افغانستان کی حالیہ تاریخ میں قوانین اور ضابطوں کے نام پر بہت کچھ نافذ کیا گیا، مگر جنوری 2026 میں منظرِ عام پر آنے والا طالبان کا نیا فوجداری ضابطہ محض ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ ایک ایسے فکری اور اخلاقی بحران کی علامت ہے جو پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ یہ ضابطہ، جس پر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے دستخط ثبت ہیں، عدل و انصاف کے نام پر ایسی تقسیم اور ایسی قدغنوں کو قانونی حیثیت دیتا ہے جو نہ صرف جدید انسانی حقوق بلکہ خود اسلامی تعلیمات سے بھی متصادم دکھائی دیتی ہیں۔
یہ کہانی صرف قانون کی زبان میں لکھی ہوئی چند شقوں کی نہیں، بلکہ انسان کی عزت، آزادیِ ضمیر اور معاشرتی برابری کے سوال کی ہے۔ اس دستاویز میں صرف حنفی مسلک کے ماننے والوں کو مسلمان قرار دے کر دیگر مسالک اور عقائد کو بدعتی اور گمراہ کہنا ایک ایسا قدم ہے جو افغانستان جیسے کثیرالمسلک معاشرے میں مستقل تقسیم اور خوف کو جنم دے سکتا ہے۔ جعفری شیعہ، اسماعیلی، اہلِ حدیث، حتیٰ کہ غیر مسلم اقلیتیں، اس تعریف کے بعد نہ صرف قانونی تحفظ سے محروم ہوتی دکھائی دیتی ہیں بلکہ ان پر جبر اور تشدد کے دروازے بھی کھلتے نظر آتے ہیں۔
اس ضابطے کی ایک اور سنگین جہت معاشرے کو علما، اشرافیہ، متوسط اور نچلے طبقے میں تقسیم کرنا ہے، جہاں ایک ہی جرم پر مختلف سماجی طبقات کے لیے مختلف سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ علما کے لیے محض نصیحت، اشرافیہ کے لیے طلبی، متوسط طبقے کے لیے قید اور نچلے طبقے کے لیے قید کے ساتھ جسمانی سزا۔ یہ تصور انصاف کے اس بنیادی اصول کو مجروح کرتا ہے جس کے مطابق قانون کی نظر میں سب برابر ہوتے ہیں۔ یہ تقسیم نہ صرف جدید ریاستی قانون سے متصادم ہے بلکہ اس اسلامی تصورِ عدل کے بھی خلاف ہے جس کی بنیاد تقویٰ اور اخلاقی ذمہ داری پر رکھی گئی تھی، نہ کہ نسب یا سماجی مرتبے پر۔
سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو غلامی کی اصطلاح کو قانونی حیثیت دینا ہے۔ آزاد اور غلام کے لیے الگ قانونی حیثیت، اور بعض سزاؤں کے نفاذ کا اختیار شوہر یا مالک کو دینا، اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کس طرح جاہلیت کے تصورات کو نئے ناموں کے ساتھ زندہ کیا جا رہا ہے۔ اسلام کی آمد نے جس معاشرتی نظام کو ختم کیا تھا، جہاں انسان انسان کا مالک بنتا تھا، اس کی بازگشت اس دستاویز میں واضح طور پر سنائی دیتی ہے۔
خواتین اور بچوں کے حوالے سے شقیں بھی اسی تسلسل کا حصہ ہیں۔ جسمانی تشدد کی ممانعت کو اس حد تک محدود کر دینا کہ صرف ہڈی ٹوٹنے یا شدید زخم کی صورت میں جرم تسلیم ہو، باقی تمام جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی تشدد کو بالواسطہ طور پر جائز قرار دیتا ہے۔ شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے والدین کے گھر بار بار جانے کو جرم بنانا، اور مدد کرنے والے رشتہ داروں کو بھی سزا کا مستحق ٹھہرانا، عورت کو ایک خودمختار انسان کے بجائے ایک زیرِ ملکیت وجود کے طور پر پیش کرتا ہے۔
اظہارِ رائے اور تنقید پر پابندیاں اس قانون کا ایک اور خطرناک پہلو ہیں۔ اسلامی احکامات یا طالبان فیصلوں پر تنقید کو جرم قرار دینا، اور مبہم اصطلاحات جیسے تمسخر یا فساد کے ذریعے سزاؤں کا راستہ کھول دینا، ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کرتا ہے جہاں خاموشی ہی بقا کی علامت بن جائے۔ اختلاف کو بغاوت اور بغاوت کو موت سے جوڑ دینا، انصاف نہیں بلکہ خوف پر مبنی نظم ہے۔
انہی وجوہات کی بنا پر مختلف علماء کی جانب سے اس قانون پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان کا سوال سادہ مگر گہرا ہے: کیا رسول اکرم ﷺ کا وہ خطبہ، جس میں رنگ، نسل، زبان اور قومیت کی ہر برتری کو رد کر دیا گیا تھا، اب فراموش کر دیا گیا ہے؟ اگر تقویٰ ہی معیار ہے تو پھر آزاد اور غلام، اشرافیہ اور نچلے طبقے کی یہ تقسیم کس شریعت کا عکس ہے؟
یہ ضابطہ دراصل افغانستان کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیا قانون انسان کو عزت دینے کے لیے ہوتا ہے یا اسے مطیع بنانے کے لیے؟ کیا شریعت کا مقصد عدل، رحم اور مساوات ہے یا خوف، تفریق اور جبر؟ ایک اسلامی حکومت ہونے کا دعویٰ تبھی معتبر ہو سکتا ہے جب اس کے قوانین نہ صرف طاقت بلکہ اخلاقی جواز بھی رکھتے ہوں۔ بصورتِ دیگر، تاریخ گواہ ہے کہ ایسے قوانین ریاست کو مضبوط نہیں بلکہ معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
دیکھیں: طالبان دور میں غذائی بحران بے قابو، ایک کروڑ 70 لاکھ افراد غذائی قلت کا شکار