افغانستان میں طالبان سے وابستہ ایک عالم نے اپنے بیان کے ذریعے خطے میں سفارتی اور سلامتی کے نئے تناؤ کو جنم دیا ہے۔ مولوی شیر علی حماد نے منگل کو کابل کے ضلع گُلدارہ میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسند ایوب ذاکر کی نماز جنازہ کے موقع پر پاکستان کے خلاف اعلانِ جنگ کرتے ہوئے نہ صرف پاکستان بلکہ کرغیزستان، تاجکستان اور ازبکستان کی حکومت کو بھی غیر اسلامی قرار دیا۔ افغان رہنماء کا بیان ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی کشیدگی پہلے ہی اپنے عروج پر ہے اور دونوں ممالک کے مابین متعدد مذاکرات کے باوجود سفارتی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔
بلوچستان میں گرفتاری اور ہلاکت کے دعوے
اپنی تقریر کے دوران مولوی شیر علی حماد نے صوبہ بلوچستان میں حالیہ بلوچ خواتین کی گرفتاریوں کا بھی حوالہ دیتے ہوئے اسے پاکستانی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے اس معاملے کو اپنے بیانات کے جواز کے طور پر پیش کیا۔ مزید برآں انہوں نے ایک اہم اور متنازع دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والا عسکریت پسند ایوب ذاکر پاکستان میں لڑائی کے لیے جانے سے قبل افغان طالبان حکومت کا باقاعدہ اہلکار رہ چکا تھا۔ یہ دعویٰ خاص طور پر حساس ہے، کیونکہ افغان حکومت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی۔ اس بیان سے یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا افغان حکومت کے کچھ اہلکار سرکاری حیثیت میں رہتے ہوئے ہمسایہ ممالک میں عسکری سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں، یا پھر یہ ذاتی نوعیت کا اقدام تھا۔
طالبان سوچ کی عکاسی
سیاسی ماہرین کے مطابق مولوی شیر علی حماد کے یہ بیانات افغانستان کے اندر موجود انتہائی محافظ اور جہادی سوچ رکھنے والے گروہوں کی فکری عکاسی کرتے ہیں۔ یہ گروہ نہ صرف طالبان حکومت میں اپنا وجود رکھتے ہیں بلکہ ملک کی مذہبی و سیاسی فضاء پر بھی اثر انداز ہیں۔ ان بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان میں کچھ حلقے اب بھی خطے میں اپنے اثر و رسوخ کے لیے عسکریت پسندی اور جہادی رجحان کو موثر سمجھتے ہیں، چاہے اس سے علاقائی تعلقات اور معاشی تعاون کتنا ہی متاثر کیوں نہ ہوں۔ یہ سوچ اس حقیقت کے برعکس ہے کہ افغان عوام و حکام کی اکثریت دہائیوں کی جنگ کے بعد امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کی خواہش مند ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیانات طالبان حکومت کے اندر موجود “پرامن بقائے باہمی کے حامی” اور “سخت گیر جہادی دھڑے” کے درمیان پائے جانے والے فکری اختلاف کو بھی نمایاں کرتے ہیں، جس سے حکومتی مؤقف اور مؤثر پالیسی سازی میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
علاقائی سلامتی پر اثرات
اس واقعے کے خطے اور بین الاقوامی سطح پر متعدد سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ بیانات پاکستان اور افغانستان کے مابین حال ہی میں بہتر ہو رہے تعلقات کو یکسر خراب کر سکتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں اور باہمی الزام تراشیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسرا وسطی ایشیائی ممالک کرغیزستان، تاجکستان اور ازبکستان جن کا تذکرہ اس تقریر میں کیا گیا، ان کے ساتھ افغانستان کے تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ یہ ممالک پہلے ہی افغانستان سے آنے والی ممکنہ سلامتی کے خطرات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ تیسرا اس قسم کے بیانات سے خطے میں اقتصادی تعاون کے تمام تر منصوبے خطرے میں پڑ سکتے ہیں، بشمول تاپی اور علاقائی تجارتی راہداریاں، جو افغانستان کی معیشت کے لیے بحالی کا اہم ذریعہ ہیں۔
کابل کے گُلدرا ضلع میں کالعدم ٹی ٹی پی سے وابستہ ہلاک ہونے والے شدت پسند ذاکر کی نمازِ جنازہ کے موقع پر افغان حکومت سے منسلک مولوی شیر علی حماد نے پاکستان کے خلاف کھلے عام اعلانِ جنگ کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے پاکستان سمیت کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے موجودہ حکومتی نظاموں… pic.twitter.com/lYA847use6
— HTN Urdu (@htnurdu) January 28, 2026
افغان پالیسی اور داخلی چیلنجز
افغان طالبان حکومت نے اب تک اس معاملے پر باقاعدہ سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے لیکن وزارت داخلہ کے ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایچ ٹی این کو بتایا کہ حکومت تمام مذہبی اجتماعات کی نگرانی کرتی ہے، البتہ ہر فرد کے ذاتی بیانات حکومت کی سرکاری پالیسی نہیں ہوتے۔ یہ بات واضح کرتی ہے کہ حکومت کے پاس اس طرح کے بیانات پر فوری کارروائی کا کوئی واضح طریقہ کار نہیں ہے، یا پھر وہ انتہائی محافظ دھڑوں سے نمٹنے میں احتیاط برت رہی ہے۔ افغان حکومت کے ترجمان ملا ذبیح اللہ مجاہد نے بارہا مرتبہ کہا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا، لیکن اس واقعے سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا حکومت عملی طور پر اس وعدے پر پورا اترنے کے قابل ہے۔
پاکستان اور دیگر ممالک کا ردعمل
اطلاعات کے مطابق پاکستانی حکومت نے اس معاملے پر افغان حکومت سے غیر رسمی طور پر رابطہ کیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ افغان حکومت خطے میں امن کے مشترکہ مفاد میں ایسے بیانات پر مناسب کارروائی کرے گی۔ پاکستانی سلامتی ادارے صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، خاص طور پر سرحدی علاقوں میں۔ وسطی ایشیائی ممالک نے اب تک خاموشی اختیار کی ہے، لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان کے سلامتی ادارے حالت کی قریب سے نگرانی کر رہے ہیں۔ روس نے دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ بین الاقوامی برادری خطے میں مزید تناؤ نہیں چاہتی۔
افغانستان کے مستقبل کے امکانات
کابل اور دیگر شہروں میں عام شہریوں نے اس واقعے پر مختلف ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کئی نوجوانوں نے امن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ نے ملک کو تباہ کر دیا ہے اور اب تعمیر نو کی ضرورت ہے۔ مذہبی حلقوں میں بعض نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں اسلامی اصولوں کی پابندی کی بات کی، جبکہ تجارتی طبقے نے خطائی تجارت اور معاشی تعاون کو ترجیح دی۔ یہ واضح کرتا ہے کہ افغان عوام کی اکثریت انتہائی بیانات کی بجائے عملی تعاون اور ترقی کو ترجیح دیتی ہے۔
سفارتی راستہ اور حل
سیاسی مبصرین کے مطابق اس بحران کا واحد حل افغان حکومت کا واضح، یکساں اور عملی مؤقف ہے۔ حکومت کو نہ صرف ایسے بیانات کی مذمت کرنی چاہیے بلکہ ان عناصر کے خلاف عملی اقدامات بھی اٹھانے چاہئیں جو علاقائی امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ساتھ ہی، پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ براہ راست، دیانت دارانہ اور مستحکم سفارتی رابطوں کو بحال کرنا ہوگا۔ افغانستان کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ خطے میں تعمیری کردار ادا کرے، نہ کہ تناؤ کا سبب بنے۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ افغانستان کی معاشی بحالی میں مدد کرے، تاکہ انتہا پسندی کے پیدا ہونے والے اقتصادی اور سماجی خلا کو پر کیا جا سکے۔
دیکھیے: پاکستان کے سرحدی علاقوں میں انتشار پھیلانے کے لئے افغان طالبان کا کمیشن متحرک ہو گیا