اسلام آباد کی ایک عدالت نے متنازع ٹوئٹس کیس میں عدالتی عمل میں عدم تعاون اور نامناسب رویّے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ایڈووکیٹ ایمان زینب مزاری اور ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری کا حکم دے دیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ افضال مجوکہ نے اپنے تحریری حکم میں پولیس کو ہدایت کی کہ دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے صبح 11 بجے عدالت میں پیش کیا جائے، جبکہ مجسٹریٹ سے سرچ وارنٹ حاصل کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ یہ معاملہ محض ایک معمول کی عدالتی کارروائی نہیں بلکہ نظامِ انصاف کے وقار، سنجیدگی اور عملداری کا امتحان بن چکا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزمان اور ان کے وکلا کا رویّہ کسی بھی صورت منصفانہ ٹرائل کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ آٹھ وکلا کے وکالت نامے ہونے کے باوجود مسلسل جرح سے انکار اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مقصد دفاع نہیں بلکہ عدالتی کارروائی کو طول دینا اور سبوتاژ کرنا تھا۔
عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ ملزمان نے نہ صرف عدالتی رعایتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی بلکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے دیے گئے اضافی ریلیف کے باوجود مسلسل عدم تعاون کا مظاہرہ کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ہر پیشی پر استغاثہ کے گواہوں کی موجودگی اس امر کا ثبوت ہے کہ پراسیکیوشن نے اپنی ذمہ داری پوری کی، جبکہ اس کے برعکس ملزمان کی جانب سے جرح سے انکار دانستہ طور پر عدالتی عمل کو متاثر کرنے کے مترادف ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی نوٹ کیا کہ ملزمان اور ان کے وکلا کی جانب سے عدالت اور استغاثہ کے ساتھ بدتمیزی اور نامناسب طرزِ عمل کا ذکر متعدد عدالتی احکامات میں کیا جا چکا ہے، جو انتہائی تشویشناک ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ انصاف صرف ملزم کا ہی نہیں بلکہ استغاثہ کا بھی حق ہے، اور اگر کوئی فریق عدالتی عمل کو یرغمال بنانے کی کوشش کرے تو عدالت کا سخت مؤقف اختیار کرنا آئین اور قانون کے عین مطابق ہے۔
اسی پس منظر میں عدالت نے ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منسوخ کرنے کو ایک منطقی اور قانونی قدم قرار دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ قبل از گرفتاری ضمانت کوئی استحقاق نہیں بلکہ اچھے رویّے، قانون کی پاسداری اور عدالتی تعاون سے مشروط سہولت ہے، جسے کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
عدالت کے مطابق یہ فیصلہ صرف دو ملزمان تک محدود نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے ایک واضح پیغام ہے جو عدالتی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کو حکمتِ عملی سمجھتا ہے۔ عدالت نے دوٹوک انداز میں واضح کر دیا ہے کہ انصاف کے راستے میں دانستہ رکاوٹ اب برداشت نہیں کی جائے گی، اور یہی ایک مضبوط، باوقار اور مؤثر نظامِ انصاف کی بنیاد ہے۔
دیکھیں: پاکستان اور ازبکستان کی اقتصادی شراکت داری، تجارتی ہدف دو ارب ڈالر مقرر