی 4 فیصد تھی۔
سکیورٹی امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سرحدی کنٹرول میں سخت اقدامات اور نگرانی کے نظام میں بہتری سے ملک کی سلامتی کی صورتحال پر فوری مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ رپورٹ آنے والے دنوں میں سکیورٹی پالیسیاں مرتب کرنے اور اقدامات طے کرنے کے لیے اہم بنیاد فراہم کرتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی سلامتی کو مزید مؤثر بنانے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو جاری رکھنے کے منصوبے پر عملدرآمد جاری ہے، جس سے ملک میں استحکام اور تحفظ کے ماحول کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
دیکھیں: افغان مہاجرین سے متعلق ماہرہ خان کا بیان اور پاکستان کو درپیش سیکیورٹی خدشات