افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کی موجودگی سے انکار کا جھوٹ بے نقاب ہو گیا ۔ 2جنوری سے 3جنوری کے دوران ٹی ٹی پی کی ایگزیکٹو کونسل کا ہنگامہ خیز اجلا س کابل کے علاقے وزیر اکبر خان میں ہوا۔ اجلاس کی صدارت نور ولی نے کی ۔ اجلاس کے دوران 2026 میں ٹی ٹی پی کی عمومی تشکیلات اور پاکستان کے اندر دہشت گردی کی نئی پالیسی پر بحث کی گئی ۔
نور ولی نے ٹی ٹی پی کی نئی قیادت اور تشکیلات کی منظوری لی ۔کابل کے وزیر اکبر خان میں ایک انتہائی محفوظ سرکاری گیسٹ ہاؤس میںٹی ٹی پی کے رہنماؤں کا اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب افغان طالبان افغان سرزمین پر ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی موجودگی سے انکار کر رہے ہیں۔ ہمارے نے انکشاف کیا ہے کہ اجلاس انتہائی بے یقینی کے عالم میں ہوا ، جہاں ہر دہشت گرد لیڈر کی جامہ تلاشی لی گئی ، کسی بھی دہشت گرد کمانڈر کو فون ، وائر لیس یہاں تک کے الیکڑانک گھڑی تک ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی ، سکیورٹی اور کسی ٹی ٹی پی مخالف ایجنٹ کے خوف سے تمام لوگوں کی میٹنگ کے مقام سے دور ایک گیسٹ ہاوئس میں تلاشی لی گئی ، سب کچھ وہاں رکھوا کر انہیں سخت سکیورٹی میں پنجشیر جی ڈی آئی کے کابل میں موجود گیسٹ ہائوس لایا گیا ، جہاں اجلاس ہو رہا تھا ۔
اہم بات یہ رہی کہ ٹی ٹی پی کی قیادت میں اس قدر خوف پایا گیا کہ ہر کوئی ہر دوسرے پر شک کر رہا تھا ، احتیاط کا یہ عالم دیکھا گیا کہ اجلاس ایک دن ایک گیسٹ ہائو س میں ہوا جو کابل میں جی ڈی آئی پنج شیر کے زیر استعمال تھا ،رات کو پوری قیادت کو الگ الگ نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا اور اگلے روز اجلا س ایک دوسرے گیسٹ ہائوس میں ہو ا۔اجلاس میں جماعۃ الاحرار کے کسی دہشت گرد کو شریک نہیں کیا گیا ، جبکہ جاری کردہ ٹی ٹی پی کے سٹرکچر میں بھی جماعۃ الاحرار کے دہشت گردوں کو مکمل طور پر خٓرج کردیا گیا ہے ۔
سورس کے مطابق انہیں دنوں یعنی2 اور 3جنوری کو جماعۃ الاحرار کا اجلاس صوبہ پکتیکا کے علاقہ برمل میں دہشت گردوں کے مرکز میں ہوا ، جس میں جماعۃ الاحرار کے سربراہ عمر مکرم خراسانی سر کی قیمت یک کروڑ اور مکمل شاہ عرف سربکف مہمند سر کی قیمت 50لاکھ بھی شریک ہوئے ۔
دیکھیں: وینزویلا کے وزیر داخلہ کی عوام کو قیادت پر اعتماد اور جارح قوتوں سے تعاون نہ کرنے کی اپیل