ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی لہر تیز ہو گئی، سندھ اور بلوچستان کے بعد ہزارہ ڈویژن کے شہریوں نے بھی الگ صوبے کا بھرپور مطالبہ کر دیا۔

September 25, 2026

جامعہ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم نے افغان طالبان کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف عملاً جنگ لڑ رہے ہیں۔

September 25, 2026

پی ٹی آئی کا اسلام آباد لانگ مارچ ہوگا یا نہیں، اس حوالے سے حتمی فیصلہ آج سہ پہر 3 بجے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی اہم پریس کانفرنس میں سامنے آئے گا۔

September 25, 2026

خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا اسلام آباد کی جانب مارچ اس کی آخری کوشش ہوگی اور اس کے بعد وہ دوبارہ وفاقی دارالحکومت کا رخ نہیں کر سکے گی۔

September 25, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کیلئے مشاورت ہوئی ہے، یہ کوئی غیر آئینی اقدام نہیں اور پی ٹی آئی جلد لانگ مارچ ختم کرنے والی ہے۔

September 25, 2026

چمن سیکٹر میں سکیورٹی فورسز نے 60 سے 70 دہشت گردوں کی سرحد پار دراندازی کا حملہ ناکام بناتے ہوئے 40 سے 45 حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔

September 25, 2026

ترک رپورٹ 2025: افغانستان عالمی منشیات کا مرکز قرار

دوہزار پچس کی ترک منشیات رپورٹ نے افغانستان کو عالمی منشیات تجارت کا مرکز قرار دیا ہے، جہاں افیون کے ساتھ ساتھ مصنوعی منشیات، خصوصاً میتھ ایمفیٹامین کی پیداوار اور اسمگلنگ میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے
دوہزار پچس کی ترک منشیات رپورٹ نے افغانستان کو عالمی منشیات تجارت کا مرکز قرار دیا ہے، جہاں افیون کے ساتھ ساتھ مصنوعی منشیات، خصوصاً میتھ ایمفیٹامین کی پیداوار اور اسمگلنگ میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے

ترک رپورٹ کے مطابق افغانستان عالمی منشیات تجارت کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں افیون اور مصنوعی منشیات عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں

January 22, 2026

ترکیہ کی 2025 کی منشیات رپورٹ میں عالمی غیر قانونی منشیات کی منڈی میں ایک واضح تبدیلی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق روایتی منشیات کے ساتھ ساتھ مصنوعی منشیات اور نئی نفسیاتی ادویات تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ رپورٹ میں اہم اور سنگین چیز یہ سامنے آئی ہے کہ افغانستان اب بھی افیونی منشیات بالخصوص ہیروئن کا مرکز ہے، جبکہ میتھ ایمفیٹامین کی پیداوار میں بھی نمایاں طور پر اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ترکیہ بالکان روٹ پر ہیروئن اسمگلنگ کے لیے ایک اہم پل کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ لاطینی امریکہ اور ایشیاء سے یورپ کوکین اور میتھ ایمفیٹامین کی ترسیل میں بھی اس کا کردار اہم راہداری کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجرمانہ نیٹ ورکس کم لاگت، آسان منتقلی اور قانونی اداروں سے بچنے کے لیے تیزی سے مصنوعی منشیات کی طرف راغب ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے منشیات کے خلاف جنگ اب محض قومی نہیں بلکہ عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔

ترکیہ کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی طرف سے 2022 میں پوست کی کاشت اور منشیات کی تیاری و تجارت پر پابندی کے باوجود، افغانستان عالمی افیونی سپلائی چین میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2023 میں افیون کی پیداوار میں 95 فیصد کمی کے بعد میانمار عارضی طور پر دنیا کا سب زیادہ تیار کرنے والا بن گیا تھا، تاہم 2024 میں افغانستان میں پوست کی کاشت میں دوبارہ 19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو پابندی کے جزوی نفاذ کی عکاسی کرتا ہے۔

رپورٹ میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ افغانستان تیزی سے عالمی میتھ ایمفیٹامین پیداوار کا ایک بڑا مرکز بن چکا ہے۔ اسمگلرز خطے میں وافر مقدار میں موجود ایفیڈرا پودے سے ایفیڈرین حاصل کر کے بڑے پیمانے پر مصنوعی منشیات تیار کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی اداروں کے مطابق پوست پر پابندی کے باوجود افغانستان میں تیار کردہ میتھ ایمفیٹامین کی اسمگلنگ میں کمی نہیں آئی، بلکہ یورپ اور مشرقی افریقہ سمیت مختلف خطوں میں اس کی ضبطگی میں اضافہ ہوا ہے۔

ترکی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان اب ایک منظم منشیاتی سرزمین میں تبدیل ہو چکی ہے، جہاں منشیات محض غیر قانونی سرگرمی نہیں بلکہ معاشی اور تزویراتی طاقت کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکی ہیں۔ طالبان حکومت کے تحت بڑے پیمانے کی پیداوار کے بجائے منظّم قلت، منتخب کنٹرول اور رسد و طلب کے حساب سے منڈی کو منظم کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے، جس نے عالمی منشیات کے بازار میں افغانستان کے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان کئی دہائیوں تک دنیا میں غیرقانونی افیون کا سب سے بڑا پیدا کنندہ رہا، جو 2022 تک عالمی طلب کا تقریباً 80 فیصد پورا کرتا تھا۔ اس دوران کاشت، تیاری، ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ پر مشتمل ایک وسیع نیٹ ورک قائم ہوا، جو طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوا، بلکہ زیادہ منظم اور کنٹرول شدہ منشیاتی معیشت کی بنیاد بن گیا۔

اپریل 2022 میں طالبان کی پوست پر لگائی گئی پابندی کو رپورٹ میں عالمی منڈی میں افیون کی اضافی فراہمی کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی قرار دیا گیا ہے۔ 10 ماہ کی رعایتی مدت کے دوران موجود ذخائر محفوظ کیے گئے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر افیون اور ہیروئن کی مصنوعی قلت پیدا ہوئی اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ رپورٹ کے مطابق خشک افیون کی قیمت 2022 میں 110 ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں 780 ڈالر تک پہنچ گئی۔

ترکی کی منشیات رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ افغانستان بدستور عالمی منشیات تجارت کا ایک مرکزی مرکز بنا ہوا ہے۔ طالبان حکومت نے منشیاتی معیشت کو ختم کرنے کے بجائے اسے نئے انداز میں منظم کیا ہے، جہاں افیونی اور مصنوعی منشیات عالمی سطح پر عدم استحکام اور سلامتی کے خطرات کو بڑھا رہی ہیں۔

دیکھیں: افغان۔ تاجک سرحدی تنازعہ، امارتِ اسلامیہ کا تحقیقات جاری رکھنے کا اعلان

متعلقہ مضامین

ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی لہر تیز ہو گئی، سندھ اور بلوچستان کے بعد ہزارہ ڈویژن کے شہریوں نے بھی الگ صوبے کا بھرپور مطالبہ کر دیا۔

September 25, 2026

جامعہ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم نے افغان طالبان کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف عملاً جنگ لڑ رہے ہیں۔

September 25, 2026

پی ٹی آئی کا اسلام آباد لانگ مارچ ہوگا یا نہیں، اس حوالے سے حتمی فیصلہ آج سہ پہر 3 بجے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی اہم پریس کانفرنس میں سامنے آئے گا۔

September 25, 2026

خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا اسلام آباد کی جانب مارچ اس کی آخری کوشش ہوگی اور اس کے بعد وہ دوبارہ وفاقی دارالحکومت کا رخ نہیں کر سکے گی۔

September 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *