سوشل میڈیا پر حال ہی میں دو گمراہ کُن دعوے گردش میں آئے، جن کا مقصد نہ صرف افواجِ پاکستان کے خلاف منفی بیانیہ تشکیل دینا تھا، بلکہ عوامی اذہان کو بھی متاثر کرنا تھا۔ ان میں سے ایک دعویٰ غزہ میں ایک پاکستانی فوجی کی ہلاکت سے متعلق تھا، جبکہ دوسرا دعویٰ پاک۔ افغان سرحد پر جھڑپ میں فوجی ہلاکت سے منسوب کیا گیا۔
غزہ سے متعلق جعلی خبر
پہلے دعوے میں یہ کہا گیا کہ غزہ میں پہلی مرتبہ ایک پاکستانی فوجی حسین چوہدری بارودی سرنگ کے دھماکے میں ہلاک ہوا، ساتھ ہی یہ بھی جھوٹا الزام عائد کیا گیا کہ پاکستانی فوج اسرائیلی افواج کے ساتھ مل کر کاروائیوں میں شریک ہے اور پاکستان نے امریکہ و اسرائیل کے ساتھ غزہ میں فوج بھیجنے کا معاہدہ کیا ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یہ تمام دعوے سراسر بے بنیاد ہیں۔ نہ تو حکومتِ پاکستان یا افواجِ پاکستان کی جانب سے غزہ میں کسی فوجی تعیناتی کا کوئی اعلان کیا گیا ہے، اور نہ ہی کسی پاکستانی فوجی کی وہاں ہلاکت کی کوئی مستند اطلاع موجود ہے۔ کسی قومی یا بین الاقوامی معتبر خبررساں ادارے نے بھی ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔

افغان سرحد سے منسوب خبر
دوسرے دعوے میں جو مشتبہ افغان پروپیگنڈا اکاؤنٹس سے منسوب ہے، یہ بے بنیاد بیان نشر کیا گیا کہ “افغان فورسز کے ساتھ سرحدی جھڑپ میں ایک پاکستانی فوجی مارا گیا”۔ تفتیش کے مطابق یہ دعویٰ بھی مکمل طور پر من گھڑت و بے بنیاد ہے۔
اس دعوے کے ساتھ استعمال کی جانے والی تصویر دراصل 26 جنوری 2024 کو ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقہ کُلاچی میں، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران شہید ہونے والے پاکستانی فوجی شوکت حسین کی ہے۔ اس حقیقی قومی المیے کی تصویر کو جان بوجھ کر غلط سیاق و سباق میں پیش کر کے افغان سرحد سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، جو ایک صریح جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا تھا۔
پروپیگنڈے کا تسلسل
دیکھا جائے تو اس نوعیت کا یہ پہلا موقع نہیں جب مشتبہ افغان پروپیگنڈا اکاؤنٹس نے اس نوعیت کا رویہ اختیار کیا ہو۔ ان اکاؤنٹس کی جانب سے پرانے واقعات، غیر متعلقہ تصاویر اور جھوٹے بیانیوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا ایک تسلسل رہا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے کسی بھی سرکاری چینل، معتبر میڈیا ادارے یا بین الاقوامی خبررساں ایجنسی نے ایسے کسی سرحدی واقعے کی تصدیق نہیں کی۔ سیکیورٹی ذرائع نے ان تمام خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ ایک منظم جھوٹے پروپیگنڈے کا حصہ ہے، جس کا مقصد عوامی رائے کو گمراہ کرنا اور کشیدگی پیدا کرنا ہے۔