اسلام آباد میں سہیل آفریدی نے بلوچستان واقعے پر وزیراعظم سے تعزیت کی اور دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبے میں امن اور انسداد دہشت گردی کے لیے تعاون پر اتفاق کیا

February 2, 2026

بھارت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں بنگلہ دیش کی امداد میں 50 فیصد کمی کرتے ہوئے اسے 60 کروڑ روپے کر دیا، جبکہ افغانستان کے لیے امداد میں 200 فیصد اضافہ کر کے 150 کروڑ روپے مقرر کیا گیا

February 2, 2026

نوشکی میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن میں سات دہشت گرد ہلاک، ہتھیار اور گولہ بارود برآمد

February 2, 2026

ڈاکٹر ہائم بریشیتھ-زابنر کے الزامات اور میمری کے بلوچستان ڈیسک کا قیام اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ اب صرف داخلی سلامتی کا چیلنج نہیں رہا بلکہ ایک بین الاقوامی بیانیاتی محاذ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں سفارتی حکمتِ عملی، مؤثر ابلاغ اور زمینی حقائق کی درست ترجمانی پاکستان کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔

February 2, 2026

پاکستان نے ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ بائیکاٹ کا اعلان کر دیا، جس پر بھارتی کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا کہ کھیل کو سیاست کی نظر سے دیکھنا افسوسناک ہے اور یہ بائیکاٹ ویک اپ کال کی مانند ہے

February 2, 2026

بھارت نے مالی سال 2026‑27 کے لیے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ کیا، جدید ہتھیاروں، فوجی تنخواہوں اور بحری و ہوائی بیڑے کی مضبوطی پر توجہ مرکوز کی گئی

February 2, 2026

یورپی یونین قیادت اور بھارت: سفارتی مظاہرہ، مگر بنیادی تضادات برقرار

یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت کے بھارت دورے کو نئی دہلی مغربی حمایت کے تاثر کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن روس کے ساتھ بھارت کے گہرے تعلقات اور خطے میں کشیدگی سے متعلق اس کا طرزِ عمل اس بیانیے پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے
یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت کے بھارت دورے کو نئی دہلی مغربی حمایت کے تاثر کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن روس کے ساتھ بھارت کے گہرے تعلقات اور خطے میں کشیدگی سے متعلق اس کا طرزِ عمل اس بیانیے پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے

نئی دہلی یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت کے دورۂ بھارت کو مغربی حمایت کے طور پر پیش کر رہا ہے، تاہم روس کے ساتھ قریبی روابط اور علاقائی پالیسی اس تاثر پر سوال اٹھاتی ہے

January 26, 2026

یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا فان ڈیر لائن نے بھارت کا دورہ کیا، جہاں انہیں 77ویں یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا۔ بھارتی حکام کے مطابق یورپی قیادت کے نریندر مودی سے ہونے والے آئندہ مذاکرات کو بھارت۔ یورپی یونین تعلقات میں ایک نئے باب کے آغاز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

یہ سفارتی سرگرمی ایسے وقت میں رونما ہوئی ہے جب پاکستان اور امریکہ کے مابین حالیہ مثبت پیشرفت نے خطے کے سفارتی توازن پر گہرا اثر ڈالا ہے، نتیجتاً نئی دہلی میں واضح بے چینی مشاہدے میں آئی ہے۔ مئی 2025 کے بعد سے بھارت واشنگٹن کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ اسی عرصے میں اس نے روس اور یورپی یونین کے ساتھ سیاسی، معاشی اور دفاعی روابط میں نمایاں توسیع کی ہے۔

سفارتی مبصرین کے مطابق بھارت امریکی حکام کے دوروں اور یورپی یونین۔ بھارت سمٹ 2026 کو علامتی سفارت کاری کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ یورپی یونین اور امریکہ کی بظاہر حمایت کا تاثر برقرار رکھا جا سکے، اور ساتھ ہی اپنے آپ کو ایک متبادل طاقت کے مرکز کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ کسی بھی عسکری تعاون کو اس کے علاقائی رویّے یا کشیدگی میں اضافے کی ضمنی منظوری کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیاء میں استحکام نمائشی عسکریت پسندی اور حقیقی مکالمے سے گریز کرنے سے کمزور ہوتا ہے، مضبوط نہیں ہوتا۔ ان کا اصرار ہے کہ اسٹریٹجک شراکت داریوں کا جائزہ صرف تقاریبی سفارت کاری کی بجائے عملی رویّوں اور زمینی حقائق کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق روس کے ساتھ بھارت کے بڑھتے ہوئے دفاعی، توانائی اور سیاسی تعلقات، ماسکو پر دباؤ ڈالنے کی امریکی اور یورپی کوششوں سے براہِ راست متصادم ہیں۔ ان کے خیال میں بھارت اس تنازعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جسے مغرب محدود کرنا چاہتا ہے، اسٹریٹجک ہم آہنگی کا معتبر دعویٰ نہیں کر سکتا۔ نیز توازن پر مبنی حکمت عملیاں وقتی منفعت تو فراہم کر سکتی ہیں، مگر طویل دورانیے میں یہ اتحادوں کے اعتماد اور پیشین گوئی کی صلاحیت کو کمزور کرتی ہیں۔ اسی پس منظر میں بھارت کی یورپی یونین کے ساتھ بڑھتی ہوئی سفارتی مصروفیات، جنہیں یومِ جمہوریہ جیسی نمائشی تقریبات کے ذریعے نمایاں کیا جا رہا ہے، امریکہ کے اثر و رسوخ کے متبادل مرکز کے اشارے دیتی ہیں، نہ کہ مغربی ترجیحات کے ساتھ حقیقی ہم آہنگی کی عکاسی کرتی ہیں۔

اس کے برعکس پاکستان خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ، بحران کے انتظام، اور علاقائی خطرات میں تخفیف کے لیے مسلسل ایسے اقدامات کی حمایت کر رہا ہے جو مغربی سلامتی کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ واضح تضاد خطے کے موجودہ سفارتی منظر نامے کو نمایاں طور پر اجاگر کرتا ہے۔

دیکھیں: ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘: اسرائیل اور آذربائیجان شامل، سویڈن نے حصہ بننے سے انکارکر دیا

متعلقہ مضامین

اسلام آباد میں سہیل آفریدی نے بلوچستان واقعے پر وزیراعظم سے تعزیت کی اور دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبے میں امن اور انسداد دہشت گردی کے لیے تعاون پر اتفاق کیا

February 2, 2026

بھارت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں بنگلہ دیش کی امداد میں 50 فیصد کمی کرتے ہوئے اسے 60 کروڑ روپے کر دیا، جبکہ افغانستان کے لیے امداد میں 200 فیصد اضافہ کر کے 150 کروڑ روپے مقرر کیا گیا

February 2, 2026

نوشکی میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن میں سات دہشت گرد ہلاک، ہتھیار اور گولہ بارود برآمد

February 2, 2026

ڈاکٹر ہائم بریشیتھ-زابنر کے الزامات اور میمری کے بلوچستان ڈیسک کا قیام اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ اب صرف داخلی سلامتی کا چیلنج نہیں رہا بلکہ ایک بین الاقوامی بیانیاتی محاذ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں سفارتی حکمتِ عملی، مؤثر ابلاغ اور زمینی حقائق کی درست ترجمانی پاکستان کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔

February 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *