ایران کے جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی نے ملک میں جاری عوامی احتجاج کے تناظر میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایرانی عوام اور سیکیورٹی فورسز سے حکومت کے خاتمے کی اپیل کی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں رضا پہلوی نے کہا کہ ایران کی موجودہ قیادت خوف کا شکار ہے اور چھپ کر قوم کو دھمکیاں دے رہی ہے، جبکہ ملک بھر میں مظاہرے اسلامی جمہوریہ کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ احتجاج اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام موجودہ نظام سے تنگ آ چکے ہیں۔
علی خامنهای، هراسان از امواج خیزش ملی، از مخفیگاه خود بیرون آمد و ملت ایران را تهدید کرد.
— Reza Pahlavi (@PahlaviReza) January 3, 2026
خامنهای! ما ملت ایران، تو را همچون ضحاک از صندلی لرزانت به زیر خواهیم کشید و ایرانمان را از شر تو و رژیمت آزاد خواهیم کرد.
به نیروهای نظامی و انتظامی! سرنوشت خود را به کشتیِ در حال غرق…
رضا پہلوی نے دعویٰ کیا کہ ایرانی عوام بالآخر آیت اللہ خامنہ ای کو اقتدار سے ہٹا دیں گے اور اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کی راہ ہموار کریں گے۔ انہوں نے اس جدوجہد کو تاریخی تناظر میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک جابر اور بدعنوان نظام سے ایران کی آزادی کی تحریک ہے۔
انہوں نے ایرانی فوج اور سیکیورٹی اداروں سے بھی براہِ راست خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت سے فاصلہ اختیار کریں اور عوام کے ساتھ کھڑے ہوں۔ رضا پہلوی نے خبردار کیا کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال میں ملوث عناصر کی شناخت کی جائے گی اور انہیں جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح افواج کا اصل کردار عوام کا تحفظ ہے، نہ کہ ایسے نظام کا دفاع جو اپنی ساکھ کھو چکا ہو۔
رضا پہلوی نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ پیچھے نہ ہٹیں بلکہ شہروں اور قصبوں میں احتجاج کو مزید وسعت دیں۔ ان کے مطابق دنیا کی نظریں ایران پر جمی ہوئی ہیں اور عالمی رائے عامہ بتدریج مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کر رہی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کو شدید معاشی مشکلات، سیاسی بے چینی اور بڑھتے ہوئے عوامی غصے کے باعث وسیع پیمانے پر مظاہروں کا سامنا ہے، جبکہ حکام مزید بدامنی کے خلاف خبردار کر رہے ہیں اور اپوزیشن حلقے مزاحمت جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔
دیکھیں: ایران میں احتجاجی مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم، چھ افراد ہلاک