کوئٹہ: پاکستان نے بلوچستان کے راستے وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ اس حوالے سے کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ ایک سیمینار میں پالیسی سازوں اور برآمد کنندگان نے صوبے کو علاقائی تجارتی مرکز کے طور پر اجاگر کیا۔
ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ اس تقریب میں تاجروں، برآمد کنندگان، کاروباری شخصیات اور سرکاری حکام نے خطے میں برآمدی مواقع اور لاجسٹک چیلنجز کا جائزہ لیا۔ حکام نے بلوچستان کی برآمدی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے ماہی گیری، لائیو سٹاک، حلال گوشت، پھل، معدنیات اور فارماسیوٹیکل کے شعبوں کو نمایاں کیا اور گوادر پورٹ کو علاقائی تجارت کے لیے کلیدی گیٹ وے قرار دیا۔
سیمینار کے دوران شرکاء کو افغانستان، ایران اور چین کے تجارتی راہداریوں اور موجودہ تجارتی معاہدوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ ٹی ڈی اے پی کے نمائندوں نے کہا کہ وہ برآمد کنندگان کو مارکیٹ انٹیلی جنس، لاجسٹکس، تجارتی فروغ اور سرٹیفیکیشن کے عمل میں مکمل سہولت فراہم کر رہے ہیں۔
سوال و جواب کے سیشن کے دوران کاروباری طبقے نے ویزا میں تاخیر، ذبح خانوں کی کمی، لائسنسنگ کی رکاوٹوں، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور کسٹم سے متعلقہ مشکلات کی نشاندہی کی۔ حکام نے ان خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے یقین دلایا کہ یہ آراء متعلقہ حکام تک پہنچائی جائیں گی۔
تقریب میں نوجوان کاروباری افراد کی شرکت نے علاقائی تجارتی مواقع میں نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کیا۔ بلوچستان حکومت کے نمائندوں نے برآمدات پر مبنی ترقی کے لیے اپنے تعاون کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ کوئٹہ چیمبر کے عہدیداروں نے سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان قریبی رابطے اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔
دیکھئیے:تجارت کا نیا کوریڈور: پاکستان کا تاجکستان اور ازبکستان کو ٹرانزٹ معاہدے میں شامل کرنے کے لیے اہم قدم