افغان طالبان کے امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے اندرونی دباؤ، اختلافات اور طاقت کے ارتکاز کے پیشِ نظر ریاستی و عسکری اداروں میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی تبادلوں اور تقرریوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ تازہ حکم نامے کے تحت 25 سے زائد سینئر عہدیداروں کے تبادلے اور نئی تعیناتیاں عمل میں لائی گئی ہیں، جن میں صوبائی گورنرز، کور کمانڈرز، بریگیڈ کمانڈرز اور اعلیٰ سول حکام شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام وزارتِ داخلہ اور وزارتِ دفاع میں اختیارات کو مزید مرکزی سطح پر مرکوز کرنے اور وفادار عناصر کو اہم عہدوں پر نوازنے کی کوشش ہے۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق تمام تقرریاں براہِ راست امیرِ طالبان ہیبت اللہ اخوندزادہ کی منظوری اور احکامات کے تحت کی گئی ہیں۔ ان تبدیلیوں کے تحت صوبہ سرپل کے گورنر مولوی محمد ظریف مظفر کو 205 البدر کور کا کمانڈر مقرر کیا گیا، جبکہ پنجشیر اسپیشل بریگیڈ کے نائب کمانڈر ملا عتیق اللہ حبیب کو اسی کور کا معاون بنایا گیا ہے۔ اسی طرح 203 منصوری کور، 209 الفتح کور اور 215 العزم کور میں بھی اہم عسکری تبادلے کیے گئے ہیں، جبکہ وزارتِ دفاع میں متعدد محکموں کی قیادت تبدیل کر دی گئی ہے۔
صوبائی سطح پر بھی نمایاں رد و بدل دیکھنے میں آیا ہے، جہاں جوزجان اور بامیان کے گورنرز کا تبادلہ کیا گیا، مختلف صوبوں میں نئے پولیس کمانڈرز تعینات کیے گئے، اور قندھار میں میئرز، سیکیورٹی زون کمانڈرز اور ضلعی حکام کو تبدیل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مہاجرین، شہری ترقی، برقی کمپنیوں، شہداء و معذورین اور انسدادِ بدعنوانی جیسے محکموں میں بھی نئی تقرریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ وسیع پیمانے کی تبدیلیاں طالبان قیادت کے اندر بڑھتی بے چینی، طاقت کی کشمکش اور مرکزی کنٹرول مضبوط کرنے کی عکاس ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے اگرچہ ہیبت اللہ اخوندزادہ اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتے ہیں، تاہم اس سے طالبان حکومت کے اندر موجود اختلافات اور ادارہ جاتی عدم استحکام مزید نمایاں ہو سکتا ہے۔
دیکھیں: افغان سرحد بند ہونے سے پاکستان کی سکیورٹی صورتحال بہتر، دہشت گردی کے واقعات میں 17 فیصد کمی