یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا فان ڈیر لائن نے بھارت کا دورہ کیا، جہاں انہیں 77ویں یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا۔ بھارتی حکام کے مطابق یورپی قیادت کے نریندر مودی سے ہونے والے آئندہ مذاکرات کو بھارت۔ یورپی یونین تعلقات میں ایک نئے باب کے آغاز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ سفارتی سرگرمی ایسے وقت میں رونما ہوئی ہے جب پاکستان اور امریکہ کے مابین حالیہ مثبت پیشرفت نے خطے کے سفارتی توازن پر گہرا اثر ڈالا ہے، نتیجتاً نئی دہلی میں واضح بے چینی مشاہدے میں آئی ہے۔ مئی 2025 کے بعد سے بھارت واشنگٹن کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ اسی عرصے میں اس نے روس اور یورپی یونین کے ساتھ سیاسی، معاشی اور دفاعی روابط میں نمایاں توسیع کی ہے۔
سفارتی مبصرین کے مطابق بھارت امریکی حکام کے دوروں اور یورپی یونین۔ بھارت سمٹ 2026 کو علامتی سفارت کاری کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ یورپی یونین اور امریکہ کی بظاہر حمایت کا تاثر برقرار رکھا جا سکے، اور ساتھ ہی اپنے آپ کو ایک متبادل طاقت کے مرکز کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ کسی بھی عسکری تعاون کو اس کے علاقائی رویّے یا کشیدگی میں اضافے کی ضمنی منظوری کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیاء میں استحکام نمائشی عسکریت پسندی اور حقیقی مکالمے سے گریز کرنے سے کمزور ہوتا ہے، مضبوط نہیں ہوتا۔ ان کا اصرار ہے کہ اسٹریٹجک شراکت داریوں کا جائزہ صرف تقاریبی سفارت کاری کی بجائے عملی رویّوں اور زمینی حقائق کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
Delighted to welcome President @EUCouncil António Costa and President @EU_Commission @vonderleyen to India.
— Dr. S. Jaishankar (@DrSJaishankar) January 25, 2026
A great privilege to have them as Chief Guests for the 77th Republic Day celebrations.
Confident that their upcoming discussions with Prime Minister @narendramodi will… pic.twitter.com/zq3KUARNfD
تجزیہ کاروں کے مطابق روس کے ساتھ بھارت کے بڑھتے ہوئے دفاعی، توانائی اور سیاسی تعلقات، ماسکو پر دباؤ ڈالنے کی امریکی اور یورپی کوششوں سے براہِ راست متصادم ہیں۔ ان کے خیال میں بھارت اس تنازعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جسے مغرب محدود کرنا چاہتا ہے، اسٹریٹجک ہم آہنگی کا معتبر دعویٰ نہیں کر سکتا۔ نیز توازن پر مبنی حکمت عملیاں وقتی منفعت تو فراہم کر سکتی ہیں، مگر طویل دورانیے میں یہ اتحادوں کے اعتماد اور پیشین گوئی کی صلاحیت کو کمزور کرتی ہیں۔ اسی پس منظر میں بھارت کی یورپی یونین کے ساتھ بڑھتی ہوئی سفارتی مصروفیات، جنہیں یومِ جمہوریہ جیسی نمائشی تقریبات کے ذریعے نمایاں کیا جا رہا ہے، امریکہ کے اثر و رسوخ کے متبادل مرکز کے اشارے دیتی ہیں، نہ کہ مغربی ترجیحات کے ساتھ حقیقی ہم آہنگی کی عکاسی کرتی ہیں۔
اس کے برعکس پاکستان خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ، بحران کے انتظام، اور علاقائی خطرات میں تخفیف کے لیے مسلسل ایسے اقدامات کی حمایت کر رہا ہے جو مغربی سلامتی کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ واضح تضاد خطے کے موجودہ سفارتی منظر نامے کو نمایاں طور پر اجاگر کرتا ہے۔
دیکھیں: ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘: اسرائیل اور آذربائیجان شامل، سویڈن نے حصہ بننے سے انکارکر دیا