"> طالبان حکومت کے چیف جسٹس کا ''تاریخی انصاف''؛ 10  فیصد رشوت کے عوض تاریخی مقام باغ بالا کو بیچ ڈالا - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

طالبان حکومت کے چیف جسٹس کا ”تاریخی انصاف”؛ 10  فیصد رشوت کے عوض تاریخی مقام باغ بالا کو بیچ ڈالا

ذرائع کے مطابق باغِ بالا وہ تاریخی مقام ہے جہاں افغان شاہ کا محل واقع ہے، جسے اشرف غنی کے دورِ حکومت میں امریکی فنڈز سے دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ مقام تاریخی ورثہ ہونے کے باعث عوامی اور تجارتی تعمیرات کے لیے ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ تاہم الزام ہے کہ مولوی عبدالحکیم حقانی نے چیف جسٹس کی حیثیت سے خصوصی اجازت دے کر یہاں کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی۔
طالبان حکومت کے چیف جسٹس کا ''تاریخی انصاف''؛ 10  فیصد رشوت کے عوض تاریخی مقام باغ بالا کو بیچ ڈالا

حبیب اللہ آذئی کے بزنس پارٹنر اور سابق وزیرِ اطلاعات و ثقافت کریم خرم نے اس ڈیل کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ باغِ بالا کے اس حصے پر شادی ہال اور ایک پیٹرول پمپ تعمیر کیا جا رہا ہے۔

January 12, 2026

طالبان کے وزیرِ انصاف اور چیف جسٹس مولوی عبدالحکیم حقانی ایک متنازع فیصلے کے باعث شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں، جہاں کابل کے تاریخی مقام باغِ بالا کی پہاڑی کے تقریباً 10 فیصد حصے کو سابق حکومت کے قریبی صنعتکار اور تاجر حبیب اللہ آذئی (څازي) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

افغان انٹرنیشنل نیوز ویب سائٹ کے مطابق یہ تاریخی مقام ایک معاہدے کے تحت ایسے شخص کے سپرد کیا گیا جو ماضی میں طالبان مخالف سابق حکومت کا وفادار سمجھا جاتا تھا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت مولوی عبدالحکیم حقانی کے بھائی کو کسی سرمایہ کاری کے بغیر اس منصوبے میں 10 فیصد شراکت دی گئی۔

حبیب اللہ آذئی کے بزنس پارٹنر اور سابق وزیرِ اطلاعات و ثقافت کریم خرم نے اس ڈیل کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ باغِ بالا کے اس حصے پر شادی ہال اور ایک پیٹرول پمپ تعمیر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق باغِ بالا وہ تاریخی مقام ہے جہاں افغان شاہ کا محل واقع ہے، جسے اشرف غنی کے دورِ حکومت میں امریکی فنڈز سے دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ مقام تاریخی ورثہ ہونے کے باعث عوامی اور تجارتی تعمیرات کے لیے ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ تاہم الزام ہے کہ مولوی عبدالحکیم حقانی نے چیف جسٹس کی حیثیت سے خصوصی اجازت دے کر یہاں کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس اجازت کے بدلے مولوی عبدالحکیم کے بھائی کے نام پر 10 فیصد شراکت دراصل رشوت کے مترادف ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سابق حکومت کے دور میں اسی محل کی تعمیرِ نو بھی حبیب اللہ آذئی کی کمپنی نے کی تھی، اور اس وقت طالبان کی جانب سے اسی کمپنی پر کرپشن کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔

مبصرین کے مطابق یہ معاملہ طالبان حکومت کے احتساب، شفافیت اور تاریخی ورثے کے تحفظ سے متعلق دعوؤں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے، جبکہ عوامی سطح پر اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

دیکھیں: افغان مہاجرین کو روزگار کے شدید مسائل کا سامنا: اقوامِ متحدہ

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *