29 جنوری 2026 کو تاجک سرحدی فورسز نے افغانستان سے غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے مسلح افغان اسمگلرز کے ایک گروہ کے ساتھ جھڑپ کی، جو اسلحہ اور منشیات لے کر تاجکستان میں داخل ہو رہے تھے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے گرفتاری کی کوشش پر خودکار ہتھیاروں سے مزاحمت کی، جس کے نتیجے میں تین اسمگلر ہلاک ہو گئے جبکہ دو واپس افغانستان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ کسی ایک جرم کا نتیجہ نہیں بلکہ طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان میں موجود ایک ایسے “اجازت یافتہ” سیکیورٹی ماحول کی عکاسی کرتا ہے جہاں مسلح گروہ، اسمگلرز اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس باآسانی سرحد پار کارروائیاں کر کے واپس پناہ لے سکتے ہیں۔ خودکار ہتھیاروں، گولہ بارود اور منظم نقل و حرکت کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ محض اسمگلنگ نہیں بلکہ عسکری نوعیت کی اسمگلنگ ہے، جو دہشت گردی اور منظم جرائم کے گٹھ جوڑ کی نمایاں علامت سمجھی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق افغانستان کے صوبہ تخار کو طویل عرصے سے منشیات، اسلحہ اور مسلح افراد کی ترسیل کے ایک اہم راستے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان یا تو ان نیٹ ورکس کو ختم کرنے میں ناکام ہیں یا دانستہ طور پر انہیں نظر انداز کر رہے ہیں، جس کے باعث یہ علاقے بدستور علاقائی عدم استحکام کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کی جانب سے ملک میں امن و امان کے دعوے اس وقت کھوکھلے ثابت ہو جاتے ہیں جب مسلح گروہ سرحد کے قریب آزادانہ طور پر منظم ہوتے ہیں، کارروائیاں کرتے ہیں اور پھر بغیر کسی رکاوٹ کے افغان سرزمین میں واپس چلے جاتے ہیں۔ منشیات کی اسمگلنگ کو دہشت گردی سے الگ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہی معیشت شدت پسند گروہوں کی مالی معاونت کرتی ہے، مسلح نیٹ ورکس کو زندہ رکھتی ہے اور خطے میں تشدد کو فروغ دیتی ہے۔
واقعے میں کشتیوں، اسلحے اور مربوط مزاحمت کی موجودگی اس امر کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ ان کارروائیوں کے پیچھے منظم لاجسٹک سپورٹ سسٹمز موجود ہیں، جو طالبان کے اقتدار میں کھلے عام سرگرم ہیں۔ ماہرین کے مطابق طالبان کی حکمرانی میں توجہ زیادہ تر نظریاتی نگرانی اور سماجی پابندیوں پر مرکوز ہے، جبکہ سرحدی علاقوں میں مجرمانہ اور دہشت گردانہ ماحولیاتی نظام بلا روک ٹوک پھیل رہا ہے۔
علاقائی سلامتی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی اس روش نے ہمسایہ ممالک کو مستقل دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایسے واقعات اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ افغانستان ایک مستحکم ہمسایہ بننے کے بجائے عدم تحفظ برآمد کرنے والا ملک بن چکا ہے، جہاں سے اسلحہ، منشیات اور مسلح عناصر خطے کے دیگر ممالک میں پھیل رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بار بار پیش آنے والے ایسے واقعات عالمی سطح پر اس تشخیص کو تقویت دیتے ہیں کہ طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان دہشت گردی اور سرحد پار منظم جرائم کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ جب تک طالبان ان جنگی معیشتوں کو واقعی ختم نہیں کرتے، بلکہ محض انہیں نئے ناموں کے ساتھ تحفظ دیتے رہیں گے، تب تک وسطی اور جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی جڑیں افغان سرزمین سے جڑی رہیں گی۔
دیکھیے: افغانستان میں غیر پشتون علاقوں میں آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش، جائیدادوں کی خریدو فروخت اور کرایہ داری انٹیلی جنس کی منظوری سے مشروط