لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزیاں؛ جنوبی لبنان کے دیہات پر رات گئے گولہ باری سے کشیدگی برقرار۔

April 17, 2026

اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے عالمی غذائی بحران اور کھاد و توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

April 17, 2026

طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر بانی رہنماء اور سابق وزیرِ خزانہ معتصم آغا جان کو قندھار سے گرفتار کر لیا گیا۔

April 17, 2026

اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی سے بھی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ دفاعی تعلقات، علاقائی سکیورٹی اور باہمی تعاون کے امور زیر بحث آئے۔

April 17, 2026

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ ڈیل اسلام آباد میں ہوئی تو میں وہاں جا سکتا ہوں، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جنگ بندی میں بہت عمدہ کردار ادا کیا اور پاکستانی قیادت کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔

April 16, 2026

اس حادثے میں 8 مزدور جاں بحق ہوئے تھے جبکہ ابتدائی مرحلے میں 2 افراد کو زندہ نکال لیا گیا تھا۔ بعد ازاں مسلسل تلاش اور کھدائی کے عمل کے دوران عبدالوہاب نامی مزدور کو 17 روز بعد زندہ نکال لیا گیا۔

April 16, 2026

طالبان حکومت کے چیف جسٹس کا ”تاریخی انصاف”؛ 10  فیصد رشوت کے عوض تاریخی مقام باغ بالا کو بیچ ڈالا

ذرائع کے مطابق باغِ بالا وہ تاریخی مقام ہے جہاں افغان شاہ کا محل واقع ہے، جسے اشرف غنی کے دورِ حکومت میں امریکی فنڈز سے دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ مقام تاریخی ورثہ ہونے کے باعث عوامی اور تجارتی تعمیرات کے لیے ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ تاہم الزام ہے کہ مولوی عبدالحکیم حقانی نے چیف جسٹس کی حیثیت سے خصوصی اجازت دے کر یہاں کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی۔
طالبان حکومت کے چیف جسٹس کا ''تاریخی انصاف''؛ 10  فیصد رشوت کے عوض تاریخی مقام باغ بالا کو بیچ ڈالا

حبیب اللہ آذئی کے بزنس پارٹنر اور سابق وزیرِ اطلاعات و ثقافت کریم خرم نے اس ڈیل کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ باغِ بالا کے اس حصے پر شادی ہال اور ایک پیٹرول پمپ تعمیر کیا جا رہا ہے۔

January 12, 2026

طالبان کے وزیرِ انصاف اور چیف جسٹس مولوی عبدالحکیم حقانی ایک متنازع فیصلے کے باعث شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں، جہاں کابل کے تاریخی مقام باغِ بالا کی پہاڑی کے تقریباً 10 فیصد حصے کو سابق حکومت کے قریبی صنعتکار اور تاجر حبیب اللہ آذئی (څازي) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

افغان انٹرنیشنل نیوز ویب سائٹ کے مطابق یہ تاریخی مقام ایک معاہدے کے تحت ایسے شخص کے سپرد کیا گیا جو ماضی میں طالبان مخالف سابق حکومت کا وفادار سمجھا جاتا تھا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت مولوی عبدالحکیم حقانی کے بھائی کو کسی سرمایہ کاری کے بغیر اس منصوبے میں 10 فیصد شراکت دی گئی۔

حبیب اللہ آذئی کے بزنس پارٹنر اور سابق وزیرِ اطلاعات و ثقافت کریم خرم نے اس ڈیل کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ باغِ بالا کے اس حصے پر شادی ہال اور ایک پیٹرول پمپ تعمیر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق باغِ بالا وہ تاریخی مقام ہے جہاں افغان شاہ کا محل واقع ہے، جسے اشرف غنی کے دورِ حکومت میں امریکی فنڈز سے دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ مقام تاریخی ورثہ ہونے کے باعث عوامی اور تجارتی تعمیرات کے لیے ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ تاہم الزام ہے کہ مولوی عبدالحکیم حقانی نے چیف جسٹس کی حیثیت سے خصوصی اجازت دے کر یہاں کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس اجازت کے بدلے مولوی عبدالحکیم کے بھائی کے نام پر 10 فیصد شراکت دراصل رشوت کے مترادف ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سابق حکومت کے دور میں اسی محل کی تعمیرِ نو بھی حبیب اللہ آذئی کی کمپنی نے کی تھی، اور اس وقت طالبان کی جانب سے اسی کمپنی پر کرپشن کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔

مبصرین کے مطابق یہ معاملہ طالبان حکومت کے احتساب، شفافیت اور تاریخی ورثے کے تحفظ سے متعلق دعوؤں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے، جبکہ عوامی سطح پر اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

دیکھیں: افغان مہاجرین کو روزگار کے شدید مسائل کا سامنا: اقوامِ متحدہ

متعلقہ مضامین

لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزیاں؛ جنوبی لبنان کے دیہات پر رات گئے گولہ باری سے کشیدگی برقرار۔

April 17, 2026

اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے عالمی غذائی بحران اور کھاد و توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

April 17, 2026

طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر بانی رہنماء اور سابق وزیرِ خزانہ معتصم آغا جان کو قندھار سے گرفتار کر لیا گیا۔

April 17, 2026

اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی سے بھی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ دفاعی تعلقات، علاقائی سکیورٹی اور باہمی تعاون کے امور زیر بحث آئے۔

April 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *