ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف شیڈول میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے نے نہ صرف کھیل کی دنیا بلکہ بھارتی سیاست اور دونوں ممالک کے مابین سفارتی سطح پر بھی زبردست رد عمل پیدا کر دیا ہے۔
پاکستان کا مؤقف
پاکستان کی جانب سے یہ اقدام بنگلہ دیش کے ساتھ “اظہار یکجہتی” کے طور پر کیا گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بھارت کی جانب سے بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمٰن کو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) سے ان کی مذہبی شناخت (نماز ادا کرنے) کی اشاعت پر معطل کرنا بتائی جا رہی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام مذہبی امتیاز پر مبنی ہے اور کھیل کو سیاست سے جدا رکھنے کے اصولوں کے منافی ہے۔ فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف اور پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کی مشترکہ میٹنگ کے بعد سامنے آیا۔
بھارتی سیاست میں رد عمل
بھارت میں اس معاملے پر زبردست سیاسی رد عمل سامنے آیا ہے۔ کانگریسی رہنماء اور سابق وزیر ششی تھرور نے پاکستان کے بائیکاٹ کو “ویک اپ کال” قرار دیتے ہوئے کہا کہ کولکتہ ٹیم کو مستفیض الرحمٰن کو ڈراپ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کھیل کو سیاست سے جوڑنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ تاہم بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے کچھ رہنماؤں نے پاکستان کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور اسے “کھیل کو یرغمال بنانے” کی کوشش قرار دیا ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس پیچیدہ تعلق کو اجاگر کرتا ہے جہاں کھیل، سیاست اور مذہبی شناخت باہم خلط ملط ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کا یہ قدم اپنے پڑوسی کے ساتھ تعلقات میں موجودہ کشیدگی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ صرف ایک میچ تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ مستقبل میں ہونے والے دوطرفہ کھیلوں کے مقابلے، بالخصوص ایشیا کپ اور چیمپئنز ٹرافی جیسے ٹورنامنٹس، پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور کھیلوں کے تعلقات ایک نئی آزمائش میں داخل ہو گئے ہیں۔
دیکھیے: کشتواڑ میں پندرہ روز سے جاری جھڑپوں میں بھارتی فوج کو جانی نقصان، سرچ آپریشنز میں تیزی