محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) خیبرپختونخوا نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پشاور، خیبر اور بنوں کے مختلف علاقوں میں انٹیلیجنس بیسڈ اور ٹارگٹڈ آپریشنز کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 8 خطرناک دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں دو اہم کمانڈرز بھی شامل ہیں۔
سی ٹی ڈی کے مطابق پشاور میں خفیہ اطلاع پر قبرستان کے قریب ایمبوش کیا گیا، جہاں فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ اسی طرح ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں پولیس پر حملے کی تیاری ناکام بناتے ہوئے بروقت کارروائی میں مزید 3 دہشتگردوں کو مارا گیا۔
بنوں میں کیے گئے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران دو اہم کمانڈرز، سہیل عرف سنگری اور اسماعیل عرف عثمان، مارے گئے۔ سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ یہ دہشتگرد پولیس چیک پوسٹس اور ریسکیو 1122 کی عمارت پر آئی ای ڈی حملوں میں ملوث تھے۔
آپریشنز کے دوران دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ، شناختی کارڈز اور ٹی ٹی پی کا کارڈ بھی برآمد ہوا ہے، جبکہ علاقے میں مزید سہولت کاروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
آئی جی خیبرپختونخوا کے مطابق سی ٹی ڈی کی ان کامیاب کارروائیوں سے بڑے دہشتگردی منصوبے ناکام بنا دیے گئے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے ایسے آپریشنز مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔
گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی اداروں کی مثالی کارکردگی