بین الاقوامی جریدہ بلوم برگ کے مطابق اسرائیل اور سعودی عرب کے مابین ممکنہ سفارتی تعلقات کی بحالی ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے حالیہ عرصے میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عمل سے عارضی طور پر کنارہ کشی اختیار کی ہے، جس پر اسرائیلی حلقوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی طاقتی صف بندی، دفاعی تعاون کے نئے رجحانات اور علاقائی سفارتی تبدیلیوں نے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی ترجیحات کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ سابق اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکاروں اور دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سعودی عرب کے حالیہ اقدامات اسرائیل کے لیے غیر سازگار سمجھے جا رہے ہیں، جس سے خطے کے طاقتی توازن میں ممکنہ تبدیلی کے اندیشے بڑھ گئے ہیں۔
بلوم برگ کے مطابق اسرائیلی حکام سعودی عرب کی پالیسی میں تبدیلی کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں، اور ان کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کے امکانات مزید کمزور ہو گئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سعودی عرب اپنے اسٹریٹجک مفادات کو نئے عالمی اور علاقائی حالات کے مطابق ترتیب دے رہا ہے، جس کے اسرائیل کے ساتھ ممکنہ سفارتی روابط پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دیکھیے: پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ میں بھارت اور اسرائیل کا کردار