افغانستان کے صوبہ وردک کے ضلع دایمیرداد کے پولیس سربراہ نے پاکستان میں لڑنے جانے کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی شخص کو پاکستان جا کر جنگ لڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ امیر کی اجازت کے بغیر جنگ کے لیے جانا شرعاً حرام ہے، ایسی صورت میں لڑنے والے کی موت بھی حرام تصور ہو گی اور اس کا جہاد ناجائز ہو گا۔
پولیس سربراہ کے مطابق اگر کوئی شخص پاکستان جا کر لڑائی میں مارا جاتا ہے تو اس کی موت کو حرام موت سمجھا جائے گا، اور اگر اس کی لاش افغانستان لائی گئی تو نہ اس کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تعزیتی تقریب منعقد کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
Breaking News: The police chief of Daimirdad in Afghanistan’s Wardak province says: “No one is permitted to go and fight in Pakistan. Going to fight without the Amir’s permission is haram (Forbidden); their death is a haram death and their jihad is illegitimate. If this person… pic.twitter.com/oNLr715nPG
— Mahaz (@MahazOfficial1) January 29, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں لڑنے کی اجازت اس لیے بھی نہیں دی جا سکتی کیونکہ افغانستان کے ان ممالک کے ساتھ معاہدے موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب امریکہ کے ساتھ معاہدہ کیا گیا تھا تو اس میں واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ افغانستان کی سرزمین نہ تو ان کے اتحادیوں کے خلاف استعمال ہو گی اور نہ ہی دنیا کے کسی اور ملک کے خلاف۔
پولیس سربراہ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خواہ وہ مدارس میں ہوں یا سرکاری ملازمتوں میں، سب کے لیے عمومی حکم یہی ہے کہ اگر کوئی نوجوان جنگ کے لیے جاتا پایا گیا تو اسے اس کی ملازمت سے برطرف کر دیا جائے گا، جیل میں ڈالا جائے گا اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ جو بھی شخص لڑنے کے لیے جائے گا، اس کی موت حرام تصور کی جائے گی اور اس کے لیے یہاں مقررہ سزا دی جائے گی۔ ایسے افراد کے لیے نہ جنازہ پڑھا جائے گا اور نہ ہی کسی قسم کی تعزیت کی اجازت ہو گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں عسکری سرگرمیوں اور سرحد پار نقل و حرکت کے حوالے سے حساس صورتحال پائی جاتی ہے، اور طالبان حکام کی جانب سے پہلی بار اس نوعیت کا واضح اور سخت انتباہ سامنے آیا ہے۔