ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل میجر جنرل احمد شریف کی افغانستان کی سکیورٹی صورتحال اور سرحدی خطرات سے متعلق دی گئی حالیہ پریس بریفنگ پر افغانستان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان پر بے بنیاد پروپیگنڈا پھیلانے کا الزام عائد ہے۔
ایکس ٹویٹر پر جاری کردہ بیان میں افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے مؤقف کو حقیقت سے کوسوں دور اور ایک ذمہ دار فوجی عہدے کے شایانِ شان نہیں قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ افغانستان ایک آزاد، مستحکم اور خودمختار ریاست ہے جہاں ایک مضبوط سکیورٹی ڈھانچہ اور فیصلہ کن قیادت پورے ملک پر مؤثر کنٹرول رکھتی ہے۔
د پاکستان د پوځ د ویاند د تبصرو په اړه:
— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) January 6, 2026
د پاکستان د پوځ د ویاند وروستۍ تبصرې چې د یو خبري کنفرانس په ترڅ کې یې د افغانستان حکومتي او اجتماعي ساختار په اړه کړي دي، نه یوازې له واقعیت سره هیڅ تړاو نه لري، بلکې د یو مسؤل پوځي موقف له معیارونو سره هم په ټکر کې دي.
۴/۱
افغان ترجمان ملا ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان پر افغانستان کے بارے میں منفی بیانیہ تشکیل دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو افغان امور پر تبصرے کرنے کے بجائے اپنے داخلی تحدیات اور مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت یا دھمکی آمیز لہجہ افغان عوام اور حکومت کے لیے کسی بھی صورت میں قبول نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کا مؤقف
پاکستانی سکیورٹی ادراوں اور پالیسی حلقوں نے طالبان ترجمان کے بیان کو حقائق و زمینی حقائق کے برعکس اور ذمہ داری سے فرار قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا پروپیگنڈے کا الزام درحقیقت حقیقت اس مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے کہ افغان سرزمین سے سرحد پار دہشت گردانہ حملے جاری ہیں، جن میں پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی اداروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کو ‘مکمل طور پر مستحکم’ قرار دینا اقوامِ متحدہ کی تحقیقات کے منافی ہے جن کے مطابق افغان سرزمین تحریکِ طالبان پاکستان اور داعش خراسان جیسی تنظیموں کے لیے پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ پاکستان سے داخلی مسائل پر توجہ دینے کا مطالبہ بھی افغان طالبان کی اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے، جن کے باعث پاکستان کو اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے اضافی دفاعی اقدامات اٹھانا پڑ رہے ہیں۔
دہشت گردوں سے روابط اور ثبوت
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان ترجمان ملا ذبیح اللہ مجاہد کے بیانات طالبان کے ان واضح روابط کو چھپانے کی کوشش ہیں جن کے تحت ٹی ٹی پی سمیت دہشت گرد گروہوں کو پناہ اور باقاعدہ سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی تحقیات میں طالبان حکومت اور ٹی ٹی پی کے مابین مسلح افراد، فنڈز اور سازوسامان کی منتقلی کے شواہد درج ہیں، جو طالبان کے دعوؤں کے برعکس ہیں۔
ماہرین کے نزدیک افغان طالبان کی خودمختاری اور استحکام کے دعوے اس وقت مزید کمزور پڑ جاتے ہیں جب ان کی حکمرانی کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر انتہا پسند اور بنیادی شہری حقوق سے عاری قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کا واضح مؤقف
پاکستانی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حقائق پیش کرنے پر پروپیگنڈے کا الزام لگانا طالبان کی انہی کوششوں کا حصہ ہیں جس کا مقصد عالمی توجہ افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس اور انہیں درپیش چیلنجز سے ہٹانا ہے۔
پاکستان کی جانب سے اس بات پر مسلسل زور دیا جاتا رہا ہے کہ وہ خطے میں استحکام، تعمیری بات چیت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے پرعزم ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں اور پاکستان نے افغان حکام کے ساتھ تعاون کے مواقع بارہا پیش کیے ہیں۔
دیکھیں: برطانیہ میں غیر قانونی مقیم افغان شہری کی 2 خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کی کوشش، گرفتار کر لیا گیا