طالبان کے نورستان کے گورنر کا پاکستان اور امریکہ پر الزام کوئی نیا واقعہ نہیں بلکہ اس پرانے حربے کا تسلسل ہے جس کے تحت طالبان حکومت اندرونی ناکامیوں اور بڑھتی مزاحمت کا ملبہ ہمیشہ پاکستان پر ڈالتی آئی ہے۔

August 11, 2026

شامی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو ان کی غیر موجودگی میں جان بوجھ کر قتل کے الزامات میں سزائے موت سنا دی ہے۔

August 11, 2026

یمن کے قریب آبنائے باب المندب میں ایک تجارتی جہاز پر مبینہ حوثی حملے کے نتیجے میں عملے کے تین ارکان جاں بحق ہو گئے، جن میں دو پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری شامل ہیں۔

August 11, 2026

راولپنڈی کے مال روڈ پر سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر فائرنگ کرنے والا حملہ آور جوابی کارروائی میں ہلاک ہو گیا، جس کی شناخت پی ٹی آئی کارکن محمد حسین کے طور پر ہوئی ہے۔

August 11, 2026

امریکہ میں پی ٹی ایم کی تقریب کے تناظر میں شائع تجزیے میں آمو سے اباسین کے نعرے کو خطے کی تاریخی و جغرافیائی حقیقتوں سے منافی اور غیر پشتون آبادیوں کی شناخت کو نظرانداز کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔

August 11, 2026

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا معاملہ ستمبر 2026 تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ پاکستان نے نئی مستقل نشستوں کی مخالفت کرتے ہوئے منتخب غیر مستقل نشستوں میں اضافے کی حمایت کی ہے۔

August 11, 2026

پاکستان میں شفافیت اور احتساب: پہلا مقامی انڈیکس جاری، 67 فیصد عوام بدعنوانی سے محفوظ رہی

پاکستان نے پہلا مقامی شفافیت و احتساب انڈیکس جاری کردیا، جس کے مطابق 68٪ شہری رشوت عام سمجھتے ہیں مگر صرف 27٪ نے تجربہ کیا اور 67٪ نے بدعنوانی کا سامنا نہیں کیا، جس سے تصور اور حقیقت میں واضح فرق ظاہر ہوا
پاکستان نے پہلا مقامی شفافیت و احتساب انڈیکس (iTAP) جاری کردیا، جس کے مطابق 68٪ شہری رشوت عام سمجھتے ہیں مگر صرف 27٪ نے تجربہ کیا اور 67٪ نے بدعنوانی کا سامنا نہیں کیا، جس سے تصور اور حقیقت میں واضح فرق ظاہر ہوا

پاکستان کا شفافیت اور احتساب انڈیکس بین الاقوامی انڈیکس سے مختلف ہے، کیونکہ یہ صرف تصور پر نہیں بلکہ عوامی تجربات کو شامل کر کے حکمرانی کی جامع اور مقامی تصویر پیش کرتا ہے

February 3, 2026

پاکستان نے اپنا پہلا بڑے پیمانے پر مقامی طور پر تیار شدہ حکمرانی انڈیکس “پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا انڈیکس” جاری کیا ہے، جس کا مقصد شہریوں کے حقیقی تجربات کی بنیاد پر شفافیت اور احتساب کی سطح کو ناپنا ہے۔ یہ انڈیکس اس عالمی رائے کو چیلنج کرتا ہے جو ملک میں بدعنوانی کو یکساں اور وسیع سمجھتی ہے۔

پاکستان میں شفافیت اور احتساب کے انڈیکس کو وفاقی پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے کمیشن سے تیار کیا گیا اور بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے ایپسوس نے اس کی تکمیل کی۔ سروے میں پاکستان بھر کے 6,015 شہریوں سے روبرو انٹرویوز کیے گئے، جس میں پاکستان بیورو آف شماریات نے ڈیٹا کی درستگی اور نمائندگی کے لیے تعاون فراہم کیا۔ پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا انڈیکس بین الاقوامی انڈیکس سے قدرے مختلف ہے، کیونکہ یہ فقط تصور پر مبنی جائزے نہیں کرتا بلکہ عوامی تصور اور حقیقی تجربات کو ملا کر پاکستان میں حکمرانی کی سب سے جامع اور مقامی تصویر پیش کرتا ہے۔

رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بدعنوانی کے حوالے سے عوامی تصور اور شہریوں کے حقیقی تجربات میں واضح تضاد موجود ہے۔ اگرچہ 68 فیصد شہریوں کا گمان ہے کہ رشوت عام ہے مگر صرف 27 فیصد نے ذاتی طور پر اس کا تجربہ کیا۔ اسی طرح 56 فیصد افراد سفارش یا قرابت داری کو عام سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقی تجربہ صرف 24 فیصد شہریوں کا رہا۔ 59 فیصد لوگ ناجائز مالیت میں اضافہ عام سمجھتے ہیں، مگر صرف 5 فیصد لوگوں نے اسے اپنے روزمرہ کے تجربات میں دیکھا۔ مجموعی طور پر 67 فیصد پاکستانیوں نے کبھی کسی بدعنوانی کا تجربہ نہیں کیا اور 73 فیصد نے کبھی سرکاری خدمات حاصل کرنے کے لیے رشوت نہیں دی، جبکہ 95 فیصد نے کسی سرکاری اہلکار کو ناجائز مالیت میں اضافہ کرتے نہیں دیکھا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ روزمرہ کے معاملات ، لین دین میں بدعنوانی عام نہیں بلکہ عوام اور اداروں کے مابین بداعتمادی اور منفی سوچ کارفرما ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دہائی میں پاکستان میں حکمرانی میں متعدد اصلاحات کی گئی ہیں، بالخصوص سرکاری خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن اور انسانی مداخلت میں کمی۔ اہم اصلاحات میں شناختی دستاویزات، رجسٹریشن اور سرٹیفیکیشن کی ڈیجیٹل خدمات، تعلیم، صحت، یوٹیلٹیز اور ریکارڈ کے آن لائن پورٹلز شامل ہیں، جس سے رشوت اور دیگر بدعنوانی کے مواقع میں واضح کمی آئی ہے۔ ان اصلاحات کے اثرات شہریوں کے تجربات میں نظر آنے لگے ہیں، تاہم عوامی تصور ابھی سست رفتاری سے بدل رہا ہے۔

