امارتِ اسلامیہ افغانستان کے ترجمان ملا ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان اور تاجکستان کی سرحد پر حالیہ ہونے والے تصادم کے بارے میں ایک بیان جاری کیا ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نےتصدیق کی ہے کہ اس واقعہ کی وجہ سے دونوں ممالک کے سرحدی محافظوں کے مابین کشیدگی پیدا ہوئی۔ ان کے مطابق مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب تاجک سرحدی محافظوں نے منشیات سمگل کرنے کی کوشش کرنے والے ایک مشکوک گروہ کو روک لیا۔ اس کے بعد صورت حال کشیدہ ہو گئی اور فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
تحقیقات کی تصدیق
افغان ترجمان ملا ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امارتِ اسلامیہ اس واقعے کی مکمل تحقیق کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ سرحد پر امن و استحکام برقرار رہے اور کوئی بھی گروہ اسے غیر مستحکم کرنے کی کوشش نہ کر سکے۔
The spokesperson for the Islamic Emirate says that investigations are ongoing regarding the recent clash along the Afghanistan-Tajikistan border.
— TOLOnews English (@TOLONewsEnglish) January 19, 2026
Zabihullah Mujahid stated that a group of drug traffickers attempting to smuggle narcotics encountered Tajik border guards, and… pic.twitter.com/4U4biLBXGk
مذکورہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب خطے میں، خاص طور پر تاجکستان اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں، میں افغانستان سے ممکنہ سلامتی کے خطرات کو لے کر تشویش پائی جاتی ہے۔ تاجکستان نے ماضی میں بھی افغان سرحد پر اپنی فوجی موجودگی بڑھانے اور سرحدی حفاظت کے اقدامات کو مضبوط بنانے کا اعلان کیا ہے۔
دیکھیں: افغانستان کے کینسر مریضوں کے لیے بھارت کی 18 اقسام کی ادویات کی فراہم