واشنگٹن میں پاک امریکہ انسدادِ دہشت گردی مذاکرات میں تعاون بڑھانے اور مشترکہ حکمتِ عملی پر اتفاق کیا گیا ہے۔

August 5, 2026

قائد اعظم یونیورسٹی کی ایم فل طالبہ کو بی ایل اے کے ہاتھوں اغوا کر لیا گیا ہے۔ دہشت گرد تنظیم تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے انہیں ریاست کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔

August 5, 2026

مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 کے غیر قانونی بھارتی اقدامات کے چھ برس مکمل ہونے پر طویل بندش، ڈومیسائل قوانین، جانی نقصانات اور متاثرہ سیاسی رہنماؤں کی روداد۔

August 5, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کا آخری موقع دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جلد کھولی جا رہی ہے اور تہران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے دیے جائیں گے۔

August 5, 2026

افغانستان میں طالبان کی انتقامی کارروائیاں تیز، گزشتہ تین ماہ کے دوران 184 سے زائد سابق افغان فوجیوں کو قتل کر دیا گیا۔

August 4, 2026

مہنگائی میں کمی کے دعوے اور زمینی حقیقت

محض بیانات اور گراف عوام کو مطمئن نہیں کر سکتے۔ عوام ریلیف کو اعداد و شمار میں نہیں بلکہ بازار کی قیمتوں، بجلی کے بل اور کچن کے اخراجات میں محسوس کرتے ہیں۔ جب تک حکومتی دعوے عوامی تجربے سے ہم آہنگ نہیں ہوں گے، تب تک مہنگائی میں کمی کے دعوے محض کاغذی کامیابیاں ہی سمجھے جاتے رہیں گے۔
مہنگائی میں کمی کے دعوے اور زمینی حقیقت

آج بھی عام شہری کے لیے آٹا، چاول، دالیں، گھی، بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتیں کسی بڑے بوجھ سے کم نہیں۔ اگر مہنگائی واقعی کم ہو چکی ہے تو سوال یہ ہے کہ عوام کی جیب پر دباؤ کیوں برقرار ہے؟

January 28, 2026

حکومت کی جانب سے بارہا یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح میں واضح کمی آ چکی ہے اور معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق افراطِ زر کی شرح میں کمی کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم جب ان دعوؤں کو عوام کی روزمرہ زندگی کے آئینے میں پرکھا جائے تو تصویر خاصی مختلف نظر آتی ہے۔


آج بھی عام شہری کے لیے آٹا، چاول، دالیں، گھی، بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتیں کسی بڑے بوجھ سے کم نہیں۔ اگر مہنگائی واقعی کم ہو چکی ہے تو سوال یہ ہے کہ عوام کی جیب پر دباؤ کیوں برقرار ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کے سرکاری اشاریے اور عوامی احساسِ مہنگائی کے درمیان ایک گہرا خلا موجود ہے۔


ماہرینِ معیشت کے مطابق افراطِ زر کی شرح میں کمی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اشیائے ضروریہ سستی ہو گئی ہیں، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی رفتار سست ہوئی ہے۔ یعنی جو چیزیں پہلے مہنگی ہو چکی ہیں، وہ اسی قیمت پر برقرار ہیں۔ بدقسمتی سے حکومت اس نکتے کو واضح کرنے کے بجائے کمی کے اعداد و شمار کو عوامی ریلیف کے طور پر پیش کر رہی ہے، جو زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔


دوسری جانب، تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ بجلی، گیس اور ٹیکسوں میں مسلسل اضافے نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر دیہاڑی دار مزدور، پنشنرز اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے، جن کے لیے دو وقت کی روٹی بھی ایک چیلنج بنتی جا رہی ہے۔


یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ مہنگائی کے بوجھ کی منصفانہ تقسیم نہیں کی جا رہی۔ طاقتور طبقے، بڑے تاجروں اور مخصوص حلقوں کو ریلیف حاصل ہے، جبکہ قربانی ہمیشہ عام شہری سے ہی مانگی جاتی ہے۔ اگر مہنگائی میں کمی واقعی حکومت کی ترجیح ہے تو سب سے پہلے ذخیرہ اندوزی، منافع خوری اور ٹیکس چوری کے خلاف عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔


محض بیانات اور گراف عوام کو مطمئن نہیں کر سکتے۔ عوام ریلیف کو اعداد و شمار میں نہیں بلکہ بازار کی قیمتوں، بجلی کے بل اور کچن کے اخراجات میں محسوس کرتے ہیں۔ جب تک حکومتی دعوے عوامی تجربے سے ہم آہنگ نہیں ہوں گے، تب تک مہنگائی میں کمی کے دعوے محض کاغذی کامیابیاں ہی سمجھے جاتے رہیں گے۔


حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشی استحکام کا اصل پیمانہ عوام کی زندگی میں آسانی ہے، نہ کہ صرف رپورٹوں میں بہتری۔ اگر واقعی مہنگائی میں کمی آئی ہے تو اس کا اثر بھی عام آدمی تک پہنچنا چاہیے، ورنہ یہ دعوے عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کے فقدان کو مزید گہرا کرتے رہیں گے۔

دیکھیے: تنی ہوئی رسی پر دوڑتی پاکستان کی سفارتی مشینری

متعلقہ مضامین

واشنگٹن میں پاک امریکہ انسدادِ دہشت گردی مذاکرات میں تعاون بڑھانے اور مشترکہ حکمتِ عملی پر اتفاق کیا گیا ہے۔

August 5, 2026

قائد اعظم یونیورسٹی کی ایم فل طالبہ کو بی ایل اے کے ہاتھوں اغوا کر لیا گیا ہے۔ دہشت گرد تنظیم تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے انہیں ریاست کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔

August 5, 2026

مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 کے غیر قانونی بھارتی اقدامات کے چھ برس مکمل ہونے پر طویل بندش، ڈومیسائل قوانین، جانی نقصانات اور متاثرہ سیاسی رہنماؤں کی روداد۔

August 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *