افغانستان میں حالیہ دنوں میں شریعت اسلامیہ کے نام پر جو قانونی و سماجی احکامات جاری کیے گئے ہیں، ان پر عالمِ اسلام کے مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علما نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خاص طور پر افغان معاشرے کو ’’آزاد‘‘ اور ’’غلام‘‘ جیسے طبقات میں تقسیم کرنے اور مختلف جرائم کی سزاؤں کو سماجی حیثیت سے مشروط کرنے کے فیصلے کو قرآن و سنت کے صریح احکامات کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ علما کے مطابق یہ طرزِ فکر نہ صرف اسلامی تعلیمات سے متصادم ہے بلکہ انسانی وقار اور مساوات کے بنیادی اصولوں کی بھی نفی کرتا ہے۔
علما کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام نے انسانوں کو کسی نسل، قبیلے، طبقے یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر تقسیم نہیں کیا بلکہ تمام انسانوں کو برابر قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ اس کے باوجود اگر کسی معاشرے کو ’’آزاد‘‘ اور ’’غلام‘‘ میں بانٹ کر ایک ہی جرم پر مختلف سزائیں مقرر کی جائیں تو یہ شریعت نہیں بلکہ صریح ناانصافی ہے۔ علما کا کہنا ہے کہ یہ تصور اسلامی نہیں بلکہ ہندو مت کے ذات پات کے نظام سے مشابہت رکھتا ہے، جہاں انسان کی قدر و قیمت اس کے طبقے سے متعین کی جاتی ہے۔
اسلام نے عہدِ جاہلیت میں رائج غلامی، طبقاتی تفریق اور عورتوں کے حقوق کی پامالی کا خاتمہ کیا۔ رسول اکرم ﷺ کی بعثت کا ایک بنیادی مقصد ہی یہی تھا کہ انسان کو انسان کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی کی طرف لایا جائے۔ خطبہ حجۃ الوداع میں نبی کریم ﷺ نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔ علما کے مطابق اگر آج اسلام کے نام پر ایسے قوانین نافذ کیے جائیں جو انسانوں کے درمیان امتیاز کو فروغ دیں تو یہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کی روح کے خلاف ہے بلکہ رسول اکرم ﷺ کے اس بنیادی پیغام کی بھی نفی ہے۔
مزید برآں علما نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ ان احکامات میں خواتین کے حقوق، انسانی آزادی اور عدالتی انصاف کو ثانوی حیثیت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق اسلام میں سزا کا تصور بھی عدل، شفافیت اور مساوات پر مبنی ہے، نہ کہ طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ معیار قائم کرنے پر۔ اگر ایک عالم یا بااثر شخص کو صرف نصیحت پر چھوڑ دیا جائے اور عام آدمی کو کوڑوں یا قید کی سزا دی جائے تو یہ اسلامی عدل نہیں بلکہ طاقت کی بنیاد پر قانون نافذ کرنے کی مثال ہے۔
علما نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خود کو ’’شرعی اسلامی حکومت‘‘ قرار دینے کے دعوے کو عملی طور پر قرآن و سنت کے مطابق ثابت کرے۔ ان کے نزدیک ضروری ہے کہ ایسے تمام قوانین اور احکامات پر نظرِ ثانی کی جائے جو عہدِ جاہلیت کی یاد دلاتے ہوں۔ اسلام نے جس معاشرتی مساوات، انسانی وقار اور عدل و انصاف کی بنیاد رکھی تھی، اس کی بحالی ہی کسی بھی اسلامی نظام کی اصل پہچان ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر شریعت کے نام پر نافذ کیے گئے یہ اقدامات دنیا میں اسلام کے تصور کو مزید مسخ کرنے اور مسلمانوں کے درمیان فکری انتشار کو بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں۔