امریکہ، ایران اور عمان 60 روز کے لیے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت بحال کرنے کے عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

August 5, 2026

بھارت نے شیخ حسینہ کے ورچوئل خطاب کو نجی تقریب قرار دے کر لاتعلقی کا اظہار کر دیا، جس پر طالبان اور بھارتی بیانیے کی مماثؒت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

August 5, 2026

پاکستان مخالف بیانیے کے پیچھے بیرونی فنڈنگ، جنیوا اجلاس سے متعلق مبینہ خطوط اور پراکسی نظام کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

August 5, 2026

بدخشاں میں طالبان مخالف گروہ نے یفتل ضلع کا عارضی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ بڑھتی مزاحمت کے پیش نظر طالبان نے نئے جنگجوؤں کی بھرتی کا فیصلہ کیا ہے۔

August 5, 2026

حوثی گروپ نے بحیرۂ احمر میں سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے جہاز رانی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

August 5, 2026

ایک صوبہ ایسا بھی ہے جہاں آٹھ آٹھ گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے، مگر جب وزیراعلیٰ کے ماتھے پر پسینہ آیا تو تین سرکاری ملازمین کی نوکری چلی گئی۔ خیبر پختونخوا کی حکمرانی کا وہ تضاد جو ریاستِ مدینہ کے دعوؤں کی قلعی کھول دیتا ہے۔

August 5, 2026

اسرائیل، بھارت اور بی ایل اے کا گٹھ جوڑ بے نقاب: اسرائیلی تاریخ دان نے فتنہ الہندوستان بی ایل اے کیلئے اسرائیلی فنڈنگ اور معاونت کا اعتراف کرلیا

ڈاکٹر ہائم بریشیتھ-زابنر کے الزامات اور میمری کے بلوچستان ڈیسک کا قیام اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ اب صرف داخلی سلامتی کا چیلنج نہیں رہا بلکہ ایک بین الاقوامی بیانیاتی محاذ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں سفارتی حکمتِ عملی، مؤثر ابلاغ اور زمینی حقائق کی درست ترجمانی پاکستان کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔
اسرائیل، بھارت اور بی ایل اے کا گٹھ جوڑ بے نقاب: اسرائیلی تاریخ دان نے فتنہ الہندوستان بی ایل اے کیلئے اسرائیلی فنڈنگ اور معاونت کا اعراتف کرلیا

ان کے مطابق پاکستان ایک مضبوط اور ایٹمی ریاست ہونے کے باعث اسرائیلی اسٹریٹجک مفادات کی راہ میں رکاوٹ ہے، جسے بالواسطہ دباؤ کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

February 2, 2026

اسرائیل اور بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مبینہ تعلقات ایک بار پھر زیرِ بحث آ گئے ہیں، جب معروف اسرائیلی مؤرخ اور فلم ساز ڈاکٹر ہائم بریشیتھ-زابنر نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اسرائیل خطے میں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے بلوچ عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

ڈاکٹر ہائم بریشیتھ-زابنر، جو خود صیہونی پالیسیوں کےماہر تجزیہ کار سمجھے جاتے ہیں، کا کہنا ہے کہ اسرائیل ماضی میں بھی مختلف خطوں میں ریاستوں کو کمزور کرنے کے لیے غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حمایت کرتا رہا ہے اور بلوچستان میں سرگرم گروہوں کی سرپرستی بھی اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ایک مضبوط اور ایٹمی ریاست ہونے کے باعث اسرائیلی اسٹریٹجک مفادات کی راہ میں رکاوٹ ہے، جسے بالواسطہ دباؤ کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

میمری کا کردار

اسی تناظر میں مشرق وسطیٰ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میمری کا کردار بھی توجہ کا مرکز بنا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں میں میمری کی جانب سے بلوچستان ڈیسک کے قیام کو ماہرین ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق میمری، جو ماضی میں اسرائیلی بیانیے کو عالمی سطح پر فروغ دینے کے لیے جانی جاتی ہے، اب بلوچستان کے معاملے کو بین الاقوامی میڈیا اور پالیسی حلقوں میں ایک مخصوص زاویے سے پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سکیورٹی اور خارجہ امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ میمری کی رپورٹس میں اکثر بی ایل اے جیسے مسلح گروہوں کو ’’علیحدگی پسند‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ ان کی دہشت گردانہ سرگرمیوں، خودکش حملوں، مزدوروں اور عام شہریوں کے قتل جیسے جرائم کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیانیہ عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے اور پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی ایک منظم کوشش ہے۔

سکیورٹی خدشات اور ریاستی مؤقف

پاکستانی سکیورٹی ذرائع پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ بی ایل اے کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے، جس میں بھارت کے ساتھ ساتھ دیگر علاقائی اور ماورائے خطہ عناصر بھی شامل ہیں۔ بھارتی پشت پناہی کے واضح ثبوتوں کے بعد بی ایل اے کو باقاعدہ فتنہ الہندوستان بھی ڈیکلیئر کیا جا چکا ہے۔ ڈاکٹر ہائم بریشیتھ-زابنر کے حالیہ بیان کو انہی خدشات کی ایک فکری توثیق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ریاست پاکستان اس معاملے کو سفارتی اور سکیورٹی دونوں سطحوں پر سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے، جبکہ عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی کوششیں جاری ہیں کہ بلوچستان میں دہشت گردی محض اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ بیرونی مداخلت کا نتیجہ ہے۔

بیانیے کی جنگ

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جدید دور میں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ بیانیے، میڈیا اور تھنک ٹینکس کے ذریعے بھی لڑی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق میمری جیسے اداروں کی سرگرمیاں اور اسرائیلی دانشوروں کے بیانات اس وسیع تر بیانیاتی جنگ کا حصہ ہیں، جس کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر دفاعی پوزیشن میں دھکیلنا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ حقائق، اعداد و شمار اور مستند شواہد کے ساتھ اس بیانیے کا مؤثر جواب دے، تاکہ بلوچستان میں جاری دہشت گردی کے اصل محرکات اور پشت پناہوں کو بے نقاب کیا جا سکے۔

ڈاکٹر ہائم بریشیتھ-زابنر کے الزامات اور میمری کے بلوچستان ڈیسک کا قیام اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ اب صرف داخلی سلامتی کا چیلنج نہیں رہا بلکہ ایک بین الاقوامی بیانیاتی محاذ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں سفارتی حکمتِ عملی، مؤثر ابلاغ اور زمینی حقائق کی درست ترجمانی پاکستان کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔

دیکھیے: افغان عہدیدار کے سوشل میڈیا بیانات میں بی ایل اے کی حمایت، پاکستان کے شدید تحفظات

متعلقہ مضامین

امریکہ، ایران اور عمان 60 روز کے لیے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت بحال کرنے کے عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

August 5, 2026

بھارت نے شیخ حسینہ کے ورچوئل خطاب کو نجی تقریب قرار دے کر لاتعلقی کا اظہار کر دیا، جس پر طالبان اور بھارتی بیانیے کی مماثؒت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

August 5, 2026

پاکستان مخالف بیانیے کے پیچھے بیرونی فنڈنگ، جنیوا اجلاس سے متعلق مبینہ خطوط اور پراکسی نظام کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

August 5, 2026

بدخشاں میں طالبان مخالف گروہ نے یفتل ضلع کا عارضی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ بڑھتی مزاحمت کے پیش نظر طالبان نے نئے جنگجوؤں کی بھرتی کا فیصلہ کیا ہے۔

August 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *