"> دوحہ معاہدے پر زلمے خلیل زاد کے بیانات اور افغان طالبان کے دہشت گرد گروہوں سے ساتھ روابط - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

دوحہ معاہدے پر زلمے خلیل زاد کے بیانات اور افغان طالبان کے دہشت گرد گروہوں سے ساتھ روابط

سابق امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کے مطابق امن معاہدے کی ’’گیند پاکستان کے کورٹ میں ہے‘‘ تاہم ماہرین کے مطابق کامیابی افغان طالبان کی پالیسیاں اور دہشت گرد گروہوں سے تعلقات پر منحصر ہے
سابق امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کے مطابق امن معاہدے کی ’’گیند پاکستان کے کورٹ میں ہے‘‘ تاہم ماہرین کے مطابق کامیابی افغان طالبان کی پالیسیاں اور دہشت گرد گروہوں سے تعلقات پر منحصر ہے

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کا دوہرا معیار پاکستان اور خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے

January 7, 2026

افغانستان کے لیے سابق امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ خطے میں امن معاہدے کی ’’گیند اب پاکستان کے کورٹ میں ہے‘‘ اور معاہدے کا انحصار پاکستان کی سنجیدگی پر ہے۔ تاہم سکیورٹی حلقے اور زمینی حقائق اس کے برعکس بتاتے ہیں۔

سکیورٹی ماہرین کے مطابق معاہدے اور فیصلے کا انحصار افغان طالبان کی پالیسیوں اور طرزِ عمل پر ہے، جو سرحد پار دہشت گرد گروہوں بالخصوص تحریکِ طالبان پاکستان اور داعش خراسان کو پناہ گاہیں، سہولیات اور معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ خلیل زاد کی گفتگو اور مذاکرات کی باتوں کے برعکس افغان طالبان کا عملی رویّہ غیر سنجیدگی اور دہشت گرد گروہوں سے روابط پر استدلال کرتا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق طالبان کے دہشت گرد تنظیموں سے گہرے روابط اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ وہ مذاکراتی بیانات اور دہشت گرد گروہوں سے لاتعلقی کا اعلان کرنے کے باوجود انکے خلاف موثر و عملی اقدامات کرنے میں ناکام ہیں۔ انہوں نے نہ تو افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے مؤثر و عملی اقدامات کیے ہیں اور نہ ہی سرحد پار حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کا یہ دوہرا معیار نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر کوئی معاہدہ یا نگرانی کے اقدامات ممکن ہیں تو ان کا انحصار مکمل طور پر طالبان کی طرف سے دہشت گرد گروہوں سے تعلقات منقطع کرنے اور عملی سنجیدگی دکھانے پر ہے، نہ کہ پاکستان کی نیت پر یا پھر گیند اب پاکستان کے کورٹ میں ہے جیسے بیانات پر۔

اس تناظر میں زمینی حقیقت یہی کہتے ہیں کہ طالبان کی موجودہ پالیسیاں اور دہشت گردوں کے ساتھ روابط کسی بامعنی معاہدے کے امکانات کو شدید محدود کر دیتے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے دفاعی اقدامات اٹھا رہا ہے، اور طالبان کی غیر سنجیدگی خطے کی صورتحال کو مزید گمبھیر بنا رہی ہے۔

دیکھیں: برطانیہ میں غیر قانونی مقیم افغان شہری کی 2 خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کی کوشش، گرفتار کر لیا گیا

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *