امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر آگیا ہے۔

July 18, 2026

افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے 5 سال بعد پہلی بار مخالف جنگجوؤں نے یفتلِ سفلی ضلع کے ہیڈکوارٹر پر عارضی قبضہ کر لیا، اسلحہ و گاڑیاں قبضے میں لے کر فرار ہو گئے۔

July 18, 2026

ایران کے ہرمزگان میں امریکی حملوں میں مزید 3 افراد جاں بحق۔ ایران کا اردن میں امریکی اڈے پر میزائل حملہ، ڈرون مار گرانے اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کا دعویٰ۔

July 18, 2026

امریکہ ایران تنازع میں جہاں دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدہ سبوتاژ کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، وہیں اصل قیمت خطے کے وہ ممالک چکا رہے ہیں جن کا اس جنگ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔

July 18, 2026

اسلام آباد میں منعقدہ پاک چین بزنس کانفرنس میں فارماسیوٹیکل شعبے کے مابین 44 کروڑ ڈالرز مالیت کے 9 معاہدے طے پا گئے، جس کے تحت ٹیکنالوجی منتقل اور مقامی طور پر ویکسین تیار ہوگی۔

July 17, 2026

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمتی گروہ نے ایک بڑی کارروائی کے دوران ضلع یفتل کا کنٹرول حاصل کر کے وہاں موجود اسلحہ اور فوجی سازوسامان اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

July 17, 2026

دوحہ معاہدے پر زلمے خلیل زاد کے بیانات اور افغان طالبان کے دہشت گرد گروہوں سے ساتھ روابط

سابق امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کے مطابق امن معاہدے کی ’’گیند پاکستان کے کورٹ میں ہے‘‘ تاہم ماہرین کے مطابق کامیابی افغان طالبان کی پالیسیاں اور دہشت گرد گروہوں سے تعلقات پر منحصر ہے
سابق امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کے مطابق امن معاہدے کی ’’گیند پاکستان کے کورٹ میں ہے‘‘ تاہم ماہرین کے مطابق کامیابی افغان طالبان کی پالیسیاں اور دہشت گرد گروہوں سے تعلقات پر منحصر ہے

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کا دوہرا معیار پاکستان اور خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے

January 7, 2026

افغانستان کے لیے سابق امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ خطے میں امن معاہدے کی ’’گیند اب پاکستان کے کورٹ میں ہے‘‘ اور معاہدے کا انحصار پاکستان کی سنجیدگی پر ہے۔ تاہم سکیورٹی حلقے اور زمینی حقائق اس کے برعکس بتاتے ہیں۔

سکیورٹی ماہرین کے مطابق معاہدے اور فیصلے کا انحصار افغان طالبان کی پالیسیوں اور طرزِ عمل پر ہے، جو سرحد پار دہشت گرد گروہوں بالخصوص تحریکِ طالبان پاکستان اور داعش خراسان کو پناہ گاہیں، سہولیات اور معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ خلیل زاد کی گفتگو اور مذاکرات کی باتوں کے برعکس افغان طالبان کا عملی رویّہ غیر سنجیدگی اور دہشت گرد گروہوں سے روابط پر استدلال کرتا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق طالبان کے دہشت گرد تنظیموں سے گہرے روابط اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ وہ مذاکراتی بیانات اور دہشت گرد گروہوں سے لاتعلقی کا اعلان کرنے کے باوجود انکے خلاف موثر و عملی اقدامات کرنے میں ناکام ہیں۔ انہوں نے نہ تو افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے مؤثر و عملی اقدامات کیے ہیں اور نہ ہی سرحد پار حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کا یہ دوہرا معیار نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر کوئی معاہدہ یا نگرانی کے اقدامات ممکن ہیں تو ان کا انحصار مکمل طور پر طالبان کی طرف سے دہشت گرد گروہوں سے تعلقات منقطع کرنے اور عملی سنجیدگی دکھانے پر ہے، نہ کہ پاکستان کی نیت پر یا پھر گیند اب پاکستان کے کورٹ میں ہے جیسے بیانات پر۔

اس تناظر میں زمینی حقیقت یہی کہتے ہیں کہ طالبان کی موجودہ پالیسیاں اور دہشت گردوں کے ساتھ روابط کسی بامعنی معاہدے کے امکانات کو شدید محدود کر دیتے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے دفاعی اقدامات اٹھا رہا ہے، اور طالبان کی غیر سنجیدگی خطے کی صورتحال کو مزید گمبھیر بنا رہی ہے۔

دیکھیں: برطانیہ میں غیر قانونی مقیم افغان شہری کی 2 خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کی کوشش، گرفتار کر لیا گیا

متعلقہ مضامین

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر آگیا ہے۔

July 18, 2026

افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے 5 سال بعد پہلی بار مخالف جنگجوؤں نے یفتلِ سفلی ضلع کے ہیڈکوارٹر پر عارضی قبضہ کر لیا، اسلحہ و گاڑیاں قبضے میں لے کر فرار ہو گئے۔

July 18, 2026

ایران کے ہرمزگان میں امریکی حملوں میں مزید 3 افراد جاں بحق۔ ایران کا اردن میں امریکی اڈے پر میزائل حملہ، ڈرون مار گرانے اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کا دعویٰ۔

July 18, 2026

امریکہ ایران تنازع میں جہاں دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدہ سبوتاژ کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، وہیں اصل قیمت خطے کے وہ ممالک چکا رہے ہیں جن کا اس جنگ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔

July 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *