تخار صوبے کے نائب گورنر ڈمولہ محمد نادر حقجو کے بیٹے محمد فتح سمیت دو بچوں کو اتوار کی دوپہر سَرِ پُل کے مرکزی علاقے سے اغوا کیا گیا۔ افغان میڈیا نے ابتدائی طور پر واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے عوام سے معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔
ذرائع کے مطابق شام تک دونوں بچوں کو رہا کر دیا گیا۔ بعض اطلاعات میں بتایا گیا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران دو مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔ خیال رہے کہ طالبان حکام نے اب تک اس واقعے پر سرکاری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
یہ واقعہ اس پسِ منظر میں سامنے آیا ہے جب افغانستان میں اغواء، قتل اور دیگر جرائم میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں طالبان کے دعوؤں کے باوجود ملک میں قانون و انتظام کی صورت حال پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ حفاظتی چیلنجوں کا یہ سلسلہ اب طالبان کے اپنے عہدیداروں اور ان کے خاندانوں کو بھی متاثر کرنے لگا ہے، جس سے حکام کی جانب سے امن و امان کے دعووں کی مشکلات واضح ہوتی ہیں۔
𝗦𝗼𝗻 𝗼𝗳 𝗧𝗮𝗹𝗶𝗯𝗮𝗻 𝗗𝗲𝗽𝘂𝘁𝘆 𝗚𝗼𝘃𝗲𝗿𝗻𝗼𝗿 𝗞𝗶𝗱𝗻𝗮𝗽𝗽𝗲𝗱, 𝗟𝗮𝘁𝗲𝗿 𝗙𝗿𝗲𝗲𝗱 𝗶𝗻 𝗦𝗮𝗿-𝗲 𝗣𝘂𝗹
— Afghan Analyst (@AfghanAnalyst2) January 11, 2026
On Sunday afternoon, two children, including Mohammad Fateh, the son of the Taliban’s deputy governor for Takhar, Damula Mohammad Nadir Haqjo, were reportedly… pic.twitter.com/4am7nBbk0Y
سیکورٹی ماہرین کے مطابق ایسے واقعات نہ صرف عام شہریوں بلکہ حکومتی اہلکاروں کے تحفظ کے نظام پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔ عوامی حلقوں میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی بہتر بنائے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔
دیکھیں: گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی اداروں کی مثالی کارکردگی