اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جادون نے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی فریق کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی ہر شکل کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے مسئلے پر بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے مطابق قانونی مؤقف اختیار کرے گا۔
عثمان جادون نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن اور کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) کے غیرجانبدار کردار کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ اس کنونشن کا نفاذ عالمگیر اور غیر امتیازی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔
انہوں نے شام کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور وحدت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک میں کسی بھی سیاسی عمل کی قیادت شامی عوام اور ان کی قانونی حکومت کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔ پاکستانی مندوب نے اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور قبضے کو شام کی سلامتی اور او پی سی ڈبلیو کے تکنیکی کام کے لیے رکاوٹ قرار دیا۔
عثمان جادون نے دہشت گردی اور غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی کو شام میں استحکام کے حصول کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے شام کے اس عزم کی تعریف کی کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن پر مکمل عمل درآمد کرے گا اور مشتبہ مقامات کو محفوظ بنائے گا۔
پاکستانی مندوب نے او پی سی ڈبلیو کے تکنیکی سیکریٹریٹ کے ساتھ شام کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ تنظیم کو شام میں آزادانہ اور بلا رکاوٹ تصدیقی کارروائیاں کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے شام میں او پی سی ڈبلیو کی مستقل موجودگی کی بحالی کو ایک مثبت قدم قرار دیا اور بین الاقوامی معاونت کی ضرورت پر زور دیا۔
اختتام پر سفیر عثمان جادون نے کہا کہ پاکستان امن، تخفیف اسلحہ اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں پر اپنے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاری رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے تمام باقی ماندہ مسائل حل ہو جائیں گے اور کیمیائی ہتھیاروں سے متعلقہ معاملات پر بروقت تصفیہ ہو سکے گا۔
دیکھیں: اسرائیل کا آبادکاروں کو راکٹوں سمیت بھاری اسلحہ فراہم کرنے کا منصوبہ