iTAP رپورٹ میں اداروں کی کارکردگی بھی نمایاں کی گئی ہے۔ تصور کے مطابق بہترین ادارے ٹریفک پولیس، سرکاری ہسپتال، وفاقی محصولاتی بیورو اور تعلیمی ادارے ہیں، جبکہ حقیقی تجربے کے مطابق سرکاری ہسپتال، نادرا، تعلیمی ادارے اور ٹریفک پولیس سب سے بہتر قرار پائے۔ شہری اطمینان کے لحاظ سے نادرا سب سے بہتر ادارہ رہا، اس کے بعد تعلیمی ادارے اور سرکاری ہسپتال آئے۔ سب سے زیادہ شہری تعامل سرکاری ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور نادرا کے ساتھ ہوا، جبکہ پولیس سب سے زیادہ ذہن میں رہنے والا ادارہ ہے۔ وفاقی محصولاتی بیورو اور کسٹمز کے ساتھ محدود تعامل کی وجہ سے اکثر رائے حقیقی تجربات پر مبنی نہیں بنتی۔

بدعنوانی کے خلاف نظام میں آگاہی اور شمولیت دونوں کمزور پائی گئیں۔ محض 8 فیصد شہریوں نے کبھی کسی اینٹی کرپشن ادارے سے براہ راست رابطہ کیا۔ اداروں میں سے قومی احتساب بیورو سب سے زیادہ معروف ہے، جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارہ اور امبڈسمین دفاتر کا نمبر آتا ہے۔ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) کو معلومات رکھنے والے شہریوں میں شفافیت کے معاملے پر سب سے موثر ادارہ قرار دیا گیا۔ قانونی آگاہی کا تناسب بھی کم رہا، جہاں صرف 11 فیصد شہری حقِ معلومات کے قوانین سے واقف تھے، جبکہ 12 سے 34 فیصد رپورٹنگ کے مختلف ذرائع سے آگاہ تھے۔ شکایات کنندگان کے تحفظ کے قوانین سے محض 15 فیصد افراد ہی آشنا تھے۔

رپورٹ میں جغرافیائی اور سماجی فرق بھی واضح ہوا۔ نوجوانوں کے حقیقی تجربات اور تصور بہتر رہے، خواتین کا تصور مردوں سے بہتر رہا، اور شہری علاقوں کے لوگ دیہی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ مثبت رائے رکھتے ہیں۔

ایف پی سی سی کے اہلکاروں نے کہا کہ بین الاقوامی بدعنوانی کے انڈیکس زیادہ تر بیرونی تاثر پر مبنی ہیں اور یہ دکھاتے ہیں کہ پاکستان کو بیرونی طور پر کیسے دیکھا جاتا ہے، نہ کہ شہریوں کو حقیقت میں کس طرح خدمات دی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا انڈیکس شہریوں کے حقیقی تجربات کے مطابق شفافیت اور احتساب کے حقیقی حالات دکھاتا ہے اور اسے باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیا جائے گا تاکہ پاکستان وقت کے ساتھ ترقی کا جائزہ لے سکے، اداروں کی کمزوریوں کی نشاندہی کی جا سکے اور اصلاحات کو ڈیٹا کی بنیاد پر ڈیزائن کیا جا سکے۔

نتیجہ: پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا انڈیکس رپورٹ سے واضح ہوا ہے کہ پاکستان میں شہری تعاملات میں اکثر بدعنوانی موجود نہیں اور اصلاحات حقیقی طور پر اثر ڈال رہی ہیں۔ یہ رپورٹ عالمی تصور اور رائے پر مبنی رپورٹس کے منفی تاثر کو درست کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے اور شفاف حکمرانی کی سمت ایک اہم قدم ہے۔


دیکھیے:
آپریشن ہیروف ناکام: پاکستانی فورسز کی فتح اور درپیش چیلنجز

متعلقہ مضامین

طالبان کے نورستان کے گورنر کا پاکستان اور امریکہ پر الزام کوئی نیا واقعہ نہیں بلکہ اس پرانے حربے کا تسلسل ہے جس کے تحت طالبان حکومت اندرونی ناکامیوں اور بڑھتی مزاحمت کا ملبہ ہمیشہ پاکستان پر ڈالتی آئی ہے۔

August 11, 2026

شامی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو ان کی غیر موجودگی میں جان بوجھ کر قتل کے الزامات میں سزائے موت سنا دی ہے۔

August 11, 2026

یمن کے قریب آبنائے باب المندب میں ایک تجارتی جہاز پر مبینہ حوثی حملے کے نتیجے میں عملے کے تین ارکان جاں بحق ہو گئے، جن میں دو پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری شامل ہیں۔

August 11, 2026

راولپنڈی کے مال روڈ پر سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر فائرنگ کرنے والا حملہ آور جوابی کارروائی میں ہلاک ہو گیا، جس کی شناخت پی ٹی آئی کارکن محمد حسین کے طور پر ہوئی ہے۔

August 11, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *