شمالی افغانستان میں سونے کی کانوں پر قندھار اور ہلمند کے پشتون طالبان کے قبضوں کے خلاف بدخشاں کے بعد صوبہ فراح اور تخار میں بھی عوامی بغاوت شروع ہو چکی ہے ۔ تخار میں سونے کی کانوں پر پشتون قندھاری طالبان کی قبضے کی کوشش کے تنازع پر جمعہ کے روز ہونے والی لڑائی میں کم از کم 4 افراد کے ہلاک اور 11 زخمی ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے سونے کی کانوں پر قندھاریوں کے قبضے کی کوشش کے ردعمل میں بدخشاں میں بھی حالات کشیدہ ہیں اور بدخشاں کے صوبہ یفتل اور شہرِ بزرگ میں صورتحال شدید تناؤ کا شکار ہے۔
کسی بھی وقت جنگ چھڑ سکتی ہے، ان دونوں اضلاع میں اکتوبر میں بھی اسی تنازعہ پر ہونےو الی جھڑپوں میں کم ازکم 25افراد مارے گئے تھے ۔ بدخشاں سے شروع ہونےو الی قبضے اور مزاحمت کی لڑائی اب تخار پہنچ چکی ہے ۔ جہاں جمعہ کے روز مقامی رہائشیوں اور طالبان کے قبضہ کے لئے آنے والے پشتون دھڑے کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔طالبان میں ہمارے سورس کے مطابق جھڑپوں میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے ہیں۔لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب نماز جمعہ کے بعد مقامی افراد نے جن میں طالبان کے نان پشتون مقامی اہلکار بھی شامل تھے ، سونے کی ان کانوں پر قبضے کے خلاف احتجاج کیا اور اس موقع پر طالبان کے پشتون گروپ نے جو قبضے کے لئے آیا ہو اتھا ، ان پر فائرنگ کردی ۔
جوابی طور پر مقامی آبادی بھی مسلح ہو کر گھروں سے نکل آئی ، انہوں نے مشینری پر قبضہ کرلیا اور پشتون گروپ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا ، بعد ازاں جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات پشتون فورسز نے دوبارہ حملہ اور کان کا کنٹرول سنبھال لیا ہے ۔ سورس کے مطابق بدخشاں میں بھی حالات کشیدہ ہوگئے ہیں، جہاں شہرِ بزرگ اور یفتل ضلع میں مقامی نوجوان طالبان کے بر طرف کمانڈرعبدالرحمٰن عمار کی قیادت میں منظم ہو کر طالبان رجیم سے بغاوت کا اعلان کر چکے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق، قاری محبوب اللہ کشاف، جو بدخشاں میں گورنر کے سیکریٹری شفیق کا قریبی ساتھی اور ضلعی سربراہ مولوی امان الدین کا منظورِ نظر ہے، اس نے ’’داونگ‘‘ کے علاقے میں مقامی زمین مالکان سے زبردستی سونے کی 6 کانیں چھین لی ہیں ، جب کہ اسی ضلع میں 10 سے زائد دیگر کانوں پر پہلے سے قبضہ کیا ہوا ہے ۔
دوسری جانب صوبہ فراہ میں طالبان گورنر سے وابستہ افراد نے بھی کئی سونے کی کانوں پر قبضے کا سلسلہ جاری رکھا ہواہے۔ یہاں بسم اللہ مستری اور محمود نامی گورنر کے کارندے لوٹ مار اور قبضے میں پیش پیش پیش دکھائی دیتے ہیں ۔ بدخشاں کے ضلع جرم کے طالبان ضلعی گورنر مولوی غیاث، جو ضلع یفتل کے رہائشی ہیں، نے بھی کئی منصوبوں پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے اور کان کنی کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔بدخشاں میں 12سے 27اکتوبر کے دوران قندھار اور ہلمند سے تعلق رکھنے والے پشتون طالبان کے سونے کی کانوں پر قبضے کے خلاف مقامی سطح کےغیر پشتون طالبان کی مزاحمت اور جھڑپوں کے بعد بر طرف شدہ غیر پشتون طالبان کمانڈر عبدالرحمٰن عمار کی قیادت میں ضلع یفتل میں کماندر حسیب عمر اور شہر بزرگ میں علیم الدین فطرت 28اکتوبر کو طالبان حکومت سے بغاوت کا اعلان کر چکے ہیں اور ان کے ساتھ بڑی تعداد میں طالبان کے غیر پشتون اور عام فارسی بان نوجوان بھی شریک ہورہے ہیں ۔
دیکھیں: ایران میں احتجاجی مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم، چھ افراد ہلاک