دنیا کی سیاست اس وقت ایک عجیب دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف یوکرین، غزہ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگیں عالمی نظام کو ہلا رہی ہیں، دوسری طرف بڑی طاقتیں امن کے نعرے کے ساتھ اپنے مفادات کے نئے راستے تلاش کر رہی ہیں۔ ایسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں پاکستان کی شمولیت نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ دنیا کی سفارت کاری میں بعض فیصلے وقتی نہیں ہوتے، وہ ایک ملک کے مستقبل کے خدوخال متعین کرتے ہیں۔ پاکستان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت بھی ایسا ہی ایک فیصلہ ہے جسے محض ہاں یا ناں کے سادہ خانوں میں بند نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فیصلہ نہ تو کسی جذباتی جوش کا نتیجہ ہے اور نہ ہی کسی عالمی دباؤ کے تحت کی گئی پسپائی، بلکہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت، خود اعتمادی اور ایک نئی عالمی پہچان کا اظہار ہے۔سوال یہ نہیں کہ یہ فورم کتنا مؤثر ہوگا، اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اس میں شامل ہو کر کیا کھو سکتا ہے اور کیا حاصل کر سکتا ہے؟
پاکستان کی خارجہ پالیسی کو اگر گزشتہ چند برسوں میں دیکھا جائے تو ایک واضح تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ پاکستان اب صرف دفاعی یا ردِعمل کی سفارت کاری تک محدود نہیں رہا بلکہ خطے اور عالم اسلام میں ایک متوازن، ذمہ دار اور مصالحت کار ریاست کے طور پر خود کو پیش کر رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر اور پھر عمان میں آٹھ مسلم ممالک سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، اردن اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ اعلان نے واضح کر دیا کہ یہ قدم تنہائی میں نہیں اٹھایا گیا۔ یہ ایک سوچا سمجھا، مشاورت پر مبنی اور اجتماعی فیصلہ ہے، جس کا مرکزی ہدف غزہ میں جنگ بندی کا استحکام، تعمیرِ نو اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کے لیے سیاسی عمل کو آگے بڑھانا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ابتدا ہی سے واضح رہا ہےکہ فلسطین کا مسئلہ محض انسانی ہمدردی کا نہیں، بلکہ بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور انصاف کے بنیادی اصولوں سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اسی لیے اسلام آباد نے اس فورم میں شمولیت کو کسی عسکری مہم جوئی کے بجائے ایک سیاسی و سفارتی موقع کے طور پر دیکھا ہے۔ پاکستان اس وقت عالمِ اسلام میں ایک ایسی مؤثر آواز بن کر ابھرا ہے جس کی بات واشنگٹن سے لے کر بیجنگ تک سنی جا رہی ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی یہ وضاحت کہ پاکستانی افواج کسی بھی ایسی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گی جس کا مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا ہو، اسٹریٹجک گہرائی کی عکاس ہے۔ یہ محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک لکیر ہے جو پاکستان نے اپنی اصولی پالیسی اور عسکری احتیاط کے گرد کھینچی ہے۔
اس ’بورڈ آف پیس‘ میں پاکستان کی شمولیت محض اتفاقیہ نہیں ہے۔ مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے بعد، اسلام آباد نے خود کو ایک ذمہ دار ’مڈل پاور‘ کے طور پر منوایا ہے. ایک ایسا ملک جو نہ صرف اپنی سلامتی کا دفاع جانتا ہے بلکہ خطے میں “نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر” بننے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ واشنگٹن میں بھی اسٹریٹجک توازن بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ بھارت کی اہمیت میں حالیہ برسوں میں آنے والی کمی اور پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ، معدنی وسائل اور علاقائی سفارت کاری میں دوبارہ ابھرتی ہوئی حیثیت نے اسے ایک بار پھر ناگزیر شراکت دار بنا دیا ہے۔
پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی قوت اس وقت اس کی توازن پر مبنی خارجہ پالیسی ہے، جو اسے عالمِ اسلام اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایک “پل” کے طور پر قائم کرتی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ اس کے گہرے اسٹریٹجک تعلقات ہیں. ترکیہ، جو مسلم دنیا کی ایک بڑی طاقت ہے، پاکستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔ چین، جو خاموش مگر گہری سفارت کاری کا قائل ہے، یہ حقیقت سمجھتا ہے کہ پاکستان کے لیے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کا استحکام خطے کے مفاد میں ہے، بشرطیکہ اس سے بیجنگ کے مفادات متاثر نہ ہوں۔ یہی وہ توازن ہے جس کی وجہ سے پاکستان آج سعودی عرب، ترکیہ، چین، ایران اور امریکا کے درمیان ایک ایسی کڑی بن گیا ہے جسے نظرانداز کرنا کسی بھی فریق کے لیے ممکن نہیں۔
پاکستان کا یہ کردار خاص طور پر ایران کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ اسلام آباد کبھی نہیں چاہے گا کہ اس فورم کا رخ کسی مرحلے پر تہران کی طرف موڑا جائے۔ گذشتہ دنوں ایرانی سفیر کے ساتھ ایک ملاقات میں انہوں نے پاکستان کے کردار غیر معمولی انداز میں تعریف کی تھی . اسی تناظر میں پاکستان کی یہ کوشش ہوگی کہ وہ اس بورڈ کے اندر رہتے ہوئے کسی بھی ایسی مہم جوئی کا راستہ روکے جو خطے میں فرقہ وارانہ یا نئی جغرافیائی کشیدگی کا باعث بنے۔ پاکستان کی موجودگی اس بات کی ضمانت ہے کہ مسلم ممالک کے مفادات کا تحفظ کسی بھی عالمی ایجنڈے پر مقدم رہے گا۔
تاہم، جہاں مواقع ہیں وہاں خطرات بھی موجود ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج اسرائیل کا طرزِ عمل ہے۔ اگر اسرائیل جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری رکھتا ہے اور فلسطینی ریاست کے تصور کو سبوتاژ کرتا ہے، تو اس بورڈ میں پاکستان کی موجودگی پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ اسی طرح، یہ پورا عمل صدر ٹرمپ کی غیر روایتی شخصیت سے جڑا ہوا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اپنی خارجہ پالیسی کو اقوامِ متحدہ کے کثیرالجہتی نظام سے جوڑے رکھا ہے، بالخصوص کشمیر جیسے دیرینہ مسئلے پر۔ اگر یہ نیا بورڈ اقوامِ متحدہ کو کمزور کرتا ہے تو ہمیں پھر اپنی ترجیحات کا دفاع کرنا ہوگا۔
ان تمام خدشات کے باوجود، پاکستان کا اس فورم کا حصہ بننا وقت کی ضرورت تھی۔ اگر پاکستان باہر رہتا تو وہ فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی طاقت کھو دیتا۔ آج پاکستان میز پر موجود ہے، جہاں وہ نہ صرف فلسطین کے لیے آواز اٹھا سکتا ہے بلکہ اپنے قومی مفادات کا تحفظ بھی کر سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی آزمائش ہے جس میں پاکستان کی سفارتی بصیرت اور سیاسی بلوغت کا امتحان ہوگا۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ پاکستان اس وقت عالمِ اسلام میں ایک “مصلح” اور “توازن کار” کی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ وہ صرف بیانات دینے والا ملک نہیں رہا بلکہ مختلف عالمی طاقتوں کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت ایک نپا تلا خطرہ ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت کو قومی مفاد اور مظلوم فلسطینیوں کی داد رسی کے لیے استعمال کرنا ہے۔
اگر اسلام آباد اپنی روایتی اصولی پالیسی، شفاف مینڈیٹ اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس فورم میں اپنی بات منوانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ قدم پاکستان کے سفارتی عروج کی نئی داستان لکھے گا۔ اب گیند پاکستان کی سفارتی مشینری کے ورق میں ہے کہ وہ اس تنی ہوئی رسی پر چلتے ہوئے کس مہارت سے اپنی منزل حاصل کرتی ہے۔
دیکھیں: ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘: اسرائیل اور آذربائیجان شامل، سویڈن نے حصہ بننے سے انکارکر دیا