افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت جاری ہے۔ اسی سلسلے میں جمعہ کی شام کابل کے مشرقی علاقے پی ڈی 12 میں واقع ’پلِ شینا‘ کے مقام پر فوجی چوکی پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق طالبان کے دو فوجی ہلاک ہوئے جبکہ دو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیے گئے۔
مزاحمتی گروہ کا دعویٰ
افغانستان فرنٹ فار فریڈم مزاحمتی گروہ نے بیان جاری کرتے ہوئے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کاروائی طالبان کی فوجی طاقت کو کمزور کرنے اور شہریوں پر جاری ظلم کو روکنے کے لیے کی گئی ہے۔
طالبان کی خاموشی
طالبان حکام نے اس حملے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ تاہم مقامی ذرائع کے مطابق علاقے میں سکیورٹی کے اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں اور مشتبہ افراد کی تلاشی جاری ہے۔ سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذکورہ واقعہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ طالبان کے مکمل سیاسی کنٹرول کے باوجود ملک کے مختلف حصوں میں ان کے خلاف مسلح مزاحمت جاری ہے۔ یہ گروہ طالبان حکومت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسلح جدوجہد کو جائز حق سمجھتے ہیں۔
The Freedom Fighters of the Afghanistan Freedom Front carried out an attack at around 7:00 p.m. on Sunday, January 25, 2026, targeting a checkpoint of the Taliban terrorist group near Pul-e-Shina in PD12 Kabul city.
— Afghanistan Freedom Front (@FREEDOMFRONTAFG) January 25, 2026
In this targeted attack, two Taliban terrorists were killed and… pic.twitter.com/h7KWGIqpwH
ایک تجزیہ کار کے مطابق ایسی کارروائیاں طالبان کی سلامتی کے دعوؤں کو مستقل چیلنج کرتی رہتی ہیں اور ظاہر کرتی ہیں کہ ملک میں عدم استحکام کا عنصر موجود ہے۔
افغانستان فرنٹ فار فریڈم اس سے قبل بھی کابل اور دیگر صوبوں میں طالبان کے فوجی اہداف پر اسی قسم کی چھوٹی پیمانے کی کارروائیوں کے ذمہ دار رہا ہے۔ یہ گروہ طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کو منظم طور پر جاری رکھے ہوئے ہے۔
دیکھیں: طالبان دور میں غذائی بحران بے قابو، ایک کروڑ 70 لاکھ افراد غذائی قلت کا شکار