مشرق وسطیٰ میں حالیہ گیارہ روزہ جنگ کے بعد حماس کے مرکزی رہنماء نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امن کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ جنگ کا خاتمہ ان کی ذاتی مداخلت کے بغیر ممکن نہ تھا۔
حماس کے مرکزی رہنماء کے مطابق صدر ٹرمپ کی ذاتی مداخلت کے بغیر جنگ کا خاتمہ ممکن نہ ہوتا۔ ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے مداخلت کی اور قتل و غارت کو ختم کرنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالا۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ بیان محض شکریے کا اظہار نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سفارتی چال ہے۔ اس کے ممکنہ مقاصد میں صدر ٹرمپ کو بین الاقوامی سطح پر منفرد امن داعی کے طور پر پیش کرنا، اسرائیلی حکومت کے داخلی سیاسی مؤقف کو کمزور کرنا اور مستقبل کے مذاکرات میں حماس کی حیثیت کو مضبوط بنانا شامل ہیں۔
امریکی ردعمل
امریکی ردعمل: وائٹ ہاؤس کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں ہوا، تاہم حماس کے بیان سے صدر ٹرمپ کی جنگ بندی کی قابلیت کی تصدیق ہوتی ہے۔ عہدے دار نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ہمیشہ کہا ہے کہ وہ ایسے رہنماء ہیں جو تنازعات کو ختم کر سکتے ہیں، شروع نہیں کرتے، اور حماس کے اس کھلے شکریے نے اس مؤقف کو مضبوط کیا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ امریکی انتظامیہ اس وقت صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ آئندہ کسی بھی ممکنہ ثالثی یا پرامن مذاکرات میں صدر کی پوزیشن اور امریکہ کے بین الاقوامی کردار کی شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔
دیکھیں: ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘: اسرائیل اور آذربائیجان شامل، سویڈن نے حصہ بننے سے انکارکر دیا