اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار کے صدر چوہدری نعیم گجر کی جانب سے 31 جنوری 2026 کو بلائے گئے اجلاس کو قانونی حلقوں میں شدید تنقید کا سامنا ہے۔ سینئر وکلا اور ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس کسی قانونی اصلاح یا علمی مباحثے کے لیے نہیں بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن (IHCBA) کے 14 فروری 2026 کو ہونے والے انتخابات کے لیے ایک سیاسی اسٹیج کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی اہل وکیل کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ایمان مزاری کی متنازع ٹوئٹس واضح طور پر قابلِ اطلاق قوانین کی سنگین خلاف ورزی تھیں، جن پر عدالتی فیصلہ قانون کے عین مطابق آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں نہ کوئی قانونی ابہام موجود ہے اور نہ ہی کسی دوسری رائے کی گنجائش، اس کے باوجود اس فیصلے کو سیاسی رنگ دے کر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سزا اور ٹرائل کے معاملے کو دانستہ طور پر جذباتی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ عدلیہ مخالف بیانیہ تشکیل دے کر ووٹرز کو متحرک کیا جا سکے۔ ان کے مطابق آزادیٔ اظہار کے نام پر ریاست اور عدلیہ کے خلاف زہر آلود بیانات پھیلانا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ قانون کی روح کے بھی منافی ہے۔
وکلا برادری کے سینئر اراکین نے واضح کیا ہے کہ عدالت قانون کی حرمت کی علامت ہوتی ہے، کوئی سیاسی میدان نہیں جہاں جذباتی نعروں اور اشتعال انگیزی کے ذریعے ووٹ سمیٹے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمان مزاری اور ہادی جیسے بیانیے کو بانسری بجانے والے کی طرح دہرا کر عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش، ایک سنجیدہ قانونی عہدے کے شایانِ شان نہیں۔
تنقید کرنے والوں کا سوال ہے کہ کیا بعض سیاسی وکلا جان بوجھ کر ٹرائلز کو 15 سے 20 سال تک لٹکانے کی روایت کو فروغ دینا چاہتے ہیں تاکہ فیصلوں سے بچا جا سکے؟ ماہرین کے مطابق انصاف ایسے ماحول میں ممکن نہیں جہاں عدالتی فیصلوں کو چیلنج کرنے کے بجائے عدلیہ کی توہین کو معمول بنا دیا جائے، اور مجرموں یا سزا یافتہ افراد کے لیے ناجائز سہولیات کا مطالبہ کیا جائے۔
قانونی حلقوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ 31 جنوری کا اجتماع ایک سیاسی شو سے زیادہ کچھ نہیں، جس کا مقصد ایک فوجداری سزا کو بنیاد بنا کر بار الیکشن کے لیے ووٹ بینک تیار کرنا ہے۔ ان کے مطابق وکلا برادری کو یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ حقیقی قانونی اصلاح اور ذاتی انتخابی مہم میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدارت ایک باوقار اور ذمہ دارانہ منصب ہے، جس کے لیے فکری دیانت، قانونی بصیرت اور اصولی مؤقف درکار ہوتا ہے۔ ان کے مطابق 31 جنوری کو عدالتی فیصلے کو انتخابی جلسے میں تبدیل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ توجہ قانون کی کتابوں پر نہیں بلکہ بیلٹ باکس پر مرکوز ہے۔
آخر میں قانونی ماہرین نے خبردار کیا کہ اس طرح کی سیاسی تھیٹر بازی نہ صرف بار کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ وکلا برادری کے وقار اور عدلیہ کے احترام کو بھی مجروح کرتی ہے، جس کا خمیازہ پورے نظامِ انصاف کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
دیکھیے: ٹرمپ کشمیری مسئلہ بورڈ آف پیس میں شامل کرسکتے ہیں، بھارت میں خدشات