پاکستان ڈیجیٹل انقلاب کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں سیٹلائٹ براڈبینڈ، جدید ای گورننس اور فِن ٹیک کے باہمی امتزاج نے ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کی رفتار تیز کر دی ہے۔ یہ تاریخی تبدیلی نہ صرف شہری مراکز بلکہ دور دراز دیہی اورپہاڑی والے علاقوں میں بھی ڈیجیٹل خلا کو ختم کر رہی ہے، جہاں روایتی مواصلاتی ڈھانچے تک رسائی محدود تھی۔
دیہی علاقوں میں انقلاب
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے نئے لائسنسنگ فریم ورک نے بین الاقوامی اور علاقائی سیٹلائٹ سروس فراہم کنندگان کے لیے دروازے کھول دیے ہیں۔ اسٹارلنک اور ایمازون کے پروجیکٹ کائپر جیسے عالمی منصوبے 2026 کے آخر تک پاکستان میں تجارتی سطح پر خدمات فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
مقامی سطح پر پاک سیٹ۔ ایم ایم 1 اور کیسیفک۔ پاک سیٹ کے۔ بینڈ سروسز نے بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں میں تیز رفتار اور سستی انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کر کے تعلیم، صحت اور کاروبار کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔
تاریخی سرمایہ کاری
ڈیجیٹل نیشن فنڈ کے تحت 50 ملین امریکی ڈالر کی مختص رقم سے 2026 تک 15 ملین دیہی صارفین کو براڈبینڈ رسائی فراہم کرنے کا ہدف حیرت انگیز پیش رفت دکھا رہا ہے۔ 2025 کے اختتام تک پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 117 ملین تک پہنچ چکی تھی، جبکہ موبائل براڈبینڈ صارفین 148 ملین اور فکسڈ براڈبینڈ صارفین 3.3 ملین تک پہنچ گئے ہیں۔
ڈیجیٹل شناخت کا ستون
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (اینڈرا) کا 125 ملین سے زائد بایومیٹرک شناختی کارڈز پر مبنی نظام ملک کی ڈیجیٹل بنیاد بن چکا ہے۔ خیبر پختونخوا میں یکم جنوری 2026 سے شروع ہونے والا “احساس ای-پنشن سسٹم” اس کی تازہ ترین مثال ہے، جس کے ذریعے پنشن کی ادائیگیاں براہ راست بینک اکاؤنٹس میں منتقل ہو رہی ہیں۔
اسی طرح بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اور دیگر سماجی تحفظ کے پروگراموں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں نے شفافیت اور کارکردگی میں انقلابی اضافہ کیا ہے، جس سے وسائل کے ضیاع میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
فِن ٹیک: مالیاتی انقلاب
پاکستان کے فِن ٹیک شعبے نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ راست سسٹم کے تحت اب تک 1.9 ارب لین دین کیے جا چکے ہیں، جن کی مالیت 44.3 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ جیزکیش اور دیگر ڈیجیٹل ادائیگی کے پلیٹ فارمز نے مالیاتی شمولیت کو نئی بلندیوں پر پہنچایا ہے۔
گزشتہ ماہ کے پہلے چھ ماہ میں فِن ٹیک کمپنیوں نے 52.5 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جبکہ مجموعی طور پر 450 کمپنیوں میں 391 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔ 731,000 سے زائد برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس نے دیہی علاقوں میں مالیاتی خدمات کی رسائی کو یقینی بنایا ہے۔
نئے معیارات کا تعین
2025 کے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی ایکٹ کے تحت قائم کردہ ادارے نے ڈیجیٹل معیارات، سائبر سیکیورٹی اور بین الادارہ جاتی ہم آہنگی کو مضبوط بنایا ہے۔ تین زیر سمندر کیبلز اور فائبر آپٹک نیٹ ورک کی تعمیر نے بین الاقوامی ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کو بہتر بنایا ہے۔
مستقبل کے امکانات
ماہرین کے مطابق 2026 پاکستان کے ڈیجیٹل سفر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، اینڈرا پر مبنی ڈیجیٹل شناخت اور فِن ٹیک کے اشتراک سے نہ صرف ڈیجیٹل خلا ختم ہو جائے گا، بلکہ یہ پائیدار اقتصادی ترقی کی نئی راہیں بھی ہموار کرے گا۔ ای لرننگ، ٹیلی میڈیسن، ای کامرس اور ڈیجیٹل سرکاری خدمات کے فروغ سے پاکستان ڈیجیٹل معیشت کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