واشنگٹن کی قیادت میں مجوزہ عالمی فورم “بورڈ آف پیس” پر عالمی تقسیم کھل کر سامنے آ گئی ہے، جہاں اسرائیل اور آذربائیجان نے اس میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ سویڈن نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے یورپ میں پائے جانے والے خدشات کو نمایاں کر دیا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی دعوت قبول کر لی ہے اور اسرائیل “بورڈ آف پیس” کا رکن بننے پر آمادہ ہے۔ بیان میں اس فورم کو دنیا بھر کے رہنماؤں پر مشتمل ایک نیا عالمی پلیٹ فارم قرار دیا گیا۔
دوسری جانب آذربائیجان کی وزارتِ خارجہ کے حوالے سے مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ باکو حکومت نے بھی اس بورڈ میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، جس کے بعد آذربائیجان ان ابتدائی ممالک میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے باضابطہ طور پر اس منصوبے کی حمایت کی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ مبینہ طور پر دنیا کے لگ بھگ 60 ممالک کو اس فورم میں شمولیت کی دعوت دے چکی ہے۔ ابتدا میں “بورڈ آف پیس” کو غزہ کی جنگ کے بعد تعمیرِ نو کی نگرانی کے لیے ایک طریقۂ کار کے طور پر پیش کیا گیا تھا، تاہم اس کے مجوزہ چارٹر کے مسودات سے عندیہ ملتا ہے کہ اس ادارے کا دائرہ کار فلسطین سے کہیں آگے بڑھ کر دیگر عالمی تنازعات اور بحرانوں تک پھیل سکتا ہے۔
اس کے برعکس سویڈن نے اس منصوبے سے واضح فاصلہ اختیار کر لیا ہے۔ ڈیووس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سویڈش وزیرِ اعظم الف کرسٹرسن نے کہا کہ ان کا ملک “اب تک پیش کی گئی شکل” میں اس فورم کا حصہ نہیں بنے گا۔ ان کے بیان کو یورپ میں پائی جانے والی اس تشویش کا اظہار سمجھا جا رہا ہے کہ یہ نیا ادارہ اقوامِ متحدہ جیسے موجودہ بین الاقوامی نظام کو نظرانداز کر کے اختیارات کو امریکی صدر کے ہاتھ میں مرکوز کر سکتا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس، خصوصاً بلومبرگ کے مطابق، بورڈ کے مجوزہ چارٹر میں ایک متنازع مالی شرط بھی شامل ہے، جس کے تحت مستقل رکنیت کے خواہاں ممالک کو کم از کم ایک ارب ڈالر کی مالی شراکت کرنا ہو سکتی ہے۔ مسودے کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ اس بورڈ کے پہلے صدر ہوں گے، انہیں فیصلوں پر ویٹو کا اختیار حاصل ہوگا اور وہی رکن ممالک کی منظوری اور مدتِ رکنیت میں توسیع کا فیصلہ کریں گے۔ اگرچہ بظاہر ہر ملک کو ایک ووٹ دیا جائے گا، تاہم ہر فیصلہ بالآخر امریکی صدر کی منظوری سے مشروط ہوگا۔
چارٹر کے تحت عام رکنیت کی مدت تین سال رکھی گئی ہے، مگر وہ ممالک جو پہلے سال میں ایک ارب ڈالر سے زائد کی رقم فراہم کریں گے، انہیں مدت کی پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا، جسے ناقدین مستقل یا طویل المدتی اثر و رسوخ کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ڈھانچہ فورم کو “ادائیگی کے بدلے اثر و رسوخ” کے ماڈل میں تبدیل کر دیتا ہے اور شفافیت، قانونی حیثیت اور جواب دہی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
بورڈ آف پیس کے چارٹر میں اسے ایک بین الاقوامی تنظیم قرار دیا گیا ہے، جس کا مقصد تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں استحکام، حکمرانی کی بحالی اور “پائیدار امن” کو یقینی بنانا ہے۔ یہ فورم تین ممالک کی توثیق کے بعد فعال ہو سکے گا۔ تاہم مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ ادارہ اقوامِ متحدہ کے متبادل یا حریف کے طور پر سامنے لایا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹرمپ اقوامِ متحدہ کو بارہا “غیر مؤثر” قرار دے چکے ہیں۔
یہ تمام تر بحث غزہ میں جاری صورتحال کے تناظر میں مزید حساس ہو جاتی ہے، جہاں اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں اور حالیہ جنگ میں 71 ہزار سے زائد فلسطینی جان سے جا چکے ہیں، جبکہ غزہ کا بیشتر شہری انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس بورڈ کے ذریعے ایسے سیاسی انتظامات کو جواز دیا جا سکتا ہے جو متاثرہ عوام کی مرضی کے بغیر مسلط کیے جائیں۔
اسی دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنی دوسری مدت کے پہلے سال کی تکمیل کے موقع پر عندیہ دیا ہے کہ “بورڈ آف پیس” مستقبل میں اقوامِ متحدہ کی جگہ بھی لے سکتا ہے۔ صحافیوں کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ اقوامِ متحدہ میں صلاحیت تو ہے مگر وہ “زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوئی”، اور یہ کہ ان کا مجوزہ بورڈ “شاید” ایک دن اس کی جگہ لے سکے۔
اس پس منظر میں جیسے جیسے مزید ممالک اس فورم میں شمولیت یا مخالفت پر غور کر رہے ہیں، اسرائیل اور آذربائیجان جیسے ابتدائی حامیوں اور سویڈن سمیت یورپی شکوک و شبہات رکھنے والے ممالک کے درمیان خلیج واضح ہوتی جا رہی ہے۔ ایک ایسا ادارہ جس کا دعویٰ امن ہے، اس کی ساخت، مالی شرائط اور قیادت نے عالمی سطح پر پہلے ہی ایک نئی اور گہری بحث چھیڑ دی ہے۔
دیکھیں: جنوبی ایشیاء میں بھارت کا اثر و رسوخ کم ترین سطح پر، ہمسایہ ممالک کا پاکستان کجانب جھکاؤ