جنیوا: اقوام متحدہ کے اقتصادی کمیشن برائے یورپ کے ذیلی ادارے ’واٹر کنونشن‘ نے دنیا بھر میں مشترکہ دریاؤں کے انتظام اور تحفظ کے لیے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی متعدد اقدامات متعارف کرا دیے ہیں۔ اس پیش رفت کا بنیادی مقصد آبی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اقوام متحدہ کو اب بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ دو طرفہ اور کثیر الجہتی آبی معاہدوں پر سختی سے عمل درآمد کے لیے ایک موثر قانونی فریم ورک تشکیل دینا چاہیے۔ یہ اقدامات اقوام متحدہ کے بنیادی مقصد، یعنی ممالک کے درمیان امن اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر، پانی کے وسائل کا تحفظ ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے۔ اس نازک صورتحال میں، بھارت جیسے بالائی علاقوں کے ملک کی جانب سے پانی کی فراہمی کو محدود کرنا اور اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ایک غیر قانونی اور خطرناک روایت کو جنم دے سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور نظام اس طرح کے یکطرفہ اقدامات کا متحمل نہیں ہو سکتا، خاص طور پر جب پوری دنیا موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات سے نمٹنے کی تیاری کر رہی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اقوام متحدہ نے آبی معاہدوں کے نفاذ کے لیے ٹھوس قانونی ڈھانچہ فراہم نہ کیا تو یہ علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ نچلے درجے کے ممالک کے حقوق کے تحفظ اور آبی تنازعات کو روکنے کے لیے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
دیکھئیے:میرپور کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ کو مکمل عالمی معیار کا ہارٹ ہسپتال بنایا جائے گا؛ وزیر اعظم آزاد کشمیر