ان کا کہنا ہے کہ اسلامی فقہ کے تحت جہاد دفاعی نوعیت کا ہوتا ہے اور اس کے لیے ریاستی اجازت لازمی ہوتی ہے، جبکہ سرحد پار حملوں کی حمایت اس اصول کے خلاف ہے۔

March 18, 2026

افغان طالبان دہشتگردوں کو اپنے پاس چھپا رہے ہیں، حتیٰ کہ سرکاری عمارتوں میں بھی انہیں پناہ دی جا رہی ہے

March 18, 2026

یہ اقدام مبینہ طور پر پاکستانی فضائی کارروائیوں کے بعد اختیار کیا گیا، جس میں اسلحہ کے ڈپو اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا تھا

March 18, 2026

حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو گزشتہ سال حراست میں لیا گیا تھا اور اس پر الزام تھا کہ وہ اہم سکیورٹی تنصیبات سے متعلق معلومات اسرائیلی ایجنسی تک پہنچاتا رہا

March 18, 2026

یہ فیصلہ امن اور مذہبی ہم آہنگی کے جذبے کے تحت کیا گیا ہے، تاہم قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

March 18, 2026

حمداللہ فطرت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان اور فہرست جاری کرتے ہوئے کہا کہ بحالی مرکز کے 492 افراد زندہ ہیں اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

March 18, 2026

چینی فوجی جنرل کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات کا آغاز

چین نے سینئر فوجی قیادت کے خلاف بدعنوانی کے الزامات پر تحقیقات شروع کر دی ہیں، جن میں سینٹرل ملٹری کمیشن کے نائب چیئرمین جنرل ژانگ یو شیا بھی شامل ہیں
چین نے سینئر فوجی قیادت کے خلاف بدعنوانی کے الزامات پر تحقیقات شروع کر دی ہیں، جن میں سینٹرل ملٹری کمیشن کے نائب چیئرمین جنرل ژانگ یو شیا بھی شامل ہیں

چین میں بدعنوانی کے خلاف مہم کے دوران اعلیٰ فوجی جنرل ژانگ یو شیا اور لیو ژین لی کے خلاف تحقیقات شروع، پارٹی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام

January 26, 2026

چین نے اپنی فوج کے بااثر عہدیدار کے خلاف بدعنوانی کے الزامات پر باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ چینی حکام کے مطابق سینٹرل ملٹری کمیشن کے سینئر نائب چیئرمین جنرل ژانگ یو شیا اور ایک دوسرے اعلیٰ فوجی افسر لیو ژین لی قانون اور پارٹی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزیوں کے شبہ میں زیرِ تفتیش ہیں۔

چینی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ان افسران پر عائد الزامات کو “سنگین نظم و ضبط کی خلاف ورزی” قرار دیا گیا ہے، جو چین میں عموماً بدعنوانی سے متعلق معاملات کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح سمجھی جاتی ہے۔ جنرل ژانگ یو شیا نہ صرف چینی فوج کے اعلیٰ ترین جنرلز میں شمار ہوتے ہیں بلکہ طاقتور کمیونسٹ پارٹی کے پولیٹ بیورو کے رکن بھی ہیں، جبکہ لیو ژین لی فوجی منصوبہ بندی کے ایک اہم شعبے کی سربراہی کر رہے ہیں۔

یہ تحقیقات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین بھر میں بدعنوانی کے خلاف سخت اور وسیع مہم جاری ہے۔ چینی حکام کے مطابق دونوں افسران حالیہ دنوں میں ایک اہم سرکاری اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے، جس کے بعد ان کے خلاف تحقیقات سے متعلق قیاس آرائیاں زور پکڑنے لگیں۔

صدر شی جن پنگ بدعنوانی کو کمیونسٹ پارٹی اور ریاست کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دے چکے ہیں اور اس کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کے عزم کا اظہار کر رکھا ہے۔ تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف اس مہم کو بعض اوقات سیاسی مخالفین کو کمزور کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران چین میں متعدد اعلیٰ فوجی عہدیدار بدعنوانی کے الزامات پر برطرف یا پارٹی رکنیت سے محروم کیے جا چکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج کے اندر احتسابی عمل مزید سخت اور ہمہ گیر ہو رہا ہے۔

دیکھیں: ٹرمپ مسٔلہ کشمیر کو بورڈ آف پیس میں شامل سکتے ہیں، بھارت میں خدشات

متعلقہ مضامین

ان کا کہنا ہے کہ اسلامی فقہ کے تحت جہاد دفاعی نوعیت کا ہوتا ہے اور اس کے لیے ریاستی اجازت لازمی ہوتی ہے، جبکہ سرحد پار حملوں کی حمایت اس اصول کے خلاف ہے۔

March 18, 2026

افغان طالبان دہشتگردوں کو اپنے پاس چھپا رہے ہیں، حتیٰ کہ سرکاری عمارتوں میں بھی انہیں پناہ دی جا رہی ہے

March 18, 2026

یہ اقدام مبینہ طور پر پاکستانی فضائی کارروائیوں کے بعد اختیار کیا گیا، جس میں اسلحہ کے ڈپو اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا تھا

March 18, 2026

حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو گزشتہ سال حراست میں لیا گیا تھا اور اس پر الزام تھا کہ وہ اہم سکیورٹی تنصیبات سے متعلق معلومات اسرائیلی ایجنسی تک پہنچاتا رہا

March 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *