چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے ترکمانستانی سفیر سے ملاقات میں توانائی، تجارت اور ٹاپئی گیس منصوبے سمیت سٹریٹجک تعاون بڑھانے پر زور دیا

March 5, 2026

و جی ڈی سی ایل نے کوہاٹ کے نشپا بلاک سے یومیہ 3765 بیرل تیل اور ایک کروڑ 12 لاکھ مکعب فٹ گیس کی بڑی دریافت کا اعلان کیا ہے

March 5, 2026

چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای نے سعودی اور اماراتی ہم منصبوں سے رابطے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ثالثی کے لیے نمائندہ خصوصی بھیجنے کا اعلان کیا ہے

March 5, 2026

النصر کلب کے اسٹار کھلاڑی اپنے نجی طیارے کےای ذریعے سعودی عرب سے اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ روانہ ہو گئے ہیں

March 5, 2026

کشمیر انسٹیٹیوٹ جانب سےایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی مظالم نے کشمیری عوام کی ذہنی صحت کو شدید متاثر کیا ہے

March 5, 2026

شعیب ملک نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی چوتھی شادی سے متعلق افواہوں کو بے بنیاد قرار دے دیا

March 5, 2026

دوحہ معاہدے پر زلمے خلیل زاد کے بیانات اور افغان طالبان کے دہشت گرد گروہوں سے ساتھ روابط

سابق امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کے مطابق امن معاہدے کی ’’گیند پاکستان کے کورٹ میں ہے‘‘ تاہم ماہرین کے مطابق کامیابی افغان طالبان کی پالیسیاں اور دہشت گرد گروہوں سے تعلقات پر منحصر ہے
سابق امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کے مطابق امن معاہدے کی ’’گیند پاکستان کے کورٹ میں ہے‘‘ تاہم ماہرین کے مطابق کامیابی افغان طالبان کی پالیسیاں اور دہشت گرد گروہوں سے تعلقات پر منحصر ہے

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کا دوہرا معیار پاکستان اور خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے

January 7, 2026

افغانستان کے لیے سابق امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ خطے میں امن معاہدے کی ’’گیند اب پاکستان کے کورٹ میں ہے‘‘ اور معاہدے کا انحصار پاکستان کی سنجیدگی پر ہے۔ تاہم سکیورٹی حلقے اور زمینی حقائق اس کے برعکس بتاتے ہیں۔

سکیورٹی ماہرین کے مطابق معاہدے اور فیصلے کا انحصار افغان طالبان کی پالیسیوں اور طرزِ عمل پر ہے، جو سرحد پار دہشت گرد گروہوں بالخصوص تحریکِ طالبان پاکستان اور داعش خراسان کو پناہ گاہیں، سہولیات اور معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ خلیل زاد کی گفتگو اور مذاکرات کی باتوں کے برعکس افغان طالبان کا عملی رویّہ غیر سنجیدگی اور دہشت گرد گروہوں سے روابط پر استدلال کرتا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق طالبان کے دہشت گرد تنظیموں سے گہرے روابط اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ وہ مذاکراتی بیانات اور دہشت گرد گروہوں سے لاتعلقی کا اعلان کرنے کے باوجود انکے خلاف موثر و عملی اقدامات کرنے میں ناکام ہیں۔ انہوں نے نہ تو افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے مؤثر و عملی اقدامات کیے ہیں اور نہ ہی سرحد پار حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کا یہ دوہرا معیار نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر کوئی معاہدہ یا نگرانی کے اقدامات ممکن ہیں تو ان کا انحصار مکمل طور پر طالبان کی طرف سے دہشت گرد گروہوں سے تعلقات منقطع کرنے اور عملی سنجیدگی دکھانے پر ہے، نہ کہ پاکستان کی نیت پر یا پھر گیند اب پاکستان کے کورٹ میں ہے جیسے بیانات پر۔

اس تناظر میں زمینی حقیقت یہی کہتے ہیں کہ طالبان کی موجودہ پالیسیاں اور دہشت گردوں کے ساتھ روابط کسی بامعنی معاہدے کے امکانات کو شدید محدود کر دیتے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے دفاعی اقدامات اٹھا رہا ہے، اور طالبان کی غیر سنجیدگی خطے کی صورتحال کو مزید گمبھیر بنا رہی ہے۔

دیکھیں: برطانیہ میں غیر قانونی مقیم افغان شہری کی 2 خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کی کوشش، گرفتار کر لیا گیا

متعلقہ مضامین

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے ترکمانستانی سفیر سے ملاقات میں توانائی، تجارت اور ٹاپئی گیس منصوبے سمیت سٹریٹجک تعاون بڑھانے پر زور دیا

March 5, 2026

و جی ڈی سی ایل نے کوہاٹ کے نشپا بلاک سے یومیہ 3765 بیرل تیل اور ایک کروڑ 12 لاکھ مکعب فٹ گیس کی بڑی دریافت کا اعلان کیا ہے

March 5, 2026

چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای نے سعودی اور اماراتی ہم منصبوں سے رابطے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ثالثی کے لیے نمائندہ خصوصی بھیجنے کا اعلان کیا ہے

March 5, 2026

النصر کلب کے اسٹار کھلاڑی اپنے نجی طیارے کےای ذریعے سعودی عرب سے اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ روانہ ہو گئے ہیں

March 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *