خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال مسلسل بگڑتی جا رہی ہے، جبکہ قبائلی ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں ممکنہ سیکیورٹی آپریشن سے متعلق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے متضاد بیانات نے نہ صرف عوام میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے بلکہ صوبائی حکومت کی صلاحیت اور سنجیدگی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ابتدائی طور پر متعلقہ سیکیورٹی اجلاس میں وادی تیراہ میں آپریشن کی اجازت دی، جس کے بعد علاقے میں فورسز کی نقل و حرکت میں اضافہ ہوا اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی گئیں۔
اس پیش رفت کے بعد مقامی آبادی نے ایک بار پھر ممکنہ عسکری کارروائی کے خدشے کے تحت بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع کر دی، جس سے انسانی بحران جنم لے گیا۔حیران کن طور پر چند ہی روز بعد وزیراعلیٰ کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے کسی قسم کے آپریشن کی اجازت دی ہے۔ اس یوٹرن نے عوام، ضلعی انتظامیہ اور حتیٰ کہ حکومتی حلقوں میں بھی شدید کنفیوژن پیدا کر دی، جبکہ متاثرہ آبادی خود کو بے یارو مددگار محسوس کرنے لگی۔
انتظامی بدحواسی اور ناقص حکمت عملی
مقامی صحافیوں کے مطابق صوبائی حکومت نہ تو سیکیورٹی معاملات پر واضح پالیسی رکھتی ہے اور نہ ہی عوام کو اعتماد میں لینے کی صلاحیت دکھا سکی ہے۔ ایک جانب آپریشن کی اجازت دی جاتی ہے اور دوسری جانب اس سے انکار، یہ طرزِ عمل صوبائی قیادت کی غیر سنجیدگی اور فیصلہ سازی میں کمزوری کا واضح ثبوت ہے۔ ضلعی سطح پر انتظامیہ کو واضح احکامات نہ ملنے کے باعث ریلیف سرگرمیاں تاخیر کا شکار رہیں۔ نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو شدید سردی، خوراک کی کمی، طبی سہولیات کی عدم دستیابی اور عارضی رہائش کے ناقص انتظامات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ صوبائی حکومت کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔
عوامی غصہ اور ردعمل
متاثرہ علاقوں کے عوام نے صوبائی حکومت کے رویے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے حساس معاملات پر متضاد بیانات براہ راست عوام کی جان و مال کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر آپریشن کی اجازت نہیں دی گئی تھی تو پھر فورسز کی نقل و حرکت اور انتظامی احکامات کیوں جاری ہوئے، اور اگر اجازت دی گئی تھی تو بعد میں انکار کس دباؤ کے تحت کیا گیامقامی عمائدین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت واضح مؤقف اختیار کرے اور عوام کو سچ بتایا جائے، کیونکہ اب محض وضاحتیں نہیں بلکہ عملی اقدامات درکار ہیں۔
سیاسی تنقید اور وزیراعلیٰ کی نااہلی پر سوالات اٹھنے لگے
اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا اس وقت بدترین انتظامی بحران سے گزر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ نہ تو امن و امان کو سنبھالنے میں کامیاب ہو سکے ہیں اور نہ ہی اپنی کابینہ اور انتظامیہ کو ایک واضح سمت دے پا رہے ہیں۔ تیراہ آپریشن پر تضادات نے وزیراعلیٰ کی قیادت کو کمزور ثابت کر دیا ہے، اور یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ صوبائی حکومت حالات کے دباؤ میں فیصلے بدل رہی ہے، جس کا خمیازہ عام شہری بھگت رہے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں بڑھتی بدامنی، تیراہ میں انسانی بحران، اور وزیراعلیٰ کے متضاد بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صوبائی حکومت نہ صرف سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے بلکہ انتظامی سطح پر بھی بدحواسی کا شکار ہے۔ عوام اب بیانات نہیں بلکہ واضح پالیسی، شفاف فیصلے اور ذمہ دار قیادت چاہتے ہیں، تاکہ صوبے کو مزید بدامنی اور عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔
دیکھیں: حکومت نے وادیٔ تیراہ میں فوجی حکم سے منسوب انخلاء کی خبروں کی تردید کر دی